ریاضی میں صفر کا ہندسہ انسانی ایجاد ہے۔ قدیم زمانے میں اس کی شکل تخیلی ہوتی تھی، موجودہ زمانے کی طرح عددی (Numerical) حیثیت نہیں تھی۔ریاضی کی تعلیم میں (1,2,3,4,5,6,7,8,9) ہندسے (Digits) کہلاتے ہیں۔ ان کو عام زبان میں اعداد بھی کہتے ہیں۔ صفر ہندسہ بھی ہے اور عدد بھی ہے۔
صفر کسی ہندسہ کو نمبر بنا دیتا ہے۔ مثلاً جب یہ کسی ہندسہ کے دائیں طرف لکھا جائے تو وہ ایک نمبر بن جاتا ہے، مثلاً 50 ,40 ,30 ,20 ,10 نمبر ہیں۔ اگر صفر بائیں طرف لکھا جائے تو وہ ہندسہ، ہندسہ رہتا ہے عدد نہیں بنتا۔ صفر (0) نہ تو مثبت (Positive) ہے اور نہ ہی منفی (Negative) ہے۔
ریاضی دان براہماسپاتھا (Brahmasputha) نے صفر کے استعمال کے متعلق اصول دیے۔ اس کے علاوہ الجبرا میں جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کے اصول دیے۔ 0 کو 0 پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ منفی اعداد (Negative Numbers) کا تصور بھی اسی ریاضی دان کا دیا ہوا ہے۔
صفر کا ہندسہ ان تمام نمبروں پر حکومت کرتا ہے۔ کہنے کو تو یہ بس صفر ہے، مگر اس کی طاقت عددی نظام میں ایٹم بم سی ہے۔ ہر بڑے سے بڑے عدد کو صفر کردیتا ہے۔
کوئی بھی عدد اس کی اہمیت کو گرا کر صفر سے کم نہیں کرسکتا۔ یہ اپنی وجود اور قیمت برقرار رکھتا ہے۔ عددی نظام علم ریاضی کا زیور ہے اور صفر کے بغیر یہ نظام اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔