کراچی (اسٹاف رپورٹر)مائی کلاچی پھاٹک کے قریب کھلے مین ہول سے خواتین سمیت 4 افراد کی لاشیں ملیں، مقتولین کی شناخت نہیں ہوسکی ۔تفصیلات کے مطابق ڈاکس تھانے کی حدود مائی کلاچی پھاٹک جھاڑیوں کے قریب بنے ہوئے مین ہول میں جمعہ کی شب ایک شخص کی لاش ملنے کی اطلاع پر پولیس اور ریسکیو ادارے کے رضا کار موقع پر پہنچے ۔مین ہول کے اندر سے پتھر ہٹانے کے بعد جب اسے چیک کیا گیا تو اس میں 4 لاشوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے کرائم سین یونٹ کو طلب کرلیا جس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کرنے کے بعد لاشوں کو ریسکیو رضا کاروں کی مدد سے باہر نکلا اور مزید شواہد حاصل کرنے کے بعد لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کیا۔پولیس نے بتایا کہ ملنے والی لاشوں میں 2 خواتین ، مرد اور لڑکا شامل ہے جن کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایم ایل او کی جانب سے لاشوں کے معائنے اور پوسٹ مارٹم کے بعد ہی حتمی طور پر وجہ موت اور لاشیں کتنے دن پرانی ہونے کا تعین کیا جا سکے گا۔پولیس نے بتایا فوری طور پر اس بات کا بھی تعین نہیں کیا جا سکا کہ چاروں افراد کو مردہ حالت میں لاکر مین ہول مین ان کی لاشوں کو پھینکا گیا ہے یا جائے وقوعہ پر ہی قتل کر کے لاشیں مین ہول میں پھینکی گئی ہیں۔مقتولین کی شناخت کے بعد ہی تفتیش میں پیش رفت ہوسکے گی ۔پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر لاشیں 10 دن سے زائد پرانی معلوم ہوتی ہیں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ۔مین ہول میں سیوریج کے پانی نے لاشوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کیماڑی سے واقعہ کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قتل کے پس پردہ محرکات ، وجوہات اور عوامل کا باریک بینی سے تعین کیا جائے ، واقعہ میں ملوث عناصر کی جلد از جلد نشاندہی اور گرفتاری کو یقینی بنایا جائے ۔