• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خاران واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کا کوئی نظریہ نہیں، وزیراعلی بلوچستان

کوئٹہ (اے پی پی) وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خاران واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کا کوئی نظریہ نہیں بلکہ ان کا مقصد عام بلوچوں کو لوٹنا تھاجن کے پیسے بینکوں میں جمع تھے، بلوچستان میں دہشتگردی کیخلاف ریاستی رِٹ موثر انداز میں قائم ہے، خاران واقعہ میں 20 دہشتگرد شہر میں داخل ہوئے، چند منٹوں میں بنک سے 34 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوئے، 12دہشت گرد مار دیئے، اگست 2025 کے بعد سے دہشتگردی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور بلوچستان کی کوئی قومی شاہراہ سات منٹ کیلئے بھی بند نہیں ہوئی، سیکورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور ردعمل دیکر دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنائے اور آئندہ بھی ہر دہشت گردانہ کارروائی کا سخت جواب دیا جائیگا، بلوچستان میں پاکستان کا نظریہ مضبوط اور روشن ہے، انسانی جان کی اہمیت ہر چیز سے بڑھ کر ہے اور ریاست دشمن عناصر کیخلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو وزیراعلی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر بھی موجود تھے۔ میرسرفرازبگٹی نے کہا کہ خاران واقعہ میں 15 سے 20 دہشتگرد مختلف راستوں سے شہر میں داخل ہوئے اور ان کا نشانہ بینک تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ کون سا نظریہ ہے جس کے نام پر عام بلوچوں کو دہشت میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید