اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) 2026میں پاکستان کے بجلی صارفین پر 29.50کھرب روپے کا بھاری مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، جس میں19.23 کھرب روپے کپیسٹی پیمنٹس( بجلی گھروں کی اعلان کردہ بجلی پیدا کرنیکی گنجائش کے ؤبرابران سے بجلی نہ خریدے جانے پرہرجانے کے طور پرہونے والی ادائیگیاں) اور 10.23 کھرب روپے انرجی پرچیز پرائس شامل ہیں۔ ان دونوں مدات کے باعث بجلی کی قیمت پر 22.76 روپے فی یونٹ کا دباؤ پڑے گا، جبکہ دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد بنیادی بجلی ٹیرف 33.38 روپے فی یونٹ تک پہنچ جائے گا ۔ملک میں پہلے ہی گرڈ کی بجلی کی طلب کم ہورہی ہے اور لوگ سولرائزیشن پرجارہے ہیں اس طرح نیٹ میٹرنگ کا بوجھ بھی گرڈ صارفین پر آرہا ہے۔اس پس منظر میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجموعی آمدن ضرورت 3.379 کھرب روپے مقرر کی گئی ہے۔