واشنگٹن ( جنگ نیوز) ٹرمپ نے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما سے نوبیل میڈل قبول کر لیا۔ ماچادو کی ٹرمپ سے اہم ملاقات، اقدام کو وینزویلا عوام کی آزادی کیلئے کوششوں کا اعتراف قرار دیا۔نوبیل ادارے کا کہنا ہے کہ انعام قانونی طور پر ناقابلِ منتقلی ہے، امریکی صدر نے بطور یادگاری علامت قبول کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبیل میڈل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کر دیا، جسے ٹرمپ نے بطور یادگاری علامت قبول کر لیا، تاہم ناروے کے نوبیل ادارے کے مطابق انعام قانونی طور پر ماچادو ہی کا رہے گا اور منتقل نہیں ہو سکتا۔ ماچادو نے اس اقدام کو وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا اعتراف قرار دیا، جب کہ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسے باہمی احترام کی علامت کہا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا نے حال ہی میں نکولس مادورو کو حراست میں لیا، مگر ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں فوری جمہوری تبدیلی کے بجائے وہاں کے تیل تک امریکی رسائی کو ترجیح دے رہی ہے، حتیٰ کہ صدر ٹرمپ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کی تعریف بھی کر چکے ہیں، جس پر امریکی سینیٹرز سمیت کئی حلقوں نے شکوک و خدشات کا اظہار کیا ہے۔