جاوید جواد حسین
جنگل میں گھپ اندھیرا تھا تمام جانور مزے کی نیند سورہے تھے۔ جنگل کا راجہ شیر اپنی کچھار میں کسی گہری سوچ میں غرق تھا، کبھی کبھی گھپ اندھیرے اور سناٹے میں کسی رینگنے والے جانور کی سرکنے کی آواز آجاتی تھی۔ چاند کی مدھم روشنی اونچے اونچے درختوں سے چھن چھن کر آرہی تھی یکدم ایک آواز ’’کھچ‘‘ کر کے آئی۔
جنگل کے راجہ نے فوراً گردن اٹھا کر دیکھا، پھر آواز کا اندازہ لگانے کہ یہ کیسی آواز تھی، کہاں سے آئی، پھر کسی کے آہستہ آہستہ سرکنے کی آواز آنے لگی پھر وہ چند سیکنڈ بعد غائب ہوگئی جنگل کا راجہ یکدم کھڑا ہوا اور گردو پیش کا جائزہ لینے لگا لیکن دوبارہ کوئی آواز نہیں آئی تو وہ بیٹھ گیا۔
صبح ہوئی تو بندر چیختا چلاتا ہوا شیر راجہ کے پاس آیا اور رو رو کر کہنے لگا کہ ’’دیکھو راجہ میری دم کسی نے کاٹ دی ہے‘‘ کس نے کاٹی؟ شیر نے پوچھا۔ مجھے نہیں معلوم رات کے اندھیرے میں کاٹی ہے۔‘‘ شیر راجہ نے کوئل کو اشارہ کیا اُس نے اپنی پیاری اور سریلی کوک سے جنگل کے تمام جانوروں کو اکٹھا ہونے کا پیغام دیا۔
جب سب جانور آگئے تو انہوں نے دیکھا کہ بندر، جنگل راجہ کے ساتھ اس کی کچھار سے نکل رہا ہے اور رو رہا ہے شیر نے سب جانوروں کی طرف نظر دورائی اور کہا کہ ’’جس نے بھی یہ کام کیا ہے میرے سامنے آجائے‘‘۔’’ کون سا کام سردار؟‘‘
سب نے یک زبان ہوکر پوچھا، جنگل کے راجہ نے بندر کو پکڑ کر آگے کیا اور چلا کر کہا کہ یہ دیکھو بندر کی دم کسی نے کاٹ دی ہے ’’۔ آہ یہ کیا‘‘ کچھ جانور حیران و پریشان کھڑے ہوگئے کچھ ہنسنے لگے ۔’’جس نے بھی یہ جرم کیا ہے میرے سامنے آجائے اور بتائے کہ اس نے ایسا کیوں کیا ۔‘‘لیکن سب جانورں نے انکار کیا کہ،’’ ہم نے یہ کام نہیں کیا‘‘، شیر نے بپھر کر کہا، ’’میں کل صبح تک کا وقت دے رہا ہوں مجھے مجرم چاہیئے‘‘ ۔
کتنا غضب ہوگیا دوستو دیکھو ایک تو پہلے ہی بچارہ اتنا بدصورت تھا دم کٹنے کے بعد تو مزید بدصورت ہوگیا ،‘‘لومڑی نے کہا توسارے جانور ہنسنے لگے۔ بندر نے لومڑی کو گھور کر دیکھا تو وہ وہاں سے چلی گئی۔ اگلے دن پھر صبح تڑکے ہی بی بی کوئل نے زور کی کوک بھری تو سب جانور شیر کی کچھار کے سامنےجمع ہوگئے ’’ جی راجہ جی آپ نے یاد کیا،‘‘ سب نے یک زبان ہوکر کہا۔
شیر کے ساتھ خرگوش بھی ساتھ آیا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔’’ ہاں آج رات خرگوش کی بھی کسی نے دم کاٹ دی ۔ ‘‘ ’’ ارے تو خرگوش میاں دم کٹے ہوگئے تمھیں پتا نہیں چلا۔‘‘ لومڑی نے پوچھا۔’’ نہیں بالکل بھی نہیں پھر خرگوش اور بندر دونوں گلے مل کر رونے لگے شیر راجہ کسی گہری سوچ میں تھا۔
اگلی صبح پھر کوئل کی خوبصورت آواز سارے جنگل میں کوک رہی تھی، پھر سب جانور جمع ہوگئے،’’ ارے بادشاہ سلامت اب کس کی دم کٹ گئی،‘ بھالو نے پوچھا۔’’ لومڑی کی، شیر نے کہا۔’’ ہائے ہائے ارے بھئی یہ کیا ہورہا ہے یہ توکوئی ہمارے ساتھ بہت گھناونی سازش کررہا ہے۔ ریچھ بولا دیکھ لیں جنگل راجہ آپ کے ہوتے ہوئے ہماری دمیں کاٹی جارہی ہیں یوں تو ہمارا سارا جنگل دم کٹا جنگل مشہور ہوجائے گا۔
سارے جانوروں نے احتجاج کیا، شیر گہری سوچ میں پڑ گیا، اور حکم دیا کہ آج رات کوئی نہیں سوئے گا۔ سب جانوروں نے ہاں میں ہاں ملائی، آج کی رات تمام جانور جاگیں گے اورمجرم کو رنگے ہاتھوں پکڑیں گے‘‘، لیکن آدھی رات کو سب کی آنکھ لگ گئی۔ اور پھر وہی آواز ’’کھچ‘‘ کی آئی اور سرعت ک ساتھ کوئی جھاڑیوں میں بھاگ گیا۔
اگی صبح پھر کوئل کی کوک نے سب کو جگا دیا۔ اس بار چوہے کی دم غائب تھی اور پتا اس کو بھی نہیں چلا، اسی طرح کبھی جنگل کے اس کونے سے تو کبھی دوسرے کونے سے دمیں کاٹی جارہی تھیں، چھ جانوروں کی دمیں کٹ چکی تھیں، جنگل میں ہڑبونگ مچی ہوئی تھی، سب ہا ہاکار کر رہے تھے کیونکہ اگلی دو راتوں میں ریچھ اور بھیڑیئے کی دمیں بھی کٹ گئی تھیں۔ مجرم تھا کہ ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ جنگل میں مایوسی اور خوف کے سائے لہرانے لگ تھے، اور ہر جانور روزانہ صبح اٹھ کر خوف میں پہلے اپنی دم دیکھتا تھا۔
ایک شام ایک عقاب ہوا کے دوش پر تیزی کے ساتھ اڑتا ہوا شیر کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ سامنے والی پہاڑی کی چوٹی پر ایک جادو گر بڑھیا رہتی ہے وہ آگ کا الاؤ جلا کر کچھ ہنڈیا میں پکاتی ہے اور اس کا خوفناک سایہ اس کے خیمے سے بہت ڈراؤنا اور بھیانک نظر آتا ہے۔
میں وہاں سے گزرا تو وہ آگ کے الاؤ پر جھکی کہہ رہی تھی کہ،’’ ہاہاہا… اب صرف ایک دم رہ گئی ہے اور وہ جنگل کے راجہ کی… بس اس کی دم میں آج رات کاٹ کر لے آؤں اور اور ان سب دموں کا سوپ بناکر پی لوں تو پھر میں اپنے تجربے میں کامیاب ہوجاؤں گئی۔
ان ساتوں جانوروں کا روپ دھارسکوں گی، اس طرح پورے جنگل پر میرا راج ہوگا۔‘‘ اب تو شیر مزید چوکنا ہوگیا وہ سمجھ گیا کہ یہ ساری کارستانی اسی جادوگرنی بڑھیا کی ہے۔ اور جنگل کے سب جانوروں نے شیر کی مدد کرنے کی ٹھان لی، انہوں نے ایک منصوبہ بنایا کہ آج جادو گرنی بڑھیا کو پکڑ کر اس کاکام تمام کردیں گے۔
رات جب اندھیرا چھا گیا تو سب جھوٹ موٹ سونے کی اداکاری کرنے لگے، جیسے ہی سناٹے میں سر سراہٹ ہوئی سب چوکنے ہوگئے، جادوگرنی نے اپنے منصوبے کے تحت بنے ہوئے جال کے بیچ میں جیسے ہی قدم رکھا، سب جانوروں نے ملکر آواز بلند کی اور سب نے زور لگا کر جال کو اوپر کھینچ کر ہوا میں بلند کردیا۔
جادو گرنی گھبراکر چلانے لگی ’’بچاؤ بچاؤ مجھے نیچے اتارو ‘‘ گر جاؤں گی، ظالموں خدا کے واسطے نیچے اتارو، مجھے معاف کردو‘‘ شیر راجہ نے اس جال کی رسی کو ایک درخت سے باندھ کر اس سے پوچھا ،’’یہ بتاؤ کہ جب تم جانوروں کی دم کاٹتی تھیں تو انہیں پتا کیوں نہیں چلتا تھا ‘‘ ’’میں ان پر دوا چھڑ کر بے ہوش کردیتی تھی، اس کے بعد کلہاڑی کے وار سے دم کاٹ لیتی تھی‘‘ یہ کہہ کر جادوگرنی بڑھیا معافی مانگنے لگی، جنگل کے راجہ نے ایک شرط پر رہائی دینے کا وعدہ لیا کہ یہاں سے کہیں دور دراز علاقے میں چلی جاؤ آئندہ اس پہاڑی پر نظر نہ آنا‘‘ ۔
جادوگرنی نے وعدہ کیا۔ نیچے اُترتے ہی اپنی لاٹھی لئے بھاگے جارہی تھی اور کہتی جاتی تھی‘‘ میرا برسوں پرانا سارا تجربہ تباہ و برباد کردیا تم سب نے، یوں بڑھیا نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور واپس آنے کی دھمکی دے گئی۔