• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حسان احمد

بچو! کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت پہلے مسلمان سائنس دان ہوا کرتے تھے، انہوں نے کئی چیزیں ایجاد کیں۔ آج کی دنیا میں استعمال ہونے والی بہت سی سہولتیں ہمیں ان ہی کی بدولت ملی ہیں۔ انہیں ایجاداتی دور کا بانی و موجد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی کچھ عظیم سائنسدانوں اور ان کی ایجادات کے بارے میں بتارہے ہیں۔

جابر بن حیان ایک ایسے سائنس دان تھے، جنہوں نے کیمیا کو سمجھنے اور آزمانے کا طریقہ سکھایا۔ انہیں کیمسٹری کا بانی یا بابائے کیمیا بھی کہاجاتا ہے۔ ان کے سلفائیڈ ، سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ بنانے کے طریقے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ واٹر پروف اور فائر پروف کاغذ بھی جابر بن حیان کی ہی ایجاد ہے۔ محمد بن موسیٰ الخوارزمی ریاضی کے ماہر تھے۔ انہوں نے حساب کو آسان بنایا اور الجبرا ایجاد کی۔ آج جو موبائل، کمپیوٹر اور کیلکولیٹر ہم استعمال کرتے ہیں، وہ سب الخوارزمی کے اصولوں پر کام کرتے ہیں۔

ابنِ سینانے انسان کے جسم، بیماریوں اور علاج کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ ان کی لکھی ہوئی کتابیں دنیا کے بڑے بڑے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جاتی رہیں۔ ابن الہیثم نے روشنی اور آنکھ کے بارے میں تحقیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ کیمرے کا پہلا خیال بھی انہی کی تحقیق سے آیا۔ آج جب ہم تصویر بناتے ہیں تو دراصل ابن الہیثم کے علم سائنسی تحقیقات سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

اندلسی سرجن ابو القاسم زہراوی نے سرجری آلات ایجاد کیے تھے۔ اس نے دو سو سے زیادہ سرجری آلات بنائے تھے۔ وہ پہلا سرجن تھا

الزہراوی نے ڈاکٹروں کے لیے آپریشن کے آلات بنائے تاکہ لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔ آج اسپتالوں میں جو آلات استعمال ہوتے ہیں، ان کی شکلیں الزہراوی کی ایجاد کردہ چیزوں سے ملتی جلتی ہیں۔ البیرونی نے زمین اور ستاروں کے بارے میں تحقیق کی اور ہمیں بتایا کہ یہ دنیا کتنی حیرت انگیز ہے۔

ان تمام مسلمان سائنس دانوں کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سوال کرنا، سیکھنا اور محنت کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر بچے علم سے دوستی کریں، تجسس رکھیں اور سچ جاننے کی کوشش کریں تو وہ بھی بڑے سائنس دان بن سکتے ہیں۔ علم ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو روشن مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔