اسلام آباد (مہتاب حیدر) ریگولیٹری اداروں کے بورڈز کی جانب سے بھاری تنخواہیں اور دیگر مراعات خود سے طے کرنے کا دیرینہ تنازع کئی سوالات کھڑا کر رہا ہے کیونکہ ان تمام اداروں کے لیے کوئی یکساں نظام لاگو نہیں ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 19 ریگولیٹری اداروں میں تنخواہوں، مراعات اور سہولیات کا تعین مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے معاملے میں ایس بی پی ایکٹ 1956 کی دفعہ 14-Aکے تحت گورنر اور ڈپٹی گورنرز کی سروس شرائط، بشمول تنخواہیں، بورڈ آف ڈائریکٹرز طے کرتا ہے۔ چھٹیوں اور غیرملکی سرکاری دوروں کا فیصلہ بورڈ اور گورنر کرتے ہیں۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے بیرونی ارکان کی شرائط اور معاوضہ بھی بورڈ طے کرتا ہے۔ گورنر اور ڈپٹی گورنرز اپنی شرائط اور تنخواہوں کے تعین کے وقت اجلاس سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔