کراچی (نیوز ڈیسک) اسرائیلیوں کی ایک اکثریت یقین رکھتی ہے کہ غزہ میں جنگ کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ قیدیوں کی خطرے میں موجودگی بتایا گیا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے جاری کردہ ایک رائے شماری میں بتایا گیا ہے، یہ سروے 14 سے 18ستمبر کے درمیان کیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق 66 فیصد اسرائیلی کہتے ہیں کہ جنگ کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک سال پہلے جب سروے میں یہی سوال پوچھا گیا تھا تو اس وقت جنگ ختم کرنے کا کہنے والوں کی تعداد 53 فیصد تھی،27 فیصد اسرائیلی شہری سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا ہے جبکہ7 فیصد غیر یقینی کا شکار ہیں۔
50.50 فیصد اسرائیلی یہودی اور 34.5 فیصد عرب اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی خطرے میں موجودگی سب سے بڑی وجہ ہے کہ جنگ بند کی جائے ۔وہ لوگ جن کی رائے کہ جنگ ختم نہیں ہونی چاہیے ان کی تعدد 27فیصد ہے تاہم 27 فیصد میں سے 56 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ حماس کو ختم کرنے اور اقتدار سے ہٹانے کے لیے جنگ جاری رہنی چاہئےجبکہ 28 فیصد یقین رکھتے ہیں کہ مسلسل لڑائی قیدیوں کو آزاد کروانے کی کلید ہے۔
جنگ جاری رکھنے کی دیگر وجوہات میں غزہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو یقینی بنانے والوں کا کہنے والوں کی تعداد 6.5 فیصد ہے، 7 اکتوبر 2023ء کے قتلِ عام کا بدلہ جو جنگ کا سبب بنا ایسا کہنے والوں کی تعداد 4 فیصد ہے اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کو گرنے سے روکنے کو وجہ قرار دینے والوں کی تعداد 2 فیصد ہے۔
سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ 66 فیصد اسرائیلی شہریوں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کو حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے ارد گرد کی ناکامیوں کی ذمہ داری لینی چاہیے اور استعفیٰ دے دینا چاہیے، فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد 45 فیصد ہے جبکہ جنگ کے بعد مستعفی ہونے کا کہنے والوں کی تعداد 19فیصد ہے۔