• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انوار آس محمد

رشید ے کے ہاتھ کہیں سے ایک طوطا کا بچہ لگ گیا وہ زخمی حالت میں تھا، رشیدے کو اُس پر ترس آگیا، وہ اُسے اپنے گھر لے آیا۔

وہ دن رات اُس طوطے کا خیال رکھتا بہت پیار سے اُسے پال رہا تھا۔ ایک دن رشیدے کی ماں نے اُس سے کہا، ’’او۔۔۔ رشیدے تو اب تک مرغا پالا کرتا تھا اب یہ طوطا کہاں سے پکڑ لایا‘‘

’’پیاری اماں، مرغے کی لڑائی تو بہت کروالی اب طوطے کی کراؤں گا، یہ میرا شیر ہے شیر‘‘ رشیدے نے خوشی سے کہا۔

’’ارے یہ کیا انوکھا تماشا سوچا تونے؟ طوطے اور مرغے کی لڑائی؟؟ ہم نے تو کبھی سنی نہ دیکھی‘‘ اماں نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔

’’اماں تیرا بیٹا بھی تو انوکھا ہے، ایسی نئی بات سوچتا ہے کہ سب حیران ہوجاتے ہیں۔ اماں باتیں بہت ہوگئیں اب کھانا کھلادے بہت بھوک لگی ہے۔ ماں بڑبڑاتے ہوئے کھانا لینے اُٹھ گئی۔

رشید ےکا شوق مرغے پالنا اور اُن کی لڑائی کروانا تھا اُسے دیوانگی کی حد تک یہ شوق تھا، اُس کی ماں اُسے منع کرتی تھی کہ جانوروں کو لڑانا اچھی بات نہیں، پر وہ اپنی ماں کی ایک نہ سنتا تھا، گرچہ ماں کی بہت خدمت کرتا تھا بات مانتا تھا پر یہ کہتا تھا کہ اماں مجھے مرغ لڑانے سے نہ روکا کر، میرا ایک ہی تو شوق ہے۔

وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اس لئے ماں بھی پیار کے ہاتھوں مجبور ہوکر چپ ہوجاتی۔ کچھ دنوں سے رشید ےکے مرغے لڑائی میں ہار رہے تھے اور اب اُس کے پاس ایک مرغا نہیں بچا تھا، سب مرغے مرچکے تھے اور نہ اُس کے پاس پیسے تھے کہ دوسرا مرغا خریدتا، اس لئے اب وہ طوطا پال رہا تھا۔ 

جب سے طوطا ملا تھا رشیدے کی تو عید ہوگئی تھی وہ طوطے کو تو یونہی اُٹھا لایا تھا پر اب اس کی نیت یہ تھی کہ اُس کی لڑائی کروائے گا اس چکر میں وہ طوطے کو خوب کھلاتا تھا۔ کبھی سیب کا مربّا، کبھی مرچیں، کبھی امرود۔

’’ رشید ےپاگل ہوگیا ہے کیا؟ یہ طوطے کو کیا کیا کھلاتا رہتا ہے؟ گھر کا سودا تو، طوطے کو مت کھلایا کر،‘‘ ایک دن رشید کی ماں نے اُس کو ڈانٹا‘‘

ارے اماں پریشان نہ ہوں، جب میرا طوطا لڑائی کا مقابلہ جیتے گا اور کالو کے مرغے کو ہرائے گا، تب مالا مال ہوجائیں گے پورے پانچ ہزار روپے ملیں گے‘‘

رشیدے نے اپنی ماں کو جواب دیا۔ جیسے کہ پانچ ہزار نہ ہوں، پانچ لاکھ ہوں۔ اُس کے لئے پانچ ہزار روپے بہت زیادہ تھے۔

اُسے اپنے طوطے سے بہت زیادہ اُمید تھی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ طوطے کی صحّت بہت اچھی ہوگئی تھی۔ وہ خوب موٹا ہوچکا تھا اُس نے اپنے طوطے کو ہر چیز کھانے کا عادی بنادیا تھا۔ 

وہ بہت بے چینی سے مقابلے کے دن کا انتظار کررہا تھا لیکن ساتھ ہی وہ چاہتا تھا کہ مقابلے کے دن آنے تک وہ طوطے کو خوب کھلا کھاکر اتنا طاقتور بنادے کہ وہ بآسانی اپنے سے دوگنا بڑے مرغے کو ہرا دے۔ رشیدا طوطے کے پنجوں پر تیل بھی لگاتا تھا۔

خدا خدا کر کے وہ دن آگیا جب رشیدے کےطوطے کا مقابلہ ایک مرغے سے ہونا تھا جب وہ میدان میں پہنچا تو وہاں لوگ جمع تھے۔ کالو بھی اپنا مرغا لے کر پہنچ گیا۔ رشید کو دیکھ کر کالو نے ہنسنا شروع کردیا اور کہا ’’رشید میرے مرغے سے تیرا یہ طوطا نہیں لڑسکتا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔ میرا مرغا اس کی تکہ بوٹی کردے گا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہاہا ہا یہ تو جوزاہے میرے مرغے کے سامنے‘‘

رشید ےکو تو اپنے طوطے پر بہت بھروسا تھا اُسے کالو کی بات ناگوار گزری اس نے کہا، کالو بڑا بول مت بول وہ تو جب مقابلہ شروع ہوگا تو پتا چلے گا کہ کیا ہوتا ہے۔‘‘

بہت سے لوگ اس انوکھے مرغا اور طوطے کا مقابلے کو دیکھنے آئے تھے۔ پھر مقابلے کا وقت بھی آن پہنچا اور کالو نے اپنا مرغا میدان

میں چھوڑ دیا وہ مسکرارہا تھا اور اُسے یقین تھا کہ اس کا مرغا ہی جیتے گا اور طوطے کی ہڈّی پھسلی ایک کردے گا۔ رشید اپنا طوطا لایا وہ طوطے کے پَر باندھ کر رکھتا تھا۔ اب جیسے ہی اس کے پَر کھولے تو وہ زخمی شیر کی طرح میدان میں اِدھر اُدھر ٹہلنے لگا۔

رشیدایہ دیکھ کر خوشی سے جھوم گیا اور کالو سے بولا، ’’دیکھ رہا ہے میرے پہلوان کی چال ڈھال آہا مزا آگیا کیا لگ رہا ہے ابھی یہ تیرے مرغے کو سبق سکھادے گا‘‘

تمام لوگ انتظار میں تھے کہ اب مرغا اور طوطا گتم گتھا ہوں گے پر ہوا یہ کہ طوطا پورے میدان کا ایک چکر لینے کے بعد اپنے پَر پھڑپھڑانے لگا۔

ہائیں یہ کیا کررہا ہے؟ رشید ےکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ پورا مجمع طوطے کی عجیب حرکتیں دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ کالو کا مرغا بھی گھڑی گھڑی اپنی پلکیں چھپکا جھپکا کے چپ چپ طوطے کو دیکھ رہا تھا۔ 

سناٹا ہر سو طاری تھا کہ نہ جانے کیا ہونے والا ہے۔ پھر جو ہوا وہ سب نے دیکھا طوطے نے ہوا میں ایک جست لگائی اور یہ جا وہ جا۔ پہلے وہ ایک اُونچے درخت پر بیٹھا پھر وہاں سے اُڑ کر کہیں غائب ہوگیا۔

ہائیں یہ کیا ہوا؟؟؟ رشیدے کا منہ کُھلا کا کُھلا رہے گیا۔

دوسری طرف کالو کا ہنس ہنس کر بُرا حال ہورہا تھا۔

’’رشید ے، تیرا شیر تو میدان چھوڑ کر بھاگ گیا، اُس نے کہا۔ پورا مجمع ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگیا۔ رشید ے کا منہ لٹکا ہوا تھا آج پہلی بار اُس نے طوطے کے پَر کھولے تھے اور وہ آزادی ملتے ہی رشید کے احسانات بھول کر جاچکا تھا۔