دبئی (عبدالماجد بھٹی) دنیا بھر میں ہونے والی انٹرنیشنل لیگز میں بھارتی حکومت اور بھارتی کرکٹ بورڈ کی طرح بھارتی فرنچائز مالکان بھی اپنی ٹیموں میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستانی نژاد کرکٹرز کو ویزوں کا حصول بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں چھ میں سے پانچ ٹیمیں بھارتی مالکان کی تھیں، جنہوں نے کسی پاکستانی کھلاڑی کو نہیں لیا۔ ذرائع کے مطابق ٹورنامنٹ چیمپئن ڈیزرٹ وائپرز کے مالکان امریکا سے ہیں، اور اس ٹیم میں چار پاکستانی کھلاڑی فخر زمان، حسن نواز، نسیم شاہ اور عثمان طارق کے ساتھ بولنگ کوچ اظہر محمود شامل تھے۔ آئی ایل ٹی 20 کے سی ای او ڈیوڈ وائٹ کا کہنا ہے کہ ٹیمیں اپنی مرضی سے کھلاڑیوں کا انتخاب کرتی ہیں، اس میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے پر انہوں نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ سے معاہدے کیے۔ دوسری جانب پاکستانی پس منظر رکھنے والے کرکٹرز کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارتی ویزوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پانچ ممالک یو اے ای، عمان، اٹلی، کینیڈا اور امریکا کی ٹیموں میں پاکستانی پس منظر یا گرین پاسپورٹ رکھنے والے کھلاڑی شامل ہیں، ان کے بورڈز نے اس معاملے میں آئی سی سی سے رابطہ کیا، مگر نہ تو مثبت جواب ملا اور نہ بھارتی بورڈ نے کوئی یقین دہانی کرائی۔ آئی سی سی کے مطابق وہ اس مسئلے کو حل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بورڈز نے مشاورت شروع کر رکھی ہے۔ ماضی کے تجربات کی وجہ سے ٹیسٹ ممالک انگلینڈ اور آسٹریلیا کے علاوہ دیگر ایسوسی ایٹ ممالک کے بورڈز بھی پریشان ہیں۔