• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شبینہ فرشوری

بچو! آپ نے بھی روپیٹ کر اپنے بڑوں سے ضد کر کے روزہ رکھا ہوگا۔ کیونکہ اپنے بڑوں یا پھر والدین کو دیکھ کر ہی آپ روزہ رکھنا نماز اور قرآن مجید پڑھنا سیکھتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نو سالہ روز داربچی شیبہ کی ہے۔

وہ اپنے بڑے بھائیوں کی طرح روزہ رکھنا چاہتی تھی، مگر اُن دنوں روزے بہت سخت گرمی میں آتے تھے، اس لئے اس کی امی نے اسے منع کر دیا ۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ ایک دن جب شیبہ اسکول سے گھر واپس لوٹی تو سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ امی پریشان ہو گئیں کیونکہ یہ اس کی عادت کےخلاف تھا۔ 

وہ گھر آتے ہی کھانا مانگتی تھی۔ امی نے جاکر خیریت پوچھی تو بولی ،’’میں آج روزے سے ہوں۔‘‘ امی نے حیران ہوکر پوچھا ،’’تم نے روزہ کیوں رکھ لیا ۔’’آپ لوگوں ساتھ ہی تو میں نے سحری کی تھی‘‘شیبہ نے یاد دلایا۔ امی کو یاد آیا کہ ہاں روز کی طرح وہ ہمارے ساتھ شامل تھی، مگر اتنی گرمی میں روزہ۔ شیبہ بولی،’’ میں نے سحری کے بعد ہی نیت کر لی تھی۔‘‘ امی نے کہا،’’ ابھی تم چھوٹی ہو اور دن بھی لمبے ہیں، کیسے وقت گزارو گی تم ایسا کرو کہ آدھے دن کا روزہ رکھ لو۔‘‘

’’ نہیں امی میں تو پورا روزہ رکھوں گی، میری کلاس کے کئی بچوں کے بھی روزے ہیں‘‘ امی نے اُس کا ارادہ دیکھ کر اپنی سہیلیوں فون کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ روزے کے وقت پہنچ جائیں گی۔ سب نے افطار کے لیے کچھ نہ کچھ لانے کا کہا۔ امی نےقریبی رشتے داروں کو بھی اطلاع کردی اور شیبہ کے ابو کو بھی فون کر کے بتایاکر جلد گھر آنے کو کہا۔

گھر میں دادا دادی فکر مند بھی ہوئے، مگر خوش بھی کہ شیبہ نے روزہ رکھا ہے۔ امان، فراز اور سلمان بھی اسکول سے آئے تو یہ سن کر خوش ہوئے کہ آج ان کی چھوٹی بہن کا روزہ ہے۔ شیبہ کو اگرچہ بہت پیاس لگ رہی تھی لیکن اس نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا، دادی کے ساتھ نماز پڑھی دادی قرآن پڑھنے لگیں تو وہ بھی اپنا سپارہ پڑھنے لگی ،اس کے بعد دادی نے اُسے اپنے پاس ہی سلا دیا۔

یہ وہ دور تھا جب ہندو ، مسلمان مل جل کر رہا کرتے تھے عید تہوارر مل جل کر مناتے تھے کیونکہ خوشی کا مذہب سے نہیں دل سے واسطہ ہوتا تھا۔ شیبہ کے روزے کی خبر جب ہندو پڑوسیوں کو ہوئی تو، انہوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ بھی مختلف پکوان بنا کر لائے اور شیبہ کے لیے تحائف بھی۔ 

ابو بھی آفس سے جلدی آگئے سب نے مل کر افطار کی تیاری کی ۔ امی نے شیبہ کی پسند کی چیزیں تیار کیں۔ شام ہوتے ہوتے خاندان کے افراد اور دوستوں سے گھر بھر گیا۔ عصر کے وقت جب شیبہ سو کر اُٹھی تو گھر میں دعوت کے انتظامات دیکھ کر حیران رہ گئی اور خوشی سے امی کے گلے لگ گئی۔ 

عصر کی نمازپڑھی اور پھپو کا لایا ہو نیا جوڑا پہن کر تیار ہوئی، پھولوں کے ہاروں سے لدی شیبہ مہمانوں کے درمیان بیٹھی تھی، وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی کیوں کے اُسے معلوم نہیں تھا کہ امی ابو اُس کے لیے اتنی جلدی روزہ کشائی کے انتظامات کر لیں گے۔ بھائیوں نے بھی دستر خوان بچھانے اور افطار لگانے میں امی ابو کا بھر پور ساتھ دیا۔ 

افطار کا وقت ہوا سائرن بجا۔ شیبہ کا روزہ کھولنا سب کے لیے اہم بن گیا حالانکہ سب کا روزہ تھا، مگر لگ رہا تھا جیسے روزہ صرف شیبہ کا ہے۔سارے دوست احباب اور رشتے داروں نے شیبہ کے ساتھ روزہ کھولا۔ دادا دادی نے شیبہ کو بہت دعائیں دیں اور پیار کیا۔