• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حوالہ ہنڈی، ویزا فراڈ اور جعلی تعلیمی اسناد پر بیرون ملک جانے میں ملوث 6 ملزمان گرفتار

کراچی( ثاقب صغیر )ایف آئی اے نے حوالہ ہنڈی ، ویزا فراڈ اور جعلی تعلیمی اسناد پر بیرون ملک جانے میں ملوث6ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے حوالہ ہنڈی میں ملوث 3ملزمان کو گرفتار کر لیا۔3ملزمان حوالہ ہنڈی ،2ویزا فراڈ پر ایک ملزم جعلی اسناد پر باہر جانے کی کوشش پر ایک گرفتار ہوا۔ حکام کے مطابق انکوائری نمبر 45/ 2026کی بنیاد پر گلشن اقبال کراچی میں واقع ایم/ ایس انفینیٹی بلڈرز کے دفتر پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران تین ملزمان محمد جمال خان، علی عرفان اور محمد اسد صدیقی کو حراست میں لیا گیا۔ملزمان اسٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر امریکی ڈالر کی خرید و فروخت اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث پائے گئے۔ملزمان کے قبضے سے 28000 امریکی ڈالر برآمد کیے گئے۔ملزمان کے قبضے سے 3 موبائل فون بھی برآمد ہوئے جن میں واٹس ایپ چیٹس کے ذریعے غیر قانونی کرنسی کی خرید و فروخت کے شواہد موجود ہیں۔تمام برآمد شدہ رقم اور دیگر شواہد کو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ملزمان کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ (FERA) کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ایف آئی اے امیگریشن نے جعلی تعلیمی اسناد پر شمالی قبرض جانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے مسافر کو آف لوڈ کر دیا۔چکوال سے تعلق رکھنے والا مسافر محمد عاصم شمالی قبرص کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا پر سفر کر رہا تھا۔امیگریشن کلیئرنس کے دوران کاؤنٹر آفیسر نے مسافر کو مزید جانچ پڑتال کے لیے جی آر او کے حوالے کیا۔مسافر کی سفری دستاویزات اور پروفائلنگ کے دوران اس کے تعلیمی کاغذات کی تفصیلی جانچ کی گئی۔مسافر کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کے سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (2010) اور ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (2012) پیش کیے گئے۔اسی طرح مسافر نے یونیورسٹی آف لاہور سے بی ایس کمپیوٹر سائنس کی ڈگری اور ٹرانسکرپٹ بھی پیش کیے۔جانچ پڑتال کے دوران مذکورہ تعلیمی دستاویزات مشکوک اور جعلی ہونے کا شبہ ظاہر ہوا۔مزید تکنیکی تصدیق کے دوران دستاویزات پر موجود وزارت خارجہ کے مبینہ تصدیقی لیبل پر درج کیو آر کوڈ ایک مشکوک اور غیر سرکاری ویب سائٹ پر ری ڈائریکٹ ہوتا پایا گیاجس سے یہ مضبوط شبہ پیدا ہوا کہ وزارت خارجہ کی تصدیق جعلی اور دھوکہ دہی سے تیار کی گئی ہے۔مزید تفتیش کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ مذکورہ تعلیمی اسناد اسلام آباد کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 2 میں واقع اے ٹی آر اے سی کنسلٹنٹ کے کنسلٹنٹ ارسلان کے ذریعے حاصل کی گئیں۔مسافر کے مطابق مذکورہ ایجنٹ کو آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے 13 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے۔مسافر نے بتایا کہ اس کا مقصد مذکورہ ایجنٹ کی مدد سے بیرون ملک مزید مواقع تلاش کرنا تھا۔مسافر کے لیپ ٹاپ کی جانچ پڑتال کے دوران مزید متعدد دستاویزات پی ڈی ایف فارمیٹ میں برآمد ہوئیں۔برآمد شدہ دستاویزات میں راولپنڈی بورڈ کے مبینہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹس بھی شامل تھے۔اسی طرح امریکا کی ایک کمپنی کی جانب سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ منیجر کے عہدے کا مبینہ سرٹیفکیٹ اور آئی ایلٹس سرٹیفکیٹ بھی برآمد ہوا۔لیپ ٹاپ سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جی میل اکاؤنٹس، پاسپورٹ سے متعلق معلومات اور مختلف یو آر ایل شیٹس بھی برآمد کی گئیں۔مذکورہ حقائق کی روشنی میں مسافر کو آف لوڈ کر دیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی کے لیے اسے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ایف آئی اے لاہور زون نے مائیگرنٹ اسمگلنگ اور ویزا فراڈ میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزمان کی شناخت سنیل جیمز اور محمد اشفاق کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ملزمان کو لاہور کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔ملزم سنیل جیمز نے شہری کو کینیڈا ورک ویزہ کا جھانسہ دے کر 86 لاکھ روپے ہتھیائے جبکہ ملزم محمد اشفاق نے شہری کو کمبوڈیا بھجوانے کے لئیے 7لاکھ روپے بٹورے۔شہری کو کمبوڈین ایمیگریشن نے جعلی ہوٹل بکنگ ہونے پر پاکستان رپورٹ کر دیا تھا ۔ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید