• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین! میں یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ گزشتہ برس کے واقعات نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک بنیادی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ برسوں سے بھارتی حکمران طبقہ جس بیانیے کو سچ بنا کر پیش کرتا رہا، وہ اب خود اس کے اپنے میڈیا کے ہاتھوں زمین بوس ہو رہا ہے۔ بھارت سمیت عالمی میڈیا نے پاکستان کو 2025ء کا فاتح اور بھارت کو شکست خوردہ قرار دیدیا ہے، کہا گیا ہے کہ پاکستان نے میدان میں اور سفارتکاری میں اپنی دھاک بٹھا دی جبکہ بھارت ان دونوں محاذوں پر ناکام رہا۔ بھارتی اخبار دی ہندو نے بھی اپنی اشاعت میں 2025ء کو بھارتی شکست فاش، دفاع اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ہزیمت کا سال قرار دیتے ہوئے پاکستان کو جنگ اور سفارتکاری کے میدان میں فاتح قرار دیدیا ہے۔ اخبار کے مطابق 2025ء بھارت کیلئے اس صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا، نہ صرف پاکستان سے شکست ہوئی، بلکہ امریکہ سے تعلقات بھی تباہ ہو گئے، 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل پر اضافی پا بندیوں اور ویزا قدغنوں نے ثابت کر دیا کہ بھارت کی واشنگٹن کے ساتھ شراکت مشروط اور مفاداتی ہے۔ دوسری جانب عالمی جریدے کیرولائنا پولیٹکل ر یویو نے لکھا ہے کہ 2025ء میں پاکستان فاتح کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے میدان جنگ میں اپنی فتح کو سفارتکاری سے ملا کر اپنی جغرافیائی اہمیت کو منوالیا ہے۔ سی پیک کیساتھ ساتھ امریکہ سے کثیر الجہتی توازن برقرار رکھ کر نئے معاشی راستے کھولے اور ٹرمپ انتظامیہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں اہم مقام حاصل کرنا بڑی کامیابی ہے۔ عالمی جریدے کے مطابق پاکستان نے دنیا بھر کے میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کیا، صدر ٹرمپ کا کشمیر پر بیان پاکستان کی سفارتی پوزیشن اور موقف کی تائید ہے۔ پاکستان نے سفارتی محاذ پر نفسیاتی برتری حاصل کی جبکہ بھارت پیچھے رہ گیا۔یہ محض پاکستان کے موقف کی جیت نہیں بلکہ سچ کی فتح ہے، جسے آخر کار ماننا پڑا۔ پہلگام جیسے واقعات کو ماضی میں بغیر کسی تحقیق کے پاکستان کے کھاتے میں ڈال دینا نئی بات نہیں تھی۔ مگر اب خود بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں جو ان دعووں کوجھوٹ اورسنگین سیکورٹی نا کامی قرار دے رہی ہیں۔ یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ باہر نہیں، اندر تھا، فساد کی جڑ مودی ہے۔ جب ریاستی ادارے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے فالس فلیگ جیسے ہتھکنڈے اپنائیں تو انجام یہی ہوتا ہے کہ ایک دن حقیقت سب کے سامنے آجاتی ہے۔ پاکستانی قوم، افواج اور حکومت کیلئے اس سے بڑی سند اور کیا ہو سکتی ہے کہ دشمن ملک کا میڈیا بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جائے کہ پاکستان کو کمزور، تنہا یا غیر موثر ثابت کرنے کی مہم نا کام ہو چکی ہے۔دفاع او رسفارتکاری، دونوں محاذوں پر پاکستان نے تحمل، حکمت اور تسلسل کا مظاہرہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اسکی بات سنی گئی اور اسکے مؤقف کو وزن ملا۔ بھارت کی اصل کمزوری اسکی وہ منافقت ہے جو ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنے پر قائم ہے۔ دکھاوے پر مبنی سفارتکاری، بڑی بڑی تقریریں اور ذاتی تعلقات کے دعوے عملی طاقت کا متبادل نہیں بن سکتے۔ جب معیشت دباؤ میں ہو، سیکورٹی سوالیہ نشان بن جائے اور عالمی حمایت میسر نہ آئے تو محض بیانیہ سازی کام نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت منوائی، جبکہ بھارت اپنی ضد اور خود فریبی میں پیچھے رہ گیا۔ اب وقت آ گیاہے عالمی برادری بھی آنکھیں کھولے۔ اگر بھارت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا نوٹس نہ لیا گیا، اگر اسے جواب دہ نہ بنایا گیا، تو وہ صرف اپنی اقلیتوں کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ بنا رہے گا۔

کرسمس کے تہوار کے موقع پر اقلیتوں پر مظالم ڈھانے والے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنےمزید بے نقاب ہوگیا ہے جہاں کرسمس کے موقع پر بھارت کی متعدد ریاستوں میں انتہا پسند ہندوؤں نے بے قابو ہو کر کرسمس منانے والی اقلیتی مسیحی برادری پر حملے اور چرچوں میں توڑ پھوڑ اور گھیراؤ جلاؤ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش میں کرسمس کی چھٹی منسوخ کردی گئی اور سابق وزیراعظم واجپائی کی سالگرہ منانے کا حکم دیدیا گیا۔ اسی طرح دوسری بھارتی ریاستوں آسام، چھتیس گڑھ، اتر پردیش اور کیرالہ میں بھی ہندوتوا کے ایجنڈے کے تحت ہندو انتہا پسندوں نے مسیحیوں پر حملوں کیساتھ ساتھ گرجاگھروں میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے بجا طور پر باور کرایا ہے کہ ہندو توا نظریہ سے دوقومی نظریہ درست ثابت ہوا ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم نے قیام پاکستان سے 2روز قبل11اگست 1947ء کو لیجسلیٹو اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور ملک کے دیگر شہریوں کی طرح اقلیتوں کو بھی ان کے حقوق کا تحفظ دیا جائے۔ اسی تناظر میں پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق اور آزادیاں حاصل ہیں جسکا اعادہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کرسمس کی مختلف تقریبات میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کسی بھی مہذب، جمہوری اور ذمہ دار ریاست کی پہچان ہوتاہے۔ پاکستان کے قیام کا نظریہ بھی اسی اصول پر استوار تھا کہ یہاں بسنے والے تمام شہری، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا عقیدے سے ہو، برابر کے حقوق کے حامل ہوں گے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947ءکی تاریخی تقریر میں واضح الفاظ میں اس ریاستی اصول کا اعلان کر دیا تھا کہ مذہب کا ریاستی امور سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔

تازہ ترین