سعودی عرب نے یمن کی سعودی حمایت یافتہ صدارتی قیادت کونسل (PLC) کی درخواست کا خیرمقدم کرتے ہوئے یمن کے جنوبی علاقوں میں جاری تنازع کے حل کے لیے ریاض میں مذاکرات کروانے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق جنوبی یمن کے تمام دھڑوں کو ریاض میں ایک فورم میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ ’جنوبی مسئلے‘ کا منصفانہ اور جامع حل تلاش کیا جا سکے۔
دوسری جانب یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق پی ایل سی کے چیئرمین رشاد العلیمی نے جنوبی یمن کی جماعتوں اور شخصیات سے اپیل کی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کریں۔
واضح رہے کہ 30 دسمبر کو جنوبی یمن میں شدید جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) نے حضرموت اور المہرا صوبوں میں بڑا فوجی آپریشن شروع کیا۔
حضرموت یمن کا تیل پیدا کرنے والا اہم صوبہ ہے اور سعودی عرب کی سرحد سے متصل ہے جسے ریاض اپنی سلامتی کے لیے حساس سمجھتا ہے۔
سعودی عرب کا الزام ہے کہ اس کی اتحادی ریاست متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایس ٹی سی کو اسلحہ فراہم کر رہی ہے جس سے یمن کے تین حصوں میں بٹنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے تاہم یو اے ای نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے سعودی سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یو اے ای نے جاری کشیدگی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے تمام یمنی فریقین سے تحمل اور دانشمندی سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔
اسی دوران یو اے ای نے یمن سے اپنی تمام فوجی نفری کے انخلا کا اعلان بھی کیا ہے جسے سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔