• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسم سرما میں صحت کے مسائل اور احتیاط

سردی کا موسم آتے ہی جہاں ٹھنڈی ہواؤں، چھوٹے دنوں اور لمبی راتوں سے لُطف اُٹھایا جاتا ہے، وہیں لوگوں کو مناسب احتیاط نہ کرنے پر صحت کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موسم کے مضر اثرات سے خود کو بچانا بہت ضروری ہے۔ یوں تو سردی کا موسم بہت لُطف دیتا ہے، لیکن اگر اس سے پوری طرح حفاظت نہ کی جائے توکئی طرح کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ سردی میں بہت زیادہ باہر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنی صحت کا خیال رکھا جائے۔ موسم کی تبدیلی میں آپ جتنی احتیاط کریں گے، اتنا ہی زیادہ فائدے میں رہیں گے۔

سر درد

سردی کے موسم کا سر درد کوئی عام درد نہیں ہوتا۔ اس سے آنکھوں میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے اور عام کام کاج میں بھی مشکل ہوتی ہے۔ اس صورت میں گھر سے باہر نکلنا اور لوگوں سے ملنا جلنا مشکل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر لوگ مایوسی کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

عام طور پر یہ درد ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ باہر کا ٹھنڈا موسم دماغ کو جما دیتا ہے اور سردرد کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سر اور کانوں کو ٹھنڈ سے بچا نے کے لیے ٹوپا اور مفلر پہنا جائے۔

ناک اور آنکھوں میں پانی آنا

سردی کے موسم میں خشکی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ خشک ہو امیں سانس لینے سے پھیپھڑے اور سانس لینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ان مسائل سے بچنے کے لیے ہوا میں نمی کو بڑھانے کی کوشش کرنا چاہیے۔

جہاں آنکھوں کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے نمی ضروری ہے، وہیں زیادہ نمی بھی آنکھوں میں پانی اور سوزش کا باعث بنتی ہے۔ لہٰذا پریشان ہونے اور فوری طور پر دوائیں لینے کے بجائے احتیاط کریں اور ٹھنڈی ہوا سے بچیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خود ہی صحیح ہو جائے گا۔

سانس لینے میں پریشانی ہونا

خشک اور ٹھنڈی ہو ا آپ کے پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ ہے۔یہ خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے، جن کے پھیپھڑے کمزور ہوں یا کسی قسم کے مسائل کا شکار ہوں۔ سردی کے موسم میں سینہ جکڑنا، کھانسی یا سانس لینے میں پریشانی ہونا عام شکایت ہے۔ کھانسی یا سینے کی جکڑن کسی بھی موسم میں ہوسکتی ہے لیکن سردیوں میں یہ خاص طور پر شدت اختیار کرلیتی ہے۔

کیلوری جلانے کا مسئلہ

اگر آپ سخت ورزش کرنے والے ہیں تو آپ چہل قدمی اور جوگنگ سے کبھی مطمئن نہیں ہونگے۔ سردی میں جم جانا اور ورزش کرنا خاصہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی موسم کی وجہ سے ورزش نہ کرنا تو کوئی بات نہیں۔

بلاشبہ اگر آپ سردی میں اپنا ورزش کا روٹین جاری رکھیں گے تو نہ صرف آپ کو حرارت ملے گی بلکہ آپ کا میٹا بولزم بھی تیز ہوگا اور وزن بھی تیزی سے کم ہوگا۔سردی میں آپ جتنی کوشش کریں گے اتنی ہی کیلوریز جلیں گی۔ لہٰذا سردی میں ورزش ترک کرنے کے بجائے، پسینہ لانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں اس طرح زیادہ کیلوریز جلیں گی۔

جسم میں کپکپی طاری ہونا

یہ ضروری نہیں کہ آپ سخت سردی میں باہر نکلیں گے تو تب ہی آپ کو کپکپی طاری ہوگی۔ سردی زیادہ ہو تو یہ صورت حال گھر میں رہتے ہوئے بھی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کو اچانک کپکپی طاری ہو جائے تو اپنا جسم اچھی طرح ڈھانک لیں اور اندرونی گرمائی پہنچانے کے لئے تھوڑی سی گرم کافی پی لیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے جسم میں کپکپی کی وجہ جسم کوگرم کرنے کے لئے مسلز کا تیزی سے حرکت کرناہے۔ لہٰذا پریشان ہونے کے بجائے ہلکی پھلکی ورزش یا کوئی گرم چیز پی لیں تاکہ جسم کا درجہ حرارت متوازن ہوجائے۔ صحیح وقت پر مناسب اقدام کرنا ہی سب سے اہم ہے۔

جوڑوں اور پٹھوں میں درد

سرد موسم میں بعض لوگوں کو بالعموم اور بزرگوں کو بالخصوص جوڑوں اور پٹھوں میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ اس موسم میں پُرانی چوٹوں کے درد بھی زندہ ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ، ٹھنڈک کی وجہ سے جسم میں سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے جو اکڑاؤ کا باعث بنتا ہے۔

اس سے جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور درد شروع ہوجاتا ہے۔ اس کیفیت کو طبی طور پر روماٹزم (rheumatism) کہتے ہیں۔ اس تکلیف میں مبتلا افراد کو چاہیے کہ اپنے جسم کو ذرابہتر طور پر گرم رکھیں تاکہ خون کے بہاؤ میں بہتری آئے۔

جِلدی خارش اورچُبھن

سردیوں میں پانی کم پینے‘زیادہ موٹے اور ہوابند کپڑے پہننے اور گیس ہیٹر کا زیادہ استعمال کرنے سے بہت سے جِلدی مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اگر ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو تو انسانی جلد خشک ہوجاتی ہے جس سے خارش پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح کے اثرات بچوں اور بزرگوں میں زیادہ دِکھائی دیتے ہیں۔ 

اسی طرح جو لوگ زیادہ گرم پانی سے نہاتے ہیں‘ انھیں بھی جلد خشک ہونے کی وجہ سے خارش اور چبھن محسوس ہوتی ہے۔ اس مسئلے سے محفوظ رہنے کے لیے صابن کے استعمال میں کمی اور اُون کے بجائے کاٹن کے کپڑے پہننے چاہئیں، جبکہ نہانے کے بعد جسم پر تیل یا لوشن بھی لگانا چاہیے۔

صحت سے مزید