اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے 79 کروڑ 42 لاکھ 70 ہزار روپے کی رقم سپریم کورٹ آف پاکستان سے طلب کر کے دوبارہ ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ نیشنل بینک کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ رقم کی آخری سرمایہ کاری 4 ستمبر 2025 کو ٹریژری بلز میں کی گئی تھی، جسکی مدت 27 نومبر 2025 کو مکمل ہو چکی ہے۔ عدالتی حکم نہ ہونے کے باعث اس کے بعد رقم کو دوبارہ سرمایہ کاری میں نہیں لگایا جا سکا۔جمعہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ حکم چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بنچ نے آئینی و متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ یہ حکم متفرق درخواست نمبر 182/2025 سمیت منسلک مقدمات کی سماعت کے دوران دیا گیا۔ مذکورہ درخواست ایس بی کمپلیکس اونرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔