• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ولی بابر قتل کیس، 15 سال میں بھی منطقی انجام کو نہ پہنچ سکا

کراچی (افضل ندیم ڈوگر) جیو نیوز سے وابستہ رپورٹر ولی خان بابر کے قتل کو 15سال گزر گئے۔ کیس ابھی تک منقطی انجام کو نہیں پہنچ سکا۔ انصاف کے حصول کی کوششوں میں6گواہوں سمیت 9متعلقین قتل کیے جا چکے ہیں۔ ولی خان بابر کو 13جنوری 2011کی رات کراچی میں دفتر سے گھر جاتے ہوئے لیاقت آباد سپر مارکیٹ کے سامنے کار پر اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سال 2014 میں مقدمے میں مرکزی کردار فیصل موٹا، سید محمد علی رضوی، شاہ رخ عرف مانی، نوید عرف پولکا اور شکیل عرف ملک کو سزائے موت سنائی تھی۔ مرکزی کردار فیصل موٹا سمیت کئی ملزمان کو 2015 میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا۔ مفروری میں سزا پانے والے فیصل موٹا کی اپیل پر یہ مقدمہ اب دوبارہ زیر سماعت ہے۔ ولی بابر کے قتل میں ملوث گاڑی کے ایم سی کے افسر لیاقت علی کی تھی۔

اہم خبریں سے مزید