ہماری صبحوں کو روشن کرنے اور ہمیں پورا دن توانا رکھنے کے علاوہ بھی کافی کے کئی طبی فوائد سامنے آئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کافی میں موجود کیفین (جسے اردو میں قہوین بھی کہا جاتا ہے) کی موجودگی نہ صرف جسمانی چستی اور قلیل مدتی یادداشت کو بہتر بناتی ہے بلکہ طویل مدت میں اس کے دماغ کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔(کیفین یا قہوین، سفید قلمی یا نامیاتی اساس ہے جو کافی سے حاصل کیا جاتا ہے)۔
اس سے پہلے، کافی کے بارے میں یہ بھی کہا جاچکا ہے کہ یہ ڈیمینشیا (Dementia) اور پارکنسنز (Parkinson's)کی بیماری کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ اب سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سائنسی تحقیق کی روشنی وہ یہ بتاسکتے ہیں کہ کافی ان بیماریوں کے خطرات کو کیسے کم کرتی ہے۔
Proceedings of the National Academy of Sciences جرنل کے حالیہ شمارے میں ایک تحقیق شائع کی گئی ہے۔ یہ تحقیق Rutgers Robert Wood Johnson School of Medicineکے سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی ہے۔ یہ تجربہ چوہوں پر کیا گیا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’کافی بینز‘ (Coffee Beans) میں پایا جانے والا ایک فیٹی ایسڈ (Fatty Acid)جسے Eicosanoyl-5-hydroxytryptamide (EHT) کہا جاتا ہے، چوہوں کے دماغ کو بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ کافی بینز میں موجود یہ فیٹی ایسڈ (EHT)، پارکنسنز اور ڈیمینشیا بیماری کا باعث بننے والے نقصان دہ پروٹینز کو دماغ اور جسم کے دیگر حصوں میں جمع ہونے سے روکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ EHTنامی فیٹی ایسڈ کافی بینز کے چھلکوں میں پایا جاتا ہے، جسے اکثر کافی بناتے وقت علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ اب سائنسدان اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ EHT اور کافی کی خوراک کس مقدار میں لی جانی چاہیے کہ وہ انسانوں کے لیے مؤثر ہوگی۔
تحقیق صرف یہیں تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ، تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف کیفین اور EHTہی کافی میں شامل وہ مرکبات نہیں، جو انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
کافی تیار کرنے کے لیے جب اسے پکایا جاتا ہے تو اس دوران بھی ایک کیمیائی مرکب تیار ہوتا ہے۔ اس مرکب کا نام Phenylindanesہے۔ یہ کیمیائی مرکب دماغ کو تباہ یا نقصان پہنچانے والی بیماری بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں، سائنسدان کہتے ہیں کہ جتنی زیادہ ڈارک کافی پی جائے گی، ہر کپ میں مدافعتی مرکبات اتنے ہی زیادہ موجود ہونگے۔
اس حوالے سے ایک اور تحقیق Frontiers in Neuroscience نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ یہ تحقیق ٹورنٹو کے Krembil Brain Institute کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ’اسٹار بکس‘ کے تین نمونوں کا تجزیہ کیا ہے۔ لائٹ روسٹ، ڈارک روسٹ اور ڈی کیفینیٹڈ ڈارک روسٹ۔ اس کے بعد انھوں نے ہر نمونے کے ارک (Extract)کی دو اقسام کے پروٹینز Amyloid Betaاور Tauکے ساتھ آمیزش کی۔
یہ دونوں پروٹینز بالترتیب الزائمرز اور پارکنسنز کی بیماریوں کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جیسے جیسے یہ بیماریاں بڑھتی ہیں، یہ پروٹینز دماغ میں کسی تودے کی مانند جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں، جنھیں طب کی زبان میں Amyloid Plaquesاور Tau Protein Tanglesکہا جاتا ہے۔
اس تحقیق کی روشنی میں سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کافی کے تینوں نمونوں نے ان پروٹینز کو دماغ میں جمع ہونے سے روکا، جس کے بعد اب امید کی جارہی ہے کہ دنیا کے کئی لوگوں کا پسندیدہ ’مارننگ ڈرنک‘ دراصل انسان کو کئی طبی حالتوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
اس تحقیق میں غور طلب بات یہ ہے کہ سائنسدانوں نے کافی کے تینوں نمونوں کے ڈیمینشیا اور پارکنسنز کی بیماریوں کے خلاف مؤثر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مادہ درحقیقت ’کیفین‘ نہیں ہے، جو انسان کے لیے ان فوائد کا باعث ہے۔
البتہ، تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے کافی کے زیادہ ڈارک نمونوں کو زیادہ مؤثر پایا۔ اس مشاہدے کی روشنی میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کافی کے کم یا زیادہ مؤثر ہونے کا تعلق درحقیقت اسے پکانے کے عمل کے دوران پیدا ہونے والے کیمیائی مرکب Phenylindanesسے ہے۔ یہ کیمیائی مرکب کافی میں کڑوا ذائقہ پیدا کرتا ہے۔
Phenylindanes نامی کیمیائی مرکب کافی کے ان اقسام میں زیادہ پایا جاتا ہے، جنھیں زیادہ دیر پکایا جاتا ہے جیسے ’ڈارک روسٹ‘ اور ’ایسپریسو‘۔ زیادہ پکانے کے عمل کے دوران کافی میں وہ کیمیائی مرکبات پیدا ہوتے ہیں، جو عمومی دورانیہ تک پکائی گئی کافی میں نہیں پائے جاتے۔
لیبارٹری ریسرچ میں سائنسدانوں کو مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کافی میں پایا جانے والا Phenylindanes، واحد مرکب ہے، جو دونوں طرح کے پروٹینز Amyloid(ڈیمینشیا کا باعث) اور Tau(پارکنسنز کا باعث)کے خلاف مدافعت رکھتا ہے۔
ان دونوں پروٹینز میں یہ Tauکے خلاف نسبتاً اور زیادہ مزاحمت کی طاقت رکھتا ہے۔ تحقیق کا یہ وہ پہلو ہے، جس کی روشنی میں سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کافی میں پایا جانے والا Phenylindanesہی وہ مرکب ہے جو ہمیں ڈیمینشیا اور پارکنسنز کی بیماری سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈی کیفینیٹڈ (Decafeinated) کافی پینے والے افراد کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ کافی کو ڈی کیفینیٹ، پکانے کے عمل سے پہلے کیا جاتا ہے، اس لیے سائنسدان سمجھتے ہیں کہ اس کا Phenylindanesمرکبات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہ ابھی ابتدائی تحقیق ہے۔ سائنسدان ابھی یہ معلوم نہیں کرسکے کہ یہ مرکبات کس طرح اور کیونکر انسانی جسم میں اثر دِکھاتے ہیں؟ تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ایک قابلِ ذکر سائنسی تحقیق ہے، جس کی بنیاد پر اس تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ دماغ کو صحت مند رکھنے کا سب سے بہترین راز صحت مند غذا کھانے، باقاعدہ ایکسرسائز کرنے اور وافر مقدار میں نیند لینے میں پوشیدہ ہے۔ ایسے میں اگر کافی کا ایک کپ روزانہ اپنے پلان میں شامل کرلیا جائے تو یقیناً یہ دماغی صحت میں مزید بہتری کا باعث ہوگا۔