پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں سے جس دباؤ، عدم استحکام اور غیر یقینی حالات کا شکار تھی، اب انہی حالات کے بطن سے بہتری اور بحالی کی امید افز اعلامات نمایاں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ عالمی مالیاتی اعدادو شمار اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ادارے بلوم برگ نے پاکستان سے متعلق جائزہ رپورٹ جاری کی ہے۔ جریدے کے مطابق دسمبر میں افراط زر 5 فیصد رہا جو تو قعات اور نومبر کے 6 فیصد سے کم ہے خوراک کی قیمتیں میں دباؤ کم ہوا اور غذائی افراط زر 3 فیصد تک محد و د ر ہا۔ بلوم برگ کے مطابق خوراک کی بہتر دستیابی سے مارکیٹ میں استحکام آیا اور عوامی ریلیف کے آثار نمایاں ہوئے۔ مارکیٹ اندازوں سے کم مہنگائی نے اعتماد بڑھا دیا۔ پالیسی ریٹ تقریباً 3 سال کی کم ترین سطح پر آگیا۔کم شرح سود سے کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے فنانسنگ ساز گار ہونے کی امید بڑھی اور غیر یقینی کی صورتحال میں کمی آئی۔ دوسری جانب کو ہاٹ میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور منڈیوں پر گہری نظر رکھنے والے معتبر جریدے بلوم برگ کی حالیہ رپورٹ اور ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت، دونوں ملکر اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر درست سمت میں پالیسی تسلسل برقرار ر ہا تو قومی معیشت بتدریج استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ بلوم برگ کے تجزیے کے مطابق دسمبر میں افراط زر کی شر ح توقعات سے کم رہنا محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ معاشی نظم وضبط بہتر سپلائی مینجمنٹ اور قیمتوں پر قابو پانے کی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ خصوصا خوراک کی قیمتوں میں دباؤ کا کم ہونا اس لئے اہم ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مہنگائی کا سب سے بڑا بوجھ کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے۔ غذائی افراط زر کا محد و در ہنا اس امر کا ثبوت ہے کہ زرعی پیداوار، ترسیل اور دستیابی کے نظام میں بہتری آئی ہے جس نے منڈیوں میں استحکام پیدا کیا اور صارفین کوریلیف فراہم کیا۔ اس تناظر میں پالیسی ریٹ کا تقریبا 3 سال کی کم ترین سطح پر آنا بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بلند شرح سود کے دور میں صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوتی ہے جبکہ کم شرح سود کاروباری سرگرمیوں کیلئے نئی توانائی کا باعث بنتی ہے۔ تاہم یہ امر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری اس وقت تک دیر پاثمرات نہیں دے سکتی جب تک ملک میں سیاسی استحکام میسر نہ ہو۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد، پالیسیوں کا تسلسل اور اصلاحات کامؤثر نفاذبراہ راست سیاسی ماحول سے جڑا ہوتا ہے۔ سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام نہ صرف معاشی رفتار کوسست کر دیتے ہیں بلکہ حاصل شدہ کامیابیوں کو بھی غیر محفوظ بنا دیتے ہیں لہٰذا معاشی بحالی کے اس نازک مرحلے پر سیاسی بالغ نظری، اتفاق رائے اور قومی مفاد کوذاتی یا جماعتی ترجیحات پر فوقیت دینا نا گزیر ہے۔جہاں تک کوہاٹ کے نشپا بلاک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کی بات ہے تو قومی معیشت کیلئے یہ ایک اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے بحران اور پٹرولیم مصنوعات کی در آمد پر بھاری زر مبادلہ خرچ کرنے پر مجبور رہا ہے جس سے تجارتی خسارہ اور مالی دباؤ بڑھتار ہا۔ مقامی سطح پر توانائی وسائل کی دریافت اس دباؤ کو کم کرنے کی سمت ایک عملی قدم ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے اس دریافت کو قومی ترجیحات میں شامل کرنے کا اعلان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ توانائی کے شعبے کو اب محض ہنگامی حل کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی کے تحت دیکھا جارہا ہے۔ یومیہ ہزاروں بیرل تیل کی ممکنہ پیداوار اگر چہ فوری طور پر تمام ضروریات پوری نہیں کرے گی تاہم یہ اس امر کی واضح علامت ہے کہ درست پالیسی،سر مایہ کاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے توانائی کے شعبے میں محدود کفالت کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کو بھی یقینی بنایا جائے تا کہ یہ مثبت اشارے عارضی نہ رہیں بلکہ ایک مضبوط، خود مختار اور پائیدار معیشت کی بنیاد بن سکیں۔
دوسری جانب دسمبر میں پاکستان کے تجارتی خسارے میں 24 فیصد اضافہ، برآمدات میں 20 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ، جبکہ درآمدات میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ دسمبر 2025 میں سالانہ بنیادوں پر تقریبا 23 اعشاریہ 8 فیصد بڑھ کر 2 ارب ڈالرسے اوپر پہنچ گیا۔ دسمبر 2025 میں ملک کی مصنوعات کی بیرون ملک فروخت (برآمدات) میں نمایاں کمی آئی۔ دسمبر 2025 کے دوران تجارتی خسارے میں گزشتہ برس کے اسی ماہ کے مقابلے میں تقریبا 24 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 3 اعشاریہ 7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2024 میں ملک کا تجارتی توازن، یعنی برآمدات اور در آمدات کے درمیان فرق 2 اعشاریہ 99 ارب ڈالر خسارے کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ بڑھا جس کی بنیادی وجہ در آمدات میں اضافہ اور برآمدات میں نمایاں کمی رہی۔یہ صورتحال کوئی زیادہ تسلی بخش نہیں ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی ادارہ بلوم برگ پالیسی سطح پر استحکام کی مثبت خبریں دے رہا ہے اور مہنگائی میں کمی کو سراہ رہا ہے۔ ایسے میں جب شرح سود میں کمی اور مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے اندرونی معاشی اشاریے بہتر ہور ہے ہیں، تجارتی خسارے کا بڑھنا ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم اپنی معاشی بحالی کو پائیدار بنا پا رہےہیں؟ ایسی صورت میں حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر بر آمدات بڑھانے اور درآمدات کو کنٹرول کرنے کی جامع حکمت عملی اپنائے۔ غیر ضروری درآمدات پر پابندیاں سخت کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی صنعتوں کو سہولیات فراہم کی جائیں تا کہ وہ عالمی منڈیوں میں مقابلہ کر سکیں۔