• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی فوج نے ہمارے گھروں پر تیل چھڑکا اور جان بوجھ کر آگ لگا دی: متاثرین سانحہ سوپور

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سوپور کے قتل عام کے متاثرہ خاندان کو 32 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔

6 جنوری 1993 کو سوپور میں نہتے کشمیری شہریوں کو بھارت نے ریاستی کارروائی کا نشانہ بنایا۔ سوپور میں فائرنگ بھارتی درندوں کی منظم منصوبہ بند سازش تھی۔

اس حوالے سے سانحہ سوپور کے متاثرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے شہداء کو 3 مقامات پر منتقل کیا اور کراس فائرنگ میں مرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا، بھارتی فوج ہمارا مال اپنے ٹرکوں میں بھر کر لوٹ کر موقع سے فرار ہوگئی۔

متاثرین نے کہا کہ بھارتی فوج نے ہمارے گھروں پر تیل چھڑکا اور جان بوجھ کر آگ لگا دی۔

بارڈر سیکیورٹی فورس نے فائرنگ سے مسافر بس سمیت کئی مقامات پر بےگناہ جانیں لیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6 جنوری 1993 کو 60 سے زائد افراد کو فائرنگ سے اور زندہ جلا کر مارا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعہ کو قتلِ عام قرار دیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید