اسلام آباد ( طاہر خلیل، رانا غلام قادر) صدر مملکت نے اسلام آباد مقامی حکومت تر میمی آرڈننس2026جاری کر دیا ، وفاقی دارالحکومت میں میٹروپولیٹن کارپوریشن نظام ختم، ٹاؤن کارپوریشنز قائم کیے جائینگے، اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا،ہر ٹاؤن کارپوریشن میں اتنی ہی یونین کونسلز ہوں گی جتنی وفاقی حکومت نوٹیفائی کرے گی،ہر ٹاون کارپوریشن میں ایک مئیر اور دو ڈپٹی مئیر ہوں گے۔وزارت قانون نے اس آرڈی ننس کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کردیا جس کے مطابق اس کا اطلاق فوری ہوگا،آرڈی ننس میں میٹروپولیٹین کارپوریشن کی جگہ ٹاون کارپوریشن یا ٹاؤن کارپوریشنز کاتصور دیاگیا ،سر براہ کا مطلب ٹاؤن کاروپوریشن کا مئیر یا یونین کونسل کا چئیرمین ہو گا ،مقامی حکومت کا مطلب یونین کونسل اور ٹاؤن کارپوریشن ہو گا ،حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات کے بعد ٹاؤن کارپوریشن اور یونین کونسل کی حدود میں ترمیم کرے گی۔حکومت ٹاؤن کاروپوریشن یا یونین کونسل کی حدود میں ترمیم کرے گی لیکن الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد کوئی تر میم نہیں ہوگی، حکومت وزارت داخلہ کی سفارش پر ٹاون کارپوریشن کے اندر یونین کونسلز کی تعداد میں آضافہ یا کمی کر سکتی ہے،الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی حلقہ بندی کرے گا،ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک مئیر اور دو ڈپٹی مئیر ہوں گے،ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسل کے چئیرمین بطور جنرل ممبران ہوں گے،ہر ٹاؤن کارپوریشن میں چار خواتین، ایک کسان یا ورکز ، ایک تاجر یا بزنس مین ہو گا،ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک نوجوان رکن اور ایک غیر مسلم ہو گا۔یونین کونسل کے جنرل ممبر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کےذریعے ہو گا۔یونین کونسل کے جنرل ممبر کے انتخاب کے لئے سارا یونین کونسل ملٹی ممبر وارڈ میں تبدیل کیا جائے گا۔ایک ووٹر ایک جنرل ممبر امیدوار کے لئے ووٹ ڈالے گا۔سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے نو امیدوار جنرل ممبران منتخب ہوں گے۔کامیاب ہونے والے امیدوار تیس دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت حاصل کر سکتے ہیں۔