• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائمہ کمیٹی، PTCL بورڈ ممبران و چیئرمین کو فی اجلاس 5 سے 8 ہزار ڈالر ملنے پر تحفظات

اسلام آباد (ساجد چوہدری )سینٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے پی ٹی سی ایل کے چیئرمین و بورڈ ممبران (خصوصاً سرکاری افسران ) کو ملنے والی مراعات پر سوالات اٹھا دیئے اور اس پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ،کمیٹی ارکان نے اجلاس میں بورڈ ممبران کو5 ہزار جبکہ چیئرمین کو فی اجلاس آٹھ ہزارڈالر ملنے کے انکشاف پر کہا کہ سرکار کی نوکری کرنے والے کو اجلاس میں شرکت کی اتنی رقم دینا مناسب نہیں ، وفاقی دارالحکومت میں لوگوں کا ڈیٹا تو اکٹھا کیا جا رہا ہے مگر مسئلہ تو ڈیٹا سیکورٹی کا ہے، ڈارک ویب پر کسی بھی پاکستانی کا 500 روپے میں ڈیٹا مل جائے گا،کمیٹی کو بتایا گیا کہ کرپشن اور بدعنوانی پر 271 ایف ائی اے ملازمین کو سزا دی گئی ، جس پر کمیٹی ارکان نے کہا کہ ایف آئی اے کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان ہے ، ادارہ اپنی ساکھ کھو چکا ،چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر )حفیظ الرحمٰن نے کمیٹی اجلاس میں انکشاف کیا کہ بطور چیئرمین پی ٹی اے مجھے یہ تک نہیں پتہ کس موبائل پر کتنا ٹیکس لیا جاتا ہے، پیر کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سنیٹر پلوشہ خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ لاجز کے کمیٹی روم میں ہوا ، پی ٹی سی ایل حکام نے پی ٹی سی ایل بورڈ ممبران کی مراعات اور استحقاق کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ممبر کو صرف اجلاس میں شرکت کی فیس ملتی ہے، حکومت کے چار بورڈ ممبرز ہوتے ہیں جن میں تین سیکرٹری ہیں اور ایک وفاقی وزیر اکنامک افیئر شامل ہیں ، سنیٹر سعدیہ عباسی نے سوال کیا کہ وفاقی وزیر کون ہیں جس پر بتایا گیا کہ وہ احد چیمہ ہیں جس پر سنیٹر سعدیہ عباسی نے کہا وفاقی وزیر قانون نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے اس کا سختی سے نوٹس لیا کہ یہ پیسے بند کر دیئے جائیں، وزیراعظم نے کہا تھا کوئی دس لاکھ سے زیادہ فیس نہیں لے گا، اگر کسی نے دس لاکھ سے زیادہ لیا تو وہ قومی خزانہ میں واپس کی جائے، چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کیا کسی نے اب تک رقم واپس کی ہے؟، اگر یہ سرکاری ملازمین ہیں تو اجلاس میں شرکت کے آٹھ ہزار ڈالرز کیسے لے رہے ہیں؟، جو سرکار کی نوکری کر رہا ہے اسے اجلاس میں شرکت کے آٹھ ہزار ڈالرز مناسب نہیں ہیں، مختلف وزارتوں کے ماتحت اداروں کے بورڈ ممبران ایک اجلاس کے آٹھ ہزار ڈالر کی فیس لیتے ہیں، وفاقی سیکرٹریز جو پہلے سے تنخواہ لیتے ہیں انہیں اضافی مراعات دینے کی کیا ضرورت ہے، بورڈ کے اجلاس میں شرکت کے لیے محض ایئر ٹکٹ دے دینی چاہیے، وفاقی افسران جو 4 لاکھ تنخواہ لیتے ہیں وہ بورڈ اجلاس میں شرکت کا بیس لاکھ بھی لیتے ہیں، یہ پالیسی کب بنی ہے اور اس پر کب نظر ثانی کی گئی ہے، کمیٹی کو بتایا گیا کہ پالیسی پر نظر ثانی 2025 میں کی گئی ہے، رولز میں اگر یہ لکھ دیا جائے تو مراعات ختم ہوسکتی ہیں ،تاہم پی ٹی سی ایل کی دستاویز کے مطابق پی ٹی سی ایل چیئرمین ایک اجلاس کے 8 ہزار ڈالر، ڈائریکٹرز کو فی میٹنگ 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی ہوتی ہے ، بورڈ کمیٹی کے ہر رکن کو فی اجلاس ایک ہزار ڈالر ، پی ٹی سی ایل چیئرمین کو ماہانہ اعزازیہ کے علاوہ 1300 سی سی سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کی سہولت دی گئی ہے۔ ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو غیرقانونی کال سنٹرز کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی کال سینیٹرز پر این سی سی آئی اے افسران کے چھاپوں اور ملی بھگت کے ساتھ معاملات نمٹانے پر 13 ملزمان کیخلاف ایف آئی آر دی گئی ہے، ان 13 لوگوں نے مختلف کال سنٹرز سے بھتہ لیا ہے، ایک سب انسپکٹر سے لاکھوں روپے کی ریکوری کی ہے، سنیٹر پرویز رشید نے کہا ایف آئی اے کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان ہے، چیئرپرسن کمیٹی نے کہا ایف آئی اے بطور ادارہ اپنی ساکھ کھو چکا ہے، ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ رواں مالی سال ایف آئی اے میں اندرونی طور پر 271 لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔
اہم خبریں سے مزید