غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے میں ملزم ارمغان کو کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کردیا گیا۔
آج کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے میں ملزم ارمغان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت میں ملزم ارمغان کے خلاف غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے میں سائبر کرائم کی جانب سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم کے خلاف غیر قانونی کال سینٹر چلانے اور ڈیجیٹل کرنسی کی منتقلی کا الزام ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ملزم ابھی کہاں ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم دوسرے مقدمے میں جیل میں ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کونسی جیل میں ہے؟ ملزم ارمغان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔
بعدازاں عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔
بعدازاں ملزم کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا جس پر عدالت نے کہا کہ یہ لوگ آپ کی کسٹڈی لینا چاہتے ہیں۔
ملزم نے عدالت میں بیان دیا کہ میری جان کو خطرہ ہے، پہلے بھی مجھ پر تشدد ہوچکا۔
عدالت نے سوال کیا کہ ملزم کی گرفتاری کب ظاہر کی تھی، اگر اب انہوں نے تشدد کیا تو ان پر مقدمہ کیا جائے گا۔
تفتیشی افسر نے عدالت میں بیان دیا کہ 24 اپریل کو ملزم کی گرفتاری ظاہر کی تھی، ملزم کے گھر سے ملنے والے برقی آلات کو ڈی کوڈ کرنا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کس بنیاد پر ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں، مقدمہ 16 اپریل کو ہوا تو اس وقت ریمانڈ کیوں نہیں لیا۔
بعدازاں عدالت نے ملزم ارمغان کو 5 روز کے جسمانی ریمانڈ پر سائبر کرائم ونگ کی تحویل میں دے دیا۔
علاوہ ازیں قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل منتظر مہدی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم ساحر حسن کی درخواست ضمانت منظور ہوئی ہے، عدالت نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ منشیات کیسز کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔
منتظر مہدی نے کہا کہ قانون سازی کے بعد خصوصی عدالتیں بننی ہیں، قانون سازی ابھی ہوئی ہے، تھوڑا وقت لگے گا۔