• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معیشت بہتر ہوگئی، عوام کو جلد ریلیف ملے گا، اب عوام خوش حال ہوں گے، منہگائی کم ہوگئی، جاری کھاتے کا خسارہ ختم یا کم ہوگیا، شرحِ سُود میں بہت کمی ہوچکی، وغیرہ وغیرہ۔ 

عوام دہائیوں سے اس نوعیّت کے بیانات اور خوش کُن دعوے اور وعدے سُنتے چلے آرہے ہیں، چناں چہ گزشتہ برس بھی انہوں نے اسی قسم کی باتیں سُنیں ، لیکن کیا کہیں حقائق کو کہ ابھی مذکورہ کسی بیان سے عوام کچھ ہی حظ اٹھا پاتے ہیں کہ خبر آجاتی ہے، پیٹرول کی قیمت میں اتنا اضافہ ہوگیا، ٹماٹر کے نرخ تاریخ کی بلند سطح کو چھونے لگے ہیں، نیپرا نے بجلی کے نرخ میں اتنے اضافے کی منظوری دے دی، اوگرا نے گیس کے نرخ میں اتنے اضافے کی سفارش کردی، وغیرہ وغیرہ۔

دعوے، خبر اور حقیقت

یہ معیشت کے گورکھ دھندے ہیں، جو اعدادوشمار کے پردے میں چُھپ چُھپا کر جاری رہتے ہیں۔ ہر حکومت کے دعوے کچھ ہوتے ہیں اور آزاد ذرائع کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ گزشتہ برس بھی ایسا ہی ہوا۔

سترہ دسمبر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ10کروڑ ڈالرز سرپلس رہا اور اکتوبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 29 کروڑ ڈالرز تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے5ماہ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 81.2کروڑ ڈالرز رہا۔ 

مالی سال 25-2024کے ابتدائی5ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ 50کروڑ ڈالرز سرپلس تھا۔ نومبر میں درآمدات اکتوبر سے 12 فی صدکم ہو کر 4.72ارب ڈالرز رہیں اور اکتوبر کا درآمدی بل 5.38 کروڑ ڈالر تھا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق نومبر کا تجارتی خسارہ 11 فی صد کم ہو کر2.59ارب ڈالرز رہا۔بینک دولت پاکستان کے مطابق مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کا تجارتی خسارہ 12 ارب ڈالر رہا۔ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں یہ 9.79ارب ڈالرز تھا۔

سیاسی لوگ ایسی باتوں کو یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں کہ دیکھیں ہم نے خسارہ کم کرکے دکھادیا ہے۔ حالاں کہ ان ہی اعداد وشمار سے پتا چلتا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں جاری کھاتہ 81.2کروڑ ڈالرزکے خسارے کا شکار تھا، لیکن اس سے پہلے کے مالی سال میں اسی مُدِت میں خسارے کے بجائے پچاس کروڑ ڈالرز اضافی تھے اور نومبر میں جو ہوا اس کی وجہ ہماری کوئی کوشش نہیں تھی، بلکہ اس ماہ چوں کہ ہم نے بیرون ملک سے مال کم منگوایا تھا اس لیے درآمدی بل خود بہ خود کم ہوگیا۔ اسی طرح سیاسی لوگ یہ نہیں بتاتے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں پچھلے مالی سال کی اسی مُدِت کے مقابلے میں تقریبا سوا دو ارب روپے زیادہ کا تجارتی خسارہ ہوا۔

یہاں صرف دو مالیاتی مدات کے مختصر اعدادوشمار کو غور سے پڑھنے پر نہ صرف کہانی کا رُخ بدل جاتا ہے، بلکہ کہانی کے کچھ پوشیدہ باب بھی سامنے آجاتے ہیں جو کہانی کو کہیں اور ہی لے جاتے ہیں۔ یہ چھوٹی سی خبر ہمیں اس بارے میں بہت کچھ بتارہی ہے کہ گزشتہ برس ملک کی معیشت حقیقت میں کیسی رہی۔

مثلا، یہ کہ ابتدائی پانچ ماہ میں جاری کھاتے کی صورت حال گزشتہ برس کی اسی مُدّت کے تناسب سے بہتر ہونے کے بجائے خراب رہی، نومبر میں جو تبدیلی آئی وہ بہ ذاتِ خود کئی سوالات پیدا کرگئی کہ ایسا کیوں ہوا کہ درآمدی بِل کم ہوگیا؟

کیا منہگائی کی وجہ سے مال یا تیل کی کھپت کم ہوگئی؟اگر ایسا ہوا تو یقینا محاصل میں بھی کمی واقع ہوئی ہوگی اور اگر تیل کم درآمد ہوا تو اس سے ملکی پیداوار میں بھی کمی آئی ہوگی اور اس کے نتیجے میں بھی سرکاری محاص کم جمع ہوئے ہوں گے۔

پھر یہ کہ اسی مُدِت میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال میں تقریبا سوا دو ارب روپے زیادہ کا تجارتی خسارہ ہوا۔ تجارتی خسارہ ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس مُدّت میں ہم نے بیرونِ مُلک سے مال منگوایا زیادہ اور بھیجا کم۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ 

کیا ہمیں اس مُدّت میں بیرونی دنیا سے آرڈر کم ملے، کیا ہمارا مال عالمی منڈی میں مقابلے کی سکت کھو چکا ہے، کیا ہمارے تجارتی معاہدے اور عالمی گاہک پائے دار نہیں ہیں جن سے ہمیں پورا سال تسلسل سے آرڈرز ملتے رہیں، کیا ہمارے ملکی برانڈز پائے دار شناخت کے حامل نہیں ہیں ؟ اور اگر ایسا کچھ نہیں تھا تو اتنا تو ہواکہ اس مُدت میں ہم نے زرِمبادلہ بیرونِ ملک زیادہ بھیجا اور اندرونِ ملک کم لائے۔ یہ بھی تو ہم جیسے ملک کے لیے کافی نقصان کا سودا تھا۔

اب اسی نظریے کو آگے لے کر چلتے ہیں، جسے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعدادوشمار سے تقویت ملتی ہے۔ سترہ دسمبر کو آئی ایم ایف) نے چار برس میں پاکستانی برآمدات میں 13 ارب 79کروڑ ڈالرز اضافے کا تخمینہ پیش کردیاتھا۔ حالاں کہ پاکستان نے2030تک ملکی برآمدات 60 ارب ڈالرزتک بڑھانے کا سرکاری ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف نے حکومت کے دعوے کی قلعی کھول دی۔

آئی ایم ایف نے2030تک پاکستانی برآمدات 46 ارب ڈالرز تک پہنچنے کا تخمینہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے برس پاکستان کی مجموعی برآمدات 36ارب 46کروڑ ڈالرز تک جائیں گی۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق مالی سال2028میں برآمدات 40 ارب اور2029میں تقریباً 43 ارب ڈالرز رہیں گی اور مجموعی درآمدات میں 2030 تک 18 ارب 70 کروڑ ڈالر زاضافے کا تخمینہ ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کی درآمدات64ارب ڈالرز سے زائد رہیں گی۔ 2027میں درآمدات 66 ارب 86کروڑ اور 2028 میں72 ارب 90 کروڑ ڈالرز رہیں گی۔ 2029میں77ارب اور 2030میں درآمدات بڑھ کر 82ارب81کروڑ ڈالرزہو جائیں گی۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پہلے3سال میں برآمدات60ارب ڈالرز تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن بعد میں حکومت نے 3سال کے ہدف سے پیچھے ہٹتے ہوئے مدت5سال مقرر کر دی تھی۔ اس طرح یوں محسوس ہوتا ہے کہ2030تک بھی تجارتی خسارہ ختم ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔

آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئندہ تین برس تک بھی ہم کمائیں گے کم اور خرچ زیادہ کریں گے۔ اس کے نتیجے میں رقم کا جو خلا پیدا ہوگا وہ ہم قرض لے کر پورا کرتے رہیں گے۔ یعنی قرض کی دلدل میں مزید دھنستے رہیں گے اور عالمی مالیاتی اداروں کی سخت ترین شرائط بھی ماننے پر مجبور رہیں گے۔

درپیش چیلنجز

ہم اقتصادی میدان میں جس مقام پر کھڑے ہیں اور ہماری معیشت کو جن چیلنجز کا سامنا ہےان کی جانب ہمارے وفاقی وزیرخزانہ، سینیٹر محمد اورنگزیب نے حال ہی میں اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں 2.7فی صد کی معاشی نمو مثبت ضرور ہے، مگر تیزی سے بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اہم اقتصادی موڑ پر پہنچ چکا ہے، ملکی معیشت پائے دار اور طویل مدتی ترقی کی پوزیشن پر آرہی ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا دارومدار صرف مالی اشاریوں پر نہیں بلکہ آبادی میں تیز رفتار اضافے، موسمیاتی تبدیلی، بچوں میں غذائی قلت، تعلیمی پس ماندگی اور بچیوں کی تعلیم میں شمولیت جیسے بنیادی مسائل کے حل پر ہے۔

یہ خیالات انہوں نے ایک جامع انٹرویو میں ظاہر کیے، جو چند ہفتے قبل لیا گیا تھا اور حال ہی میں عالمی سطح پر معروف اخبار یو ایس اے ٹوڈے میں شائع ہونے والی 16صفحات پر مشتمل خصوصی اشاعت بہ عنوان ’’پاکستان اسپیشل رپورٹ‘‘ میں شائع ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برسوں بعد پہلی بار پاکستان نے پرائمری بجٹ سرپلس اور کرنٹ اکانٹ سرپلس حاصل کیا ہےجو مسلسل خساروں کے چکر سے نکلنے کی واضح علامت ہے، ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ اس بہتری کا اہم سبب بنا اور منہگائی 38 فی صد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے۔

درآمدات و برآمدات کا فرق اور ترسیلاتِ زر 

پاکستان کی برآمدات کے بارے میں طویل عرصے سے ماہرینِ اقتصادیات شدید تشویش کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے اپنے قومی میزانیے کا خسارہ پورا کرنے کےلیے اب بھی اس جانب توجّہ نہ دی توآنے والے وقت میں ہمیں شدید ترین اقتصادی بحران کا سامنا کرنا ہوگا جس سے عوام کے لیے زندگی کی گاڑی کھینچنا تقریبا ناممکن ہوجائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھانےکے لیے نئے قرض حاصل کرنے اور ترسیلاتِ زرپر بھروسہ کرنے کے بجائے ہمیں عالمی منڈی میں اپنے مال کی کھپت کو مسابقتی بنانے پر بھرپور توجّہ دینے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کا کام جنگی بنیادوں پر کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمیں بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ملک کو پُر کشش بنانے کی بھی سخت ضرورت ہے۔

آئیے، اب اس نقطہ نظر کو سرکاری طورپر جاری کردہ اعدادوشمار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سترہ دسمبر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا تھاکہ ملک کا جاری کھاتہ نومبر 2025ء میں تمام ادائیگیوں کے بعد 10 کروڑ ڈالرز فاضل رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے5ماہ میں31.37کروڑ ڈالرز کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی، ابتدائی5ماہ میں 1.39 ارب ڈالرز کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔

پاکستان نے نومبر میں دنیاسے4ارب 72 کروڑ ڈالرز کا سامان خریدا اور 2 ارب 27 کروڑ ڈالرز کا مال دنیا کو بیچا۔درآمدات و برآمدات کا فرق 2 ارب 45کروڑ ڈالرز اور نومبر کا تجارتی خسارہ رہا، لیکن یہ اکتوبر سے تقریبا11فی صد کم تھا۔

ہماری خدمات کی بیرونی تجارت18کروڑ ڈالرز خسارے میں رہی اور آمدن کا خسارہ74کروڑ ڈالرز رہا۔ تین خساروں کا مجموعہ3ارب33کروڑ ڈالرز رہا جو اکتوبر سے سوا 14 فی صدکم تھا۔ خسارے کو بیلنس کرنے کے لیے نومبر کی3ارب18کروڑ ڈالرز کی ورکرز ترسیلات اور دیگر کرنٹ اکاؤنٹ وصولیوں سے بیلنس کرنے کے بعد جاری کھاتہ 10 کروڑ ڈالرز فاضل رہا۔

اسی طرح رواں مالی سال کے پانچ مہینوں میں ملک کا جاری کھاتہ81کروڑ ڈالرز خسارے میں رہا۔مالی سال 25-2024ء کے ابتدائی 5 مہینوں کا خسارہ 50 کروڑ ڈالرز تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی معیشت مستحکم ہونے کے ساتھ معاشی سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہیں جس سے ملکی درآمدات بڑھ رہی ہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پانچ ماہ میں پاکستان نے25ارب ڈالرز کا سامان دنیا سے خریدا جو گزشتہ مالی سال سے11فی صد زائد تھا۔ دوسری جانب ملکی برآمدات پانچ ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 3فی صد کم ہوئیں۔ خسارے کی فنانسنگ کے لیے ورکرز کی ترسیلات میں9فی صد اضافہ بیرونی ادائیگیوں کی صورت ِحال کو بہتر بنانے میں اہم ترین ہے۔

یہ سرکاری اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ درآمدات اور برآمدات کے فرق سے پیدا ہونے والا مالیاتی خسارہ ہم بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئیں رقوم سے پورا کررہے ہیں۔ لیکن برآمدات بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہے۔

قرضوں کا بڑھتا بوجھ

پاکستان کو موجودہ مالی سال میں ملنے والے بیرونی قرضوں اور گرانٹس کی تفصیلات بہت کچھ بتاتی ہیں۔ اقتصادی امور ڈویژن کی دستاویز کے مطابق پاکستان نے گزشتہ برس جولائی تا نومبر تین ارب ڈالرز سے زائد کا بیرونی قرض حاصل کیا۔ ہمیں گزشتہ سال کے مقابلے 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالر زیادہ فنڈز ملے۔

دستاویز میں کہا گیا کہ عالمی مالیاتی اداروں نے 1.25ارب ڈالرز اور مختلف ممالک نے80کروڑ76لاکھ ڈالرز دیے۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے 96کروڑ59لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی۔ گزشتہ سال ابتدائی پانچ ماہ میں 2 ارب 66 کروڑ ڈالرز کا بیرونی قرض حاصل ہوا تھا۔ 

عالمی بینک، اے ڈی بی، اسلامی ترقیاتی بینک اور سعودی عرب نے سب سے زیادہ قرض دیا۔ دستاویز کے مطابق5ماہ میں حاصل کیے گئے قرض کی پاکستانی کرنسی میں مالیت 858ارب27کروڑ روپے ہے۔ اس سے پہلے کے سال میں اسی مدت میں ملنے والے 741ارب روپے کے مقابلے 117 ارب روپے زیادہ ملے۔

اقتصادی امور ڈویژن کا کہنا ہے کہ نان پروجیکٹ ایڈ کی مد میں531ارب روپے سے زائد قرض ملا۔اس میں بجٹ سپورٹ کے لیے273ارب روپے سے زیادہ قرض لیا گیا۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے109ارب روپے کا شارٹ ٹرم لون دیا۔ پانچ ماہ میں141ارب 76 کروڑ روپے کی سعودی آئل فیسیلٹی حاصل ہوئی۔ سعودی آئل کی یہ سہولت50کروڑ ڈالرز کے مساوی ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے327ارب روپے سے زائد قرض لیاگیا۔ پاکستان کو گزشتہ برس جولائی سے نومبر کے دوران 15 ارب 32کروڑ رپے کی گرانٹ ملی۔ موجودہ مالی سال میں مجموعی طور پر تقریباً 20ارب ڈالرز کی بیرونی مالی معاونت کا تخمینہ ہے۔ المختصر ،قرض کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔

اب آتے ہیں ملک پر چڑھے ہوئے مجموعی قرض کی جانب۔ یکم نومبر کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ تاریخ تک پاکستان کا مجموعی قرض84.8ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا۔ بلند شرحِ سود، روپے کی قدر میں کمی اور سست شرحِ نمو قرض کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دی گئی ہیں۔ 

وزارتِ خزانہ کی ’’ڈیٹ سسٹینیبلٹی اینالیسس‘‘ (DSA) رپورٹ کے مطابق پاکستان کا عوامی اور ضمانت یافتہ قرض84.8ٹریلین روپے یا مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے74.5فی صد تک پہنچ چکا ہے، جو جون2024میں 70.9فی صدکے مقابلے میں 3.6 فی صد زیادہ ہے۔ 

رپورٹ میں2026سے 2028 کے درمیانی عرصے میں قرض پر چھ بڑے ممکنہ جھٹکوں کا انتباہ دیا گیا ہے، جن میں وفاقی مالی توازن (primary balance)، شرحِ نمو، شرحِ سود، زرِ مبادلہ کی قدر، مجموعی مالیاتی جھٹکا اور مالیاتی شعبے کی ممکنہ ذمے داریاں شامل ہیں۔

زرِمبادلہ کے ذخائر

پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائربائیس دسمبر کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مارچ2022کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق زرِمبادلہ کے مجموعی ذخائر مذکورہ تاریخ تک 21.1ارب ڈالر زتک پہنچ چکے تھے، جس میں سے اسٹیٹ بینک کے پاس15.9ارب ڈالرز ریکارڈ کیے گئے تھے۔ یوں ملک کی درآمدی استعداد ڈھائی ماہ سے تجاوز کر گئی تھی، جو فروری 2023 میں صرف دو ہفتوں سے بھی کم رہ گئی تھی۔

بڑی صنعتوں کی پیداوار

کسی ملک کی بڑی صنعتوں کی تعداد، استعدادِ کار اور پیداوار اس ملک کی معیشت کی حالت کی عکّاس ہوتی ہے۔ ہمارے ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے 4 ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.02فی صد اضافہ ہوا۔ اکتوبر 2025ء میں سالانہ بنیادوں پر بڑی صنعتوں کی پیداوار8.33فی صد بڑھ گئی۔

ستمبر 2025 کے مقابلے میں اکتوبر میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 3.75 فی صد اضافہ ہوا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے بڑی صنعتوں کی پیداوار کے جو اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں، ان کے مطابق جولائی تا اکتوبر گاڑیوں کی پیداوار میں 78.89 فی صداضافہ ہوا۔

جولائی تا اکتوبر ٹرانسپورٹ سے متعلق سازوسامان کی پیداوار میں 37.51فی صد اضافہ ہوا اور فوڈ گروپ کی پیداوار 5.02 فی صد بڑھی۔ رپورٹ کے مطابق تمباکو کی پیداوار 2.10فی صد ٹیکسٹائل کی 1.58، ویئرنگ اپیرل کی4.69اور کوک اینڈ پیٹرولیم کی پیداوار میں 12.25 فی صداضافہ ہوا۔

علاوہ ازیں مذکورہ چار ماہ میں ربڑکی مصنوعات کی پیداوار میں12.03فی صداور مشنیری اور آلات کی پیداوار میں 11.95 فی صد کمی ہوئی۔ فرنیچر کی پیداوار 16.46 فی صد ،فارماسیوٹیکل کے شعبے کی پیداوار 6.68 فی صد، کیمیائی مصنوعات 1.90 اور لوہے اورو اسٹیل کی پیداوار3.25فی صدگری۔

لیکن دوسری جانب بڑی پیداواری اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کے نمائندوں نے لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کی پیداوار میں بحالی کے حکومتی دعووں کو چیلنج کردیا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اخراجات میں بے پناہ اضافے، طلب میں کمی اور بھاری ٹیکسزکی وجہ سے صنعتی سرگرمیاں مسلسل سکڑ رہی ہیں۔ وہ مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ نومبر2025میں ٹیکسٹائل کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2.05 فی صدکمی کے ساتھ1.43بلین ڈالرز رہ گئیں۔ 

اس مہینے کے دوران مجموعی برآمدات میں15.35فی صد کی بڑی کمی واقع ہوئی اور درآمدات میں5.42فی صد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ2.86بلین ڈالرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 33 فی صد زیادہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سو سے زائد اسپننگ یونٹس بند ہو چکے ہیں جس کے باعث دھاگے اور کپڑے کی قلت پیدا ہو گئی ہےجو ویلیو ایڈیڈ برآمدات کے لیے بنیادی خام مال ہیں۔ اور کئی بڑے صنعت کاروں نے اپنے ملبوسات (اپیرل) کے شعبے بند کردیے ہیں۔

اسی طرح وہ بتاتے ہیں کہ اسٹیل کی صنعت جو 45 ذیلی صنعتوں کو سہارا دیتی ہے، اس وقت صرف 30 سے 50 فی صد پیداواری صلاحیت پر کام کررہی ہے۔یہ شعبہ سالانہ9ملین ٹن کی نصب شدہ صلاحیت کے مقابلے میں صرف 3.8 ملین ٹن اسٹیل پیدا کررہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ زراعت اور تعمیرات کے اشاریے بھی کم زوری کی عکاسی کر رہے ہیں۔ وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے مطابق کپاس کی پیداوار کا تخمینہ 68.5 لاکھ گانٹھیں لگایا گیا ہے، جو 3.3 فی صد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ چاول اور مکئی کی پیداوار میں بالترتیب 3.2فی صد اور 6.7ففی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ 

نومبر 2025میں سیمنٹ کی ترسیلات سالانہ بنیاد پر3.47فی صد کم ہو کر 41.4 لاکھ ٹن رہ گئیں ۔تاہم 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مجموعی ترسیلات 11.54فی صد اضافے کے ساتھ 21.45 ملین ٹن تک پہنچ گئیں۔

غربت بڑھ گئی

عالمی بینک نے جون 2025پاکستان میں غربت سے متعلق جائزہ جاری کیا تھاجس کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح39.8سے بڑھ کر 44.7فی صد ہوگئی ہے۔نئے معیار کے تحت پاکستان کی44.7فی صد آبادی غربت کا شکار ہے۔ تاہم پرانے پیمانے کے مطابق غربت کی شرح 39.8 فی صد تھی۔ نئے طریقہ کار کے مطابق 10 کروڑ 79 لاکھ پاکستانی غربت کا شکار ہیں۔ معیار بدلا ہے، لوگوں کی زندگیوں میں کوئی فوری تبدیلی نہیں آئی۔

عالمی بینک کی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت نچلی متوسط آمدن والے ممالک میں یومیہ 4.20 ڈالر آمدن سے کم کمانے والے غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، اس سے پہلے غربت کا پیمانہ 3.65 ڈالر یومیہ آمدن تھا۔ رپورٹ کے مطابق آمدن کی اس حد میں پاکستان کی 44.7 فی صد آبادی آتی ہے۔

عالمی بینک نے پاکستان میں شدید غربت کی نئی حد3ڈالر فی کس یومیہ مقرر کی ہے۔ شدید غربت کی نئی حد میں پاکستان کی 16.5 فی صد آبادی آتی ہے۔نئے پیمانے کے مطابق اعلی متوسط آمدن والے ممالک میں غربت جانچنے کے لیے آمدن 6.85 سے بڑھا کر 8.30 ڈالرز یومیہ مقرر ہے۔اس پیمانے کے مطابق پاکستان کی 88.4فی صد آبادی اس حد سے نیچے ہے۔

ایک بڑی خبر

ملک کی معیشت کے بارے میں ایک بڑی خبر چوبیس دسمبر کو سامنے آئی جو قومی ایئر لائنزکے135 ارب روپے میں میں فروخت ہونے کی تھی۔عارف حبیب کنسورشیم75فیصد شیئرز خریدنے میں کام یاب قرار پایا۔ 75فی صد شیئرز کی فروخت کے بعد پی آئی اے کی مجموعی مالیاتی قدر 180ارب روپے ہو گئی ہے۔

اس موقعے پر حکومت کے مشیر برائے نج کاری محمد علی کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس نج کاری سے10نہیں 55 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ 10ارب نقدملے گااور 45 ارب روپے کی حکومتی ایکویٹی ہوگی۔

یاد رہے کہ ماضی میں متعدد بار قومی ایئر لائن کی نج کاری کی کوششیں کی گئیں، لیکن وہ سب ناکام ہوئیں۔ اس ادارے کا ملک کی معیشت پر بوجھ بڑھتا جارہا تھا۔2015میں اس کی منفی ایکویٹی 213 ارب روپے تھی،2024میں اس کے نقصانات 700 ارب روپے تھے اور2015سے ہر سال یہ ادارہ نقصان میں جارہا تھا۔

تاہم اس نج کاری کےناقدین بھی بہت سے وزنی نکات کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس قیمت پر یہ قومی اثاثہ فروخت کیا گیا ہے وہ بہت کم ہے۔وہ کہتے ہیں کہ قومی ایئر لائن نے دس ارب روپے منافع کمایا ہے اور چھوٹے طیارے کی قیمت کم از کم 27ارب روپے ہے۔ قومی خزانے میں صرف دس ارب روپے آئےجو پرانے جہاز کی قیمت کےمساوی بھی نہیں۔

اگر حکومت سرکاری ادارے بھی نہیں چلا سکتی تو کس بات کی گورننس کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس نج کاری کے ناقدین کا موقف ہے کہ قومی ایئر لائن کے پاس 78 لینڈنگ رائٹس ہیں۔ پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان کا وقار اور اسٹریٹجک اثاثہ ہے، قومی ایئر لائن فروخت نہیں کی جانی چاہیے تھی۔

جب وہ منافعے میں آگئی تھی تو پھر کیوں فروخت کیا گیا؟ قومی ایئر لائن نے اس سال112ارب روپے کمائےجس سے اسے دس ارب روپے کا منافع ہوا،پھر اسے فروخت کرنے کے بجائے اس کا منافع بڑھانے پر توجّہ کیوں نہیں دی گئی؟

اقتصادی استحکام، مگر کیسے

بارہ دسمبر کو آئی ایم ایف نے کہاکہ آئندہ ایک سے تین برس کےد وران پاکستان کی معیشت کے لیے جغرافیائی سیاسی تناؤ، تجارت میں رکاوٹ اور غیر یقینی پالیسیز، اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، مالیاتی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، مالیاتی کم زوریاں اور طویل عرصے تک زیادہ شرحِ سود، بین الاقوامی امداد میں کمی، بڑھتا ہوا سماجی عدم اطمینان، موسمیاتی تبدیلیاں اور پالیسیزپر موثر عمل درآمد نہ ہونا بڑے خطرات ہیں اور یہ خطرات ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کو ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

دراصل پاکستان میں اقتصادی پالیسیز میں تسلسل اور استحکام کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کی معیشت کئی دہائیوں سے مالی بحرانوں کا شکار رہی ہے۔ ان بحرانوں کی بنیادی وجوہات میں مالیاتی خسارہ، کرنٹ اکاؤنٹ کا بوجھ، اور غیر ملکی قرضوں کا بڑھتا ہوابوجھ شامل ہیں، جو معیشت کو پائے داربنانے کی راہ میں سنگین چیلنجزپیدا کرتی ہیں۔

ہماری معیشت کو درپیش مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ مالیاتی نظم و ضبط کی کمی کا ہے۔ محاصل کی وصولیوں کا حجم کم ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو بار بار قرض لینا پڑتا ہے، نتیجتاً ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، غیر ضروری سرکاری اخراجات، بدعنوانی، اور غیر مؤثر سبسڈی کا نظام بھی مالیاتی عدم استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اقتصادی استحکام کے لیے مزید ضروری ہے کہ حکومت صنعتی ترقی، زرعی اصلاحات، اور کاروباری مواقع میں اضافہ کرے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ملک میں مجموعی اقتصادی ترقی ممکن ہو سکے۔ صرف ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی ہی پاکستان کو مالی بحرانوں سے نکال کر اقتصادی استحکام اور خوش حالی کی راہ پر گام زن کر سکتی ہے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ سرپلس ہونے کی بات کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سرپلس کیسے حاصل کیا گیا؟ زیادہ تر ماہرین کا ماننا ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں کمی اور حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوا۔ اگرچہ بجٹ سرپلس ایک اچھی علامت ہے، لیکن طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ محصولات میں اضافہ کیا جائے اور عوام کو اقتصادی ترقی کے فوائد پہنچائے جائیں۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ٹیکس چوری کو کم کرنا ہے۔ ملک میں ٹیکس ٹوجی ڈی پی کا تناسب اب بھی بہت کم ہے، جو اقتصادی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے کہ پاکستان اپنا ٹیکس نیٹ بڑھائے اور محاصل کی وصولیوں میں اضافہ کرے۔ اس ضمن میں حکومت نے بعض اصلاحات کی ہیں اور نولاکھ نئے افراد اس نیٹ میں آئے ہیں، لیکن اب بھی اس ضمن میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔