فیڈرل ریزرو گورنر لیزا کُک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ کُک کا مؤقف ہے کہ صدر کو انہیں عہدے سے برطرف کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
چند روز قبل صدر ٹرمپ نے ایک خط میں لیزا کُک کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ کُک نے 2021ء میں رہائشی قرضوں کے معاملات میں مبینہ فراڈ کیا تھا، لہٰذا وہ اپنے عہدے پر فائز رہنے کی اہل نہیں رہیں۔
کُک نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کی برطرفی کی کوشش غیرقانونی ہے۔
ان کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ فیڈرل ریزرو ایک آزاد ادارہ ہے اور امریکی قانون کے مطابق اس کے کسی گورنر کو صرف سنگین بدعنوانی یا فرائض کی سنگین خلاف ورزی پر ہی ہٹایا جا سکتا ہے، تاریخ میں آج تک کسی صدر نے براہِ راست کسی گورنر کو برطرف نہیں کیا۔
لیزا کُک کو 2022ء میں سابق صدر جو بائیڈن نے اس عہدے پر تعینات کیا تھا اور وہ ادارے کی تاریخ میں پہلی سیاہ فام خاتون ہیں جو گورننگ بورڈ کا حصہ بنی ہیں۔