اسلام آباد (فخر درانی) خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کیلئے دو انتہائی مہنگی، بی سیون سطح کی ۜلیکسز 600؍ بکتر بند لگژری گاڑیاں خریدنے جا رہی ہے۔ ہر گاڑی کی متوقع قیمت 15؍ سے 20؍ کروڑ روپے کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان نے پہلے کہا مہنگی گاڑیاں خریدنے کا ارادہ نہیں، ٹینڈر دستاویز بھیجی تو جواب نہیں دیا، دی نیوز، ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دسمبر 2025ء میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ اور سکیورٹی آلات فراہم کیے تھے۔ اس سے قبل صوبائی کابینہ پشاور ہائی کورٹ کے ججوں کیلئے بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دے چکی تھی، جس کے بعد اب ان گاڑیوں کی خریداری کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردہ ٹینڈر دستاویزات کے مطابق دو انتہائی مہنگی لگژری گاڑیوں کیلئے بولیاں طلب کی گئی ہیں، جن کی تفصیلی تکنیکی خصوصیات بھی درج ہیں۔ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 4؍ فروری 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ یہ گاڑیاں پشاور ہائی کورٹ کے سرکاری پول میں شامل کی جائیں گی۔ قواعد کے مطابق عام طور پر ہائی کورٹ کے ججوں کو 1800؍ سی سی تک کی دو گاڑیوں کی سہولت حاصل ہوتی ہے، تاہم روایت کے مطابق چیف جسٹس لگژری گاڑیاں استعمال کرتے رہے ہیں۔ موجودہ اور سابقہ دونوں چیف جسٹس بکتر بند وی ایٹ لگژری گاڑیاں استعمال کرتے رہے ہیں۔ نئی دو لیکسس ایل ایکس 600 بی سیون بکتر بند گاڑیوں کی شمولیت کے بعد توقع ہے کہ اس وقت استعمال ہونے والی پرانی لگژری گاڑی کو سرکاری پول سے واپس لے لیا جائے گا یا ناقابلِ استعمال قرار دے دیا جائے گا۔ اس نمائندے نے ٹینڈر کی تصدیق اور پرانی گاڑیوں کے مستقبل سے متعلق معلومات کیلئے پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس سے رابطہ کیا، تاہم، کہا گیا کہ پی آر او سے رابطہ کریں۔ پشاور ہائی کورٹ کے پی آر او نے بتایا کہ یہ گاڑیاں پول گاڑیاں ہوں گی اور حساس اضلاع میں دوروں اور عدالتی کارروائیوں کیلئے استعمال کی جائیں گی، جبکہ پرانی گاڑیاں حکومت کو واپس کر دی جائیں گی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نئی گاڑیاں صرف اعلیٰ خطرات والے علاقوں میں عدالتی فرائض کیلئے مختص ہوں گی۔ واضح رہے کہ لیکسس ایل ایکس 600 بی سیون بکتر بند گاڑیاں عام شہریوں کیلئے دستیاب بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں سب سے اعلیٰ درجے کی تصور کی جاتی ہیں، جو آرمر پیئر سنگ رائفل گولیوں، دستی بموں کے دھماکوں اور نیچے سے ہونے والے دھماکوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ گاڑی پہلے بطور عام لگژری ایس یو وی درآمد کی جاتی ہے، جس کے بعد اسے بین الاقوامی ماہر کمپنیوں کے ذریعے بکتر بند بنایا جاتا ہے، جس سے اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لگژری بکتر بند گاڑیوں سے متعلق مختلف ویب سائٹس کے مطابق پاکستان میں 2026ء ماڈل لیکسس ایل ایکس 600 الٹرا لگژری کی قیمت بغیر بکتر بند بندوبست کے تقریباً 12؍ کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ بکتر بند بنانے سے اس کی قیمت بڑھ کر 15؍ سے 20؍ کروڑ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے سرکاری ترجمان شفیع جان نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں ایک سمری زیر بحث آئی تھی، تاہم صوبائی کابینہ نے صرف چھوٹی لگژری گاڑیوں کی منظوری دی ہے۔ ان کے بقول حکومت کا کسی بڑے یا انتہائی مہنگے لگژری گاڑیوں کی خریداری کا کوئی ارادہ نہیں، حتیٰ کہ وزرا بھی عام جاپانی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ ترجمان نے ٹینڈر کی کاپی فراہم کرنے کو کہا تاکہ اس کی تصدیق کی جا سکے اور وعدہ کیا کہ وہ جواب دیں گے، تاہم دستاویز موصول ہونے کے بعد ان کی جانب سے مزید کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔