لاہور (نیوزرپورٹر)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعلی عثمان بزدار حکومت نے ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو غیر قانونی این او سی جاری کیے اور موجودہ پنجاب حکومت این او سی منسوخ نہ کرکے شریک جُرم ہوگئی۔ کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت روکنے کے مقدمات جاندار طریقے سے لڑے جاتے تو اتنی بڑی تباہی نہ ہوتی،بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑیں گے۔ سیلاب بھارت کی آبی جارحیت کا نتیجہ ہے، حکومت پاکستان انتظامی امور کو بہتر بنالیتی تو اتنی تباہی نہ آتی۔ وہ لاہور، چوہنگ میں الخدمت خیمہ بستی کے دورہ کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن، نائب صدور ذکر اللہ مجاہد، اعجاز اللہ خان، پنجاب کے صدر اکرام سبحانی، ڈائریکٹر جنرل میڈیا عمیر ادریس، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکمرانوں نے کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت روکنے کے مقدمات جاندار طریقے سے نہیں لڑے، ایسا کرتے تو سیلاب اتنے بڑے پیمانے پر تباہی نہ مچاتے۔ ٹرمپ جس کے لیے حکومت نے نوبل انعام تجویز کیا نے اپنے دوست مودی کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت سے کیوں نہیں روکا؟ یہ جارحیت نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں ضرورت ہوتی تو ہندو توا کا پجاری مودی پانی روک دیتا ہے اور جب ضرورت نہیں ہوتی تو اپنے نکاس کے لئے پاکستان کو ڈبو دیا جاتا ہے۔ حکومت موسمیاتی تبدیلی کا نشانہ بنے پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پر موثر طریقے سے پیش کرنے سے کیوں قاصر ہے؟حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ن لیگ اور تحریک انصاف لوگوں کو ڈبونے کی ذمہ دار ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ عوام مافیاز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ زندگی کے کسی شعبہ میں میرٹ اور عدل و انصاف نہیں اس لیے گلے سڑے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔