• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کے نوجوان پہلے کے مقابلے میں زیادہ باشعور ہیں۔ وہ ہر شعبے میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں، مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ انہیں بے شمار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی ناکافی وسائل، کبھی کمزور نظام، کبھی مواقع کی کمی، تو کبھی رہنمائی کا فقدان۔ 

اس کے باوجود بہت سے نوجوان ایسے بھی ہیں، جنہوں نے اپنے حوصلے اور اپنی محنت پر بھروسہ کیا، کوئی چھوٹے سے گاؤں میں بیٹھ کر عالمی سطح کے مقابلے جیت لیتا ہے، تو کوئی چھوٹی سی ورکشاپ میں مشینیں بناتا ہوا دنیا کو حیران کردیتا ہے، کوئی ایک چھوٹے سے گھر میں بیٹھ کر ایسی ایپ بنادیتا ہے جو دوسرے ملکوں میں استعمال ہوتی ہے۔ 

یہ سب اس بات کی علامات ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کو جب بھی موقع ملتا ہے، وہ کمال کر دکھاتے ہیں لیکن مسئلہ صرف اتنا ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں وہ پلیٹ فارم میسر نہیں جو ان کے خوابوں کو حقیقت بناسکے۔ تعلیم مہنگی ہو تو نوجوان پیچھے رہ جاتے ہیں، روزگار کم ہو تو ہمت ٹوٹ جاتی ہے، سفارشی نظام غالب ہو تو صلاحیت دب جاتی ہے، رہنمائی نہ ہو تو راستے دھندلاجاتے ہیں، اس کے باوجود، وہ جدوجہد اور امید کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

آج پاکستان ایسے ہی ایک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ’’ہمارا نوجوان اپنے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے کیا کررہا ہے؟‘‘ یہ سوال محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کی سمت متعین کرنے والی سوچ ہے، ایک راستہ ہے جو نوجوانوں کو خود شناسی، خوداعتمادی، ذمہ داری اور مقصدیت کی طرف لے جاتا ہے۔ ان کا مستقبل نہ ستاروں میں لکھا ہے، نہ قسمت کے سہارے بلکہ ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ یہ سوال ہم نے کچھ نوجوانوں سے پوچھا اور چند اساتذہ سے بھی رائے لی، انہوں نے جو جوابات دیے وہ نظر قارئین ہیں۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی طالبہ حورین عامر مینجمنٹ سائنس آف اکنامکس کے شعبہ میں زیر تعلیم ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’ ایک طالب علم کے پاس ایسے بہت سے مواقع ہوتے ہیں، کہ وہ اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل کے لیے کچھ کرسکیں، مستقبل صرف حکومت کے ہاتھ میں نہیں بلکہ طلباء کے کردار سے بھی جڑا ہوا ہے۔

یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی تعلیم کے ذریعے ملکی معیشت کے حقیقی مسائل کو سمجھوں، اس کے لیے سب سے پہلے تحقیق اور ڈیٹا کے ذریعے یہ جانوں گی کہ مضبوط نظام کیسے استوارا ہوسکتا ہے۔ میں مینجمنٹ سائنس کی طالبہ ہوں، اس لیے میں ملک کے مستقبل کو جذبات کی نظر سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی اوروسائل کے درست استعمال اور معاشی حقائق پر دیکھتی ہوں۔ 

مستقبل میں ایسی پالیسیزپر کام کرنا چاہتی ہوں جس سے میرا ملک ترقی کرے۔ میں چاہتی ہوں کہ اپنے ملک کی تقدیر کو صرف دیکھوں نہیں بلکہ سمجھوں، تجزیہ کروں اور بہتر بنانے میں حصہ لوں، میں یہی کچھ سیکھ رہی ہوں تاکہ کل ذمہ داری اٹھا سکوں۔‘‘

٭……٭……٭

سید عارز احمد، گورنمنٹ ڈگری کالج، گلستان جوہر میں سیکنڈ ایئر کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’’ صرف پڑھنا اور امتحان پاس کرنا کافی نہیں ہے۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں میرا رجحان ہے، ساتھ ہی جدید مہارتیں بھی سیکھ رہا ہوں، یہ نہ صرف میری زندگی میں مواقع پیدا کریں گے بلکہ ان سے ملک کو بھی فائدہ پہنچاسکتا ہوں۔ 

اگر میں پروگرامنگ، سافٹ ویئر، ڈویلپمنٹ اور ڈیٹا اسٹریکچر پر عبور حاصل کرلوں تو میں ملک کے مسائل کا حل ڈیجیٹل طریقے سے پیش کروں گا، میری ایسی اپیلیکیشن سافٹ ویئرز بنانے کے خواہش ہے، جس سے ملکی مسائل کو بہترین طریقے سے حل کیا جاسکے۔ میں پاکستان کو ڈیجیٹل طور پر مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ضرور ڈالوں گا، یہ میرا عزم ہے۔‘‘

دانش اسلم مقامی تعلیمی ادارے میں شعبہ ماس کمیونیکیشن، فائنل ایئر کے طالب علم ہیں، انہوں نے کہا، ہمارے فیصلے آنے والے برسوں کی سمت طے کریں گے۔ اچھے اخلاق اور مثبت رویہ اپنانا میری ذمہ داری ہے کیونکہ اسی سے معاشرہ اور ملک مضبوط ہوتا ہے۔ 

 میں اپنے شعبہ کی مناسبت سے صرف اسائنمنٹ بنانے تک محدود نہیں رہوں گا بلکہ پاکستان کی تاریخ، ثقافت اواس کی خو ب صورتی دنیا کے سامنے لانے کے لیے ڈاکومنٹریز بناؤں گا۔ میں ریسرچ اور تجزیہ کروں گا کہ ہمارے ملک کے لوگ بہتر زندگی کیسے گزار سکتے ہیں، میں ویڈیوز، رپورٹ اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کے ذریعے لوگوں کو صحیح معلومات فراہم کروں گا، بس یہی سوچ کر میں ہر دن کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

٭……٭……٭

تنزیلہ جناح یونیورسٹی فار وومن میں شعبہ اسلامک لرننگ کی طالبہ ہیں وہ کہتی ہیں، کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایک اسلامی ملک میں رہتی ہوں جو اسلامی نظریے پر قائم ہوا تھا، اس لیےہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دین کو صحیح معنوں میں سمجھیں، اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں۔ 

میں سمجھتی ہوں کہ اگر مجھے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے کچھ کرنا ہے تو سب سے پہلے مجھے خود کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ صرف کتابیں پڑھ لینا کافی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ میرا کردار ایسا ہو کہ لوگ دین کو میرے عمل سے پہچانیں، لفظوں سے نہیں۔

میں کوشش کرتی ہوں کہ سچ بولوں، ایمانداری اختیار کروں اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کروں۔ اگر میں اپنی ذمہ داری پوری کروں تو یہ بھی ملک کے لیے خدمت ہے، کیونکہ ایک ذمہ دار شہری ہی مضبوط قوم بناتا ہے۔ آج بہت سے لڑکے لڑکیاں مایوسی، غصے اور الجھن کا شکار ہیں۔ میں انہیں یہ بتا سکتی ہوں کہ اسلام ہمیں زندگی سے بھاگنا نہیں سکھاتا بلکہ ہمت، صبر اور محنت کے ساتھ آگے بڑھنا سکھاتا ہے۔

میں سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اسے اچھے کام کے لیے استعمال کر کرتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ اپنے ملک کے لوگوں میں دینی تعلیم اور آگہی پھیلاؤں۔ میں اپنے علم کو عمل میں لاؤں گی اور سوشل میڈیا کے ذریعے قرآن و حدیث کی تعلیم دوں گی۔ چھوٹی سی پوسٹ، ایک مختصر ویڈیو یا کسی سوال کا سادہ جواب بھی کسی کی سوچ بدل سکتا ہے۔ 

کسی بچے کو پڑھا دینا، کسی غریب کی مدد کرنا، آگاہی دینا یہ سب اسلام کا عملی پیغام ہیں، اور یہی وہ چیزیں ہیں جن سے ملک مضبوط ہوتا ہے۔میری یہ کوشش معاشرتی بگاڑ، بداعتمادی اور بدعنوانی کے خلاف خاموش مگر طاقتور جدوجہد ہو گی۔ میری عملی اور دینی تعلیم سے چند نوجوانوں نے بھی اصلاح حاصل کرلی تو سمجھوں گی کہ میں نے بھی اپنے اسلامی ملک کی بہتری کے لیے تھوڑا بہت حصہ ڈال دیا ہے۔

٭……٭……٭

عبدالرافع، ہمدرد یونیورسٹی میں فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بی ایس فائنل کے طالب علم ہیں، ان کا جواب ہے کہ ’’میرے لیے یہ شعبہ محض ڈگری لینا نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہماری غذائیں خالص نہ ہوں، خوراک کی پروسیسنگ جدید نہ ہو، غذائی قلت ختم نہ ہو اور فوڈ سیفٹی کو قومی ترجیح نہ بنایا جائے۔ خوراک کو محفوظ بنانے کے جدید طریقوں پر کام کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ 

پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن زرعی پیداوار، سبزیاں اور پھل مناسب اسٹوریج اور پروسیسنگ نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ دیہاتوں اور شہروں میں جدید Preservation کے طریقے جیسے dehydration, canning, freezing, drying اور Vacuum sealing عام ہو تو نقصان کم ہوگا، کسان خوش حال ہوں گے اور عوام کو مناسب داموں اچھی خوراک ملے گی۔ 

میں اپنی تعلیم کے ذریعے پاکستان کی فوڈ انڈسٹری کو بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی دینا چاہتا ہوں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہم بہترین آم، کھجوریں، باسمتی چاول، دالیں، سبزیاں پیدا کرتے ہیں، مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان چیزوں کو پروسیسنگ کے بغیر بیرون ملک بھیج دیتے ہیں۔ دنیا ویلیو ایڈیشن کرتی ہے اور ہم خام مال۔ میں فوڈ ٹیکنالوجسٹ بن کر ایسی مصنوعات تیار کرنا چاہتا ہوں جو عالمی معیار کے مطابق ہوں اور پاکستان کی فوڈ ایکسپورٹ کو کئی گنا بڑھا سکیں۔

٭……٭……٭

پروفیسر ڈاکٹر یاسمین سلطانہ فاروقی، ڈین فیکلٹی میڈیا اینڈ ڈیزائن، نجی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ہمارے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے نوجوان میرے نزدیک محض ایک عمرانی حقیقت نہیں بلکہ ایک جذباتی، فکری اور تخلیقی قوت کا سرچشمہ ہیں، مگر افسوس کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت جس طرح بروئے کار لائی جاسکتی ہے، وہ اسی طرح منظم نہیں ہورہی۔ 

ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت، ذہانت اور جذبہ موجود ہونے کے باوجود ایک عجیب سی بے سمتی، عدم یکسوئی اور فکری اضطراب دکھائی دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے سامنے راستوں کی بھیڑ ہے مگر منزل کی پہچان دھندلی ہے۔ میرے نزدیک اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنی شخصیت کی بنیادوں کو مضبوط کریں۔ 

ان بنیادوں میں سب سے پہلی چیز خودشناسی ہے، ان کا فکری مزاج کیا ہیں اور وہ اپنی بہترین صلاحیت کس میدان میں استعمال کرسکتے ہیں۔ ایک اور بڑی کمی جو میں نوجوانوں میں محسوس کرتی ہوں وہ مقصدیت کا فقدان ہے۔ وہ اکثر یہ نہیں جانتے کہ کیا چاہتے ہیں؟ کیوں چاہتے ہیں؟ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک واضح وژن بنائیں۔ 

اپنے اندر یہ یقین پیدا کریں کہ وہ اپنے اور ملک کے حالات بدل سکتے ہیں۔ اپنی توانائی کو ذاتی مفاد سے نکال کر اجتماعی مفاد کی طرف موڑیں۔ میرے نزدیک پاکستان کے نوجوان کسی بھی طور کمزور نہیں، کسی سے کم نہیں۔ وہ ذہین، محنتی اور پرجوش ہیں۔ بس انہیں اپنی قوتوں کی پہچان، اپنی منزل کا تعین، وضاحت اور اپنے ارادے کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ تو یہی نوجوان اس ملک کو ایک ایسے مستقبل سے روشناس کراسکتے ہیں جو ترقی، استحکام، وقار اور عزت سے بھرپور ہوگا، انشاء اللہ۔

٭……٭……٭

طارق عزیز شیخ، ایسوسی ایٹ پروفیسر، گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے نوجوانوں کو اپنی تعلیم پر مکمل توجہ دینی چاہیے کیونکہ تعلیم ہی ان کی شخصیت اور ملک کی ترقی کا بنیادی راستہ ہے۔ صرف ڈگری حاصل کرنا ہی کافی نہیں بلکہ معاشرے میں عملی طور پر کردار ادا کرنا بھی اہم ہے، ادھوری تعلیم یا کمزور مہارتیں انہیں عالمی معیار کے مقابلے سے دور کردیتی ہیں۔ 

نوجوان تحقیق اور مطالعے کا شوق پیدا کریں، وقت کی پابندی اور ڈسپلن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ خود کو جدید زمانے کی ضرورتوں کے مطابق تیار کریں، تاکہ اپنا اور اپنے ملک کا مستقبل سنوار سکیں۔ جدید اسکلز سیکھیں، تاکہ وہ عملی زندگی میں کامیاب ہوسکیں، صحت مند رہنا، اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں حصہ لینا اور مثبت سرگرمیوں میں شامل ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر نوجوان یہ چند بنیاد ی باتوں پر عمل کرلیں تو ملک کی ترقی خود بخود تیز رفتار ہوجائے گی۔

٭……٭……٭

ڈاکٹر مریم ممتاز، ہمدرد یونیورسٹی، شعبہ فارمیسی میں لیکچرار ہیں، انہوں نے کہا کہ ہر ملک کی ترقی، عظمت اور وقار اس کے اپنے باشندوں کی محنت، دیانت، شعور اور خدمت وطن کے جذبے سے پروان چڑھتی ہے، تاہم ملک کی تعمیر و ترقی میں ہر نوجوان کی ذمہ داری ہے کہ سچائی، امانت داری اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں۔ اپنے کردار اور اخلاق پر خصوصی توجہ دیں، کیوں کہ ترقی صرف علم سے نہیں بلکہ بہتر اخلاق سے بھی ہوتی ہے۔ 

قانون کی پاسداری کریں، اپنے ماحول کو صاف رکھیں، اپنے گردونواح کو صاف رکھیں، پانی اور بجلی کی بچت کریں اور فضول خرچی سے بچیں تو ہم وطن کے وسائل کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو باہمی اتحاد، اخوت اور اتفاق کے اصولوں کو دل و جان سے اپناتی ہیں۔ اگر ہم اپنے پیشے میں ایمان داری، اپنے فیصلوں میں اخلاق، اپنے عمل میں ذمہ داری اورا پنے دل میں وطن سے محبت پیدا کرلیں تو پاکستان کا مستقبل یقیناً روشن، محفوظ، مستحکم اور باوقار ہوگا۔

آج کے نوجوانوں نے دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ آن لائن فری لانسرز دنیا کے مختلف ممالک کو سروسز دے کر نہ صرف ڈالر ملک میں لا رہے ہیں بلکہ دنیا کو یہ دکھا رہے ہیں کہ پاکستانی ٹیلنٹ کسی سے کم نہیں۔ ہمارے نوجوان آئی ٹی کی دنیا میں آگے بڑھ رہے ہیں، نئی ایپس بنا رہے ہیں، ٹیکنالوجی میں جدت لا رہے ہیں، اسٹارٹ اپس کھول رہے ہیں، کاروباری دنیا میں قدم جما رہے ہیں اور انٹر پرینیور شپ کے ذریعے نہ صرف خود بلکہ دوسروں کو بھی روزگار دے رہے ہیں۔ 

آج کا نوجوان وہ سب کچھ کررہا ہے جس سے اس کا اپنا کل بھی محفوظ ہو اور پاکستان کا مستقبل بھی روشن ہو۔ وہ سیکھ رہا ہے، مثبت سوچ رکھتا ہے اور دنیا میں پاکستان کی پہچان بہتر بنا رہا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مشکلات سے بھی گزر رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ہمت نہیں ہار رہے۔ وہ کوشش کررہے ہیں، آگے بڑھ رہے ہیں، اپنے لیے اور اپنے وطن کے لیے۔

اگر تمام نوجوان اسی جذبے سے آگے بڑھتے رہے تو آنے والا وقت یقیناً پہلے سے زیادہ مضبوط، باوقار، جدید اور ترقی یافتہ ہوگا۔

نوجوان سے مزید