تفہیم المسائل
سوال: مسجد انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ مسجد سے متصل ایک جگہ پر میت کے غسل کا اہتمام کیا جائے، جس کے لیے درج ذیل امور ضروری ہے:
(۱) باقاعدہ جگہ مخصوص کرنا(۲)اس جگہ کی تعمیر اس انداز سے کی جائے کہ وہاں میت کو غسل دینا آسان ہو (۳) پانی وبجلی کا انتظام (۴) ان کاموں کے لیے مطلوبہ تعداد میں تنخواہ پر ملازم رکھے جائیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ان سب کاموں کے لیے مسجد کی جگہ اور فنڈ استعمال کیاجاسکتا ہے؟ (انتظامیہ المصطفیٰ جامع مسجد، بلاک14،فیڈرل بی ایریا ، کراچی)
جواب: مسجد کے مصارف اور تعمیر کے لیے جورقم /عطیات جمع کیے جاتے ہیں، اُن کو رفاہی کاموں میں صرف نہیں کیا جاسکتا، عطیہ دہندہ کی اجازت سے وہ رقم مسجد کے مفاد ہی میں دوسرے مقصد پر صرف کردی تو یہ جائز ہے، علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ وقف کرنے والوں کے مقصد(ومصرف) کی رعایت کرنا واجب ہے،(حاشیہ ابن عابدین شامی، جلد 4،ص:445)‘‘۔
فلاحی اور رفاہی کاموں کے لیے جو ادارے قائم کیے جاتے ہیں، وہ ایک الگ وقف کی حیثیت رکھتے ہیں، مسجد کے عطیات فلاحی ورفاہی مقاصد ومصارف پر خرچ نہیں کیے جاسکتے۔ اگر وقف یا جہتِ وقف دونوں مختلف ہوں تو ایک کی آمدنی کو دوسرے کے مصارف پر خرچ نہیں کرسکتے، تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ اور اگر دو افراد کی جہتِ وقف مختلف ہے، مثلاً: دو شخصوں نے علیحدہ علیحدہ دو مسجدیں بنائیں یا ایک نے مسجد اور دوسرے نے مدرسہ بنایا اور ہر ایک نے ان کے لیے علیحدہ وقف مقرر کیے، تو پھر ایک کی آمدن سے دوسرے کے مصارف کے لیے خرچ کرنا جائز نہیں،( حاشیہ ابن عابدین شامی ،جلد : 13،ص:441-442، دمشق)‘‘۔
علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:’’ عموماً یہ چندے صدقۂ نافلہ ہوتے ہیں، انہیں وقف نہیں کیا جاسکتا کہ وقف کے لیے یہ ضروری ہے کہ اصل حبس کرکے اس کے منافع اس کام میں صرف کیے جائیں، جس کے لیے وقف ہو، نہ یہ کہ خود اصل ہی کو خرچ کردیاجائے، یہ چندے جس خاص غرض کے لیے کیے گئے ہیں، اس کے غیر میں صرف نہیں کیے جاسکتے۔
اگر وہ غرض پوری ہوچکی ہوتو جس نے دیئے ہیں اسے واپس کیے جائیں یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کریں، بغیر اجازت خرچ کرنا ناجائز ہے، (فتاویٰ امجدیہ، جلد سوم،ص:39)‘‘۔
اگر آپ کی مسجد میں دکانیں یا الگ جگہ موجود ہے، ان میں بجلی ، پانی کا نظام علیحدہ موجود ہے، تو باقاعدہ کرایہ اور یوٹیلیٹی بلز کے ساتھ آپ ایک الگ نظام قائم کرسکتے ہیں، کام کرنے والے عملے کی تنخواہ اور دیگرتمام مصارف کے لیے باقاعدہ الگ فنڈ قائم کریں، مسجد کے وسائل اور عطیات ان کاموں کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے، مسجد کی جگہ بھی کرائے کے بغیر اس مقصد کے لیے استعمال نہ کریں۔
البتہ ایک صورت یہ ہے کہ آپ پورا منصوبہ اپنے اہل محلہ، نمازیوں یا عطیہ دہندگان پر پیش کریں کہ اس میں مسجد اور تعلیم القرآن کے علاوہ یہ مزید خدمات بھی شامل ہوں گی، آپ تعاون کریں، تو اس پر عطیہ دہندگان کی آمادگی ان کی اجازت کی دلیل ہوگی۔ لیکن اگر کوئی عطیہ دہندہ یہ کہے کہ میری رقم صرف مسجد اوراس کے براہ راست متعلقات پر خرچ کی جائے، تو اس کی ہدایت کی پابندی لازمی ہوگی۔ (واللہ اعلم بالصواب)