کراچی (رفیق مانگٹ)سلیپ ایپنیا، خاموش مگر جان لیوا بیماری، ممکنہ حل کے قریب، ہارورڈ سے کیمرج تک نو برس کی تحقیق نے سلیپ ایپنیا کے علاج کا نیا باب کھول دیا، یہ دوا دماغ کو پرسکون رکھتے ہوئے گلے کو فعال رکھنے والی نیند کی پہلی گولی ہو گی،غیرملکی میڈیا، 2026 میں ایف ڈی اے منظوری، 2027 میں مارکیٹ میں دستیاب ہونے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق سلیپ ایپنیا، جو امریکا میں ہی تقریباً 8 کروڑ افراد کو متاثر کرنے والی ایک خاموش مگر جان لیوا بیماری ہے، اب اپنے سب سے بڑے ممکنہ حل کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ہارورڈ سے جنم لینے والی ایک نئی دوا، جسے کیمبرج کی بایوٹیک کمپنی اپنی میڈ تیار کر رہی ہے، پہلی بار اس مرض کے براہِ راست علاج کے لئے بطور گولی امریکی ایف ڈی اے سے منظوری کی تیاری میں ہے۔ ماہرین اسے سلیپ میڈیسن کی دنیا کی ہولی گریل قرار دے رہے ہیں۔ ’’ہولی گریل‘‘ اس ہدف یا حل کو کہا جاتا ہے جس کی تلاش طویل عرصے سے جاری ہو مگر وہ حاصل نہ ہو سکا ہو۔ یاد رہے سلیپ ایپنیا نیند کے دوران سانس کے بار بار رکنے یا بہت حد تک کم ہو جانے کی بیماری ہے، جس کے باعث جسم کو مناسب آکسیجن نہیں مل پاتی۔