• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان نے کاروباری ویزوں کے اجرا کو مزید مشکل بنا دیا

ٹوکیو(عرفان صدیقی)جاپانی حکومت نے کاروباری ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اس کے اجرا کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ ماضی میں محض پانچ ملین ین (پچاس لاکھ ین) یعنی تقریباً ایک کروڑ پاکستانی روپے کی سرمایہ کاری سے کمپنی بنا کر ویزا حاصل کیا جا سکتا تھا، تاہم اب اس کے لیے کم از کم سرمایہ کاری کی شرط بڑھا کر تیس ملین ین (تین کروڑ ین) کردی گئی ہے جو پاکستانی روپے میں تقریباً چھ کروڑ روپے کے برابر ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری صرف کاغذی کمپنیاں بنا کر ویزے حاصل کر لیتے تھے لیکن نہ تو اصل کاروبار کرتے تھے اور نہ ہی جاپانی نظام کو ٹیکس یا ہیلتھ انشورنس کی مد میں کوئی فائدہ پہنچاتے تھے۔ اس کے بجائے وہ دوسری جگہ ملازمت اختیار کر کے مقامی معاشرے پر بوجھ بنتے رہے۔ سرمایہ کی شرط پانچ ملین ین سے بڑھا کر تیس ملین ین کرنے کے بعد اب صرف وہی افراد کاروباری ویزا حاصل کر سکیں گے جو حقیقی طور پر جاپان میں بڑا کاروبار شروع کرنے اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔
اہم خبریں سے مزید