برطانیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنا مشکل بنا دیا گیا۔
ہوم آفس کے مطابق لیبر پارٹی کے دور میں نیل بارز، کار واش، باربرز اور ٹیک اوے پر چھاپے 77 فیصد بڑھ گئے اور غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کی گرفتاریاں بھی 83 فیصد بڑھ گئیں۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اب تک 12 ہزار 300 گرفتاریاں ہوئیں اور 1700 سے زائد افراد کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا کہ حکومت ڈیجیٹل آئی ڈی متعارف کروانے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے، ڈیجیٹل آئی ڈی ملازمت کے حصول کے لیے لازمی ہوگی۔
ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے کہا کہ غیرقانونی طور پر کام کرنے کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔
دوسری جانب، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ غیرقانونی ملازمت کے مواقع لوگوں کو سمندری راستے سے برطانیہ آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
کنزرویٹو شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کی حکومت کی نرمی سے غیر قانونی طور پر کام عروج پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا جب تک غیر قانونی طور پر آنے والے لوگ ملک میں کام کر سکتے ہیں، کما سکتے ہیں اور رہ سکتے ہیں تب تک سمگلرز کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا بہت آسان ہے۔