• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری کمپنیوں کے قانون کا بدترین غلط استعمال، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

انصار عباسی

اسلام آباد :…عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈکٹیشن پر بنائے گئے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ایز) ایکٹ 2023ء کا بدترین غلط استعمال ہو رہا ہے اور سرکاری کمپنیوں کے سربراہان اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافہ کرتے رہے ہیں جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ حالانکہ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد خسارے کا شکار سرکاری کمپنیوں میں اصلاحات لانا تھا۔ باخبر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’دی نیوز‘‘ میں اس حوالے سے شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ کے بعد مزید معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ دی نیوز نے اپنی خبر میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ایک عام سرکاری کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نے اس قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کس طرح کروڑوں روپے کی دولت جمع کی۔ ’’دی نیوز‘‘ کی اس رپورٹ کے بعد حکومت کو بھی تشویش لاحق ہوگئی ہے، اور کئی اداروں میں اس قانون کے وسیع پیمانے پر غلط استعمال کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، افسوسناک امر یہ ہے کہ جن اداروں کی نگرانی کیلئے یہ ایکٹ بنایا گیا تھا، ان کے سب سے بڑے ریگولیٹر نے بھی اپنے ہی سربراہان کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہ جاننے کیلئے ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے کہ یہ قانون کس طرح سرکاری کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کی ذاتی آسائشوں کیلئے ’’منفعت بخش‘‘ بن گیا ہے، بجائے اس کے کہ اس کے ذریعے مالی نظم و ضبط اور بہتر گورننس کو یقینی بنایا جاتا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ’’دی نیوز‘‘ کے انکشافات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے جو جو 2023ء کے قانون کی روشنی میں سرکاری اداروں کی گورننس اور مالی معاملات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ آیا اس قانون کے منفی اثرات کے حوالے سے آئی ایم ایف سے بات کی جائے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا تھا کہ سرکاری کمپنیوں (ایس او ایز) کا ایکٹ 2023ء بنایا جائے تاکہ سرکاری ادارے زیادہ خودمختار ہوں اور قومی خزانے پر بوجھ کم ہو۔ اس قانون کا مقصد مسابقتی فضا قائم کرنا، شفافیت یقینی بنانا، مینجمنٹ کو مضبوط بنانا اور اداروں کا بین الاقوامی معیار کے مطابق آزادانہ آڈٹ کرانا تھا تاکہ مالی نقصانات کم کیے جا سکیں۔ تاہم، ذرائع کہتے ہیں کہ اصلاحات اور احتساب کے بجائے اس قانون کو ایس او ایز کے بورڈز اور افسران نے اپنے لیے بے مثال مالی مراعات حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا، اور یہ ادارے عوام کو بہتر خدمات دینے کے بجائے مسلسل خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ ایک سینئر سرکاری افسر نے اعتراف کیا کہ ’’ایس او ایز کو عوامی مفاد کیلئے بہتر بنانا تھا، لیکن جو کچھ ہورہا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بڑے افسران دولت سمیٹ رہے ہیں اور عام ٹیکس دہندگان قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘‘ پاکستان میں 200؍ سے زائد سرکاری ادارے ہیں جن میں توانائی، انشورنس، ایوی ایشن، بینکاری اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر برسوں سے بدانتظامی، کرپشن اور نااہلی کا شکار ہیں اور ان سے قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی رپورٹ متوقع طور پر یہ طے کرے گی کہ حکومت نگرانی کے نظام کو کیسے سخت کرے، ایس او ایز ایکٹ 2023ء پر نظرثانی کرے اور آیا آئی ایم ایف کے ساتھ اس قانون کے اُن پہلوؤں پر دوبارہ بات کی جائے جن کی وجہ سے بدعنوانی اور ناجائز فائدہ اٹھانے کے دروازے کھلے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید