ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں سردی کی شدید لہر بدستور جاری ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل کمی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، خصوصاً صبح اور رات کے اوقات میں سردی کی شدت نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ سرد موسم سے بچاؤ کے لیے شہری بڑی تعداد میں گرم کپڑوں کی خریداری کی جانب راغب ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملتان کے مختلف علاقوں میں قائم لنڈا بازاروں میں استعمال شدہ گرم کپڑوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جیکٹس، سویٹرز، کوٹس، شالیں اور دیگر گرم ملبوسات کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ہی لنڈا بازار کے دکانداروں نے بھی قیمتوں میں واضح اضافہ کر دیا ہے۔ وہ گرم کپڑے جو چند روز قبل مناسب داموں دستیاب تھے، اب دوگنی قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سردی کی شدت بڑھتے ہی دکانداروں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانے نرخ مقرر کر لیے ہیں۔ لنڈا بازار میں خریداری کے لیے آنے والے صارفین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے سردی سے بچاؤ بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ جیسے ہی سردی میں اضافہ ہوتا ہے، دکاندار فوراً قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ جو کپڑے غریب لوگ خرید سکتے تھے، وہ بھی اب ان کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک اور صارف نے بتایا کہ ہم نئے کپڑے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے لنڈے کا رخ کرتے ہیں، مگر یہاں بھی جیکٹ اور سویٹر اتنے مہنگے ہو گئے ہیں کہ بچوں کے لیے خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لنڈا بازاروں اور دیگر مارکیٹوں میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری نوٹس لیا جائے، تاکہ غریب طبقہ شدید سردی میں بنیادی ضرورت یعنی گرم کپڑوں سے محروم نہ رہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سردی کے باعث بیماریاں اور مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے، قیمتوں کا تعین کرے اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔