اسلام آباد (محمد صالح ظافر/ خصوصی تجزیہ نگار) سہیل آفریدی نے افغانستان الزامات سے بری کردیا،پاکستان میں اس نوع کی ملک دشمن بات آج تک کسی پاکستانی نے نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے اور اس ملک میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دے کر ان کی پرورش کرنے کے الزامات سے بری کردیا ہے، ان میں ٹی ٹی پی اور داعش بھی شامل ہے، جنہیں اقوام متحدہ نے بھی دہشت گرد تنظیمیں تسلیم کر رکھا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی حکومت سے شہادتیں مانگی ہیں، جن سے ثابت ہوسکے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی مرتکب ٹی ٹی پی ہی افغانستان کی زمین استعمال کررہی ہے یا وہ وہاں موجود خارجہ امور کے مبصرین نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو ایسا تجاہل عارفانہ قرار دیا ہے، جس میں وہ قومی مجرم ثابت ہوتے ہیں، گزشتہ سال بھارت کے سرکاری ماہرین ہوبہو ایسی گفتگو پاکستان کے بارے میں کرچکے ہیں۔ سہیل آفریدی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ علاقائی اور عالمی امور میں ان کی تعلیم واجبی تھی نہیں، پاکستان میں اس نوع کی ملک دشمن بات آج تک کسی پاکستانی یا خیبر پختونخوا میں رہنے والے کسی شخص نے نہیں کی۔ سہیل نے پیر کو کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کئی غیر ذمہ دارانہ باتیں کی ہیں،۔ مبصرین نے کہا ہے کہ وزیرعلیٰ کو بریف رہنے والے نہیں، یہ بات کہلواکر اس کی جہالت کو آشکار کرادیا ہے، افغانستان کا کوئی پڑوسی ملک بشمول چین، تاجکستان و ترکمانستان اور ایران اس شر سے محفوظ نہیں ہے، یہ ممالک آئے روز کابل سے اس بارے احتجاج کرتے رہتے ہیں یا اس کی سرزمین کے سراسر ناجائز اور غلط استعمال کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔ مبصرین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے ارکان کو اپنے وزیراعلیٰ کی اس گفتگو پر ان کی گوشمالی کرنا چاہیے اور اس سے معافی منگوانا چاہیے، عالمی اداروں کی رپورٹس کے علی الرغم انہوں نے افغانستان کو کلین چٹ دے دی ہے، حالانکہ یہ ادارے ثبوتوں کے ساتھ پاکستان میں افغانستان کی نہ صف مداخلت بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے منظم گروہوں کی افغانستان میں موجودگی کی متعدد مرتبہ نشاندہی کرچکے ہیں۔