2025 مجموعی طور پر پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک ایسا سال ثابت ہوا جس میں مشکلات بھی تھیں، مواقع بھی، رکاوٹیں بھی اور کچھ نئی سمتیں بھی کھلتی دکھائی دیں۔ نوجوانوں نے اس سال جہاں معاشی دباؤ کو محسوس کیا، وہیں تکنیکی میدانوں میں آگے بڑھنے کی کوشش بھی جاری رکھی۔
یہ سال کسی ایک رنگ کا نہیں تھا بلکہ امید، تھکن، جدوجہد، کامیابی اور ناکا می کی کیفیت لیے ہوئے گزرا۔ ان کا عجیب امتزاج رہا۔ معاشی، تعلیمی، سماجی اور ذہنی سطح پر نوجوانوں نے جن حالات کا سامنا کیا وہ اُن کی سوچ، ترجیحات اور مستقبل کے فیصلوں پر گہرا اثر چھوڑ گئے۔
سب سے بڑا مسئلہ نوجوانوں نے مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں برداشت کیا۔ بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اچھی نوکریاں نہیں مل سکیں۔ انٹرویوز ہوتے رہے، لیکن سلیکشن کم رہی۔ کچھ نوجوانوں نے کم تنخواہوں پر نوکریاں قبول کیں، کچھ نے کاروبار شروع کرنے کی کوشش کی، اور کئی فری لانسنگ کے میدان میں چلے گئے، مگر وہاں بھی مقابلہ سخت اور کمائی غیر مستحکم رہی۔ بہت سے نوجوان صبح شام محنت کے باوجود ماہانہ بجٹ پورا نہ کر پائے۔
گھر والوں کی توقعات اور معاشی دباؤ نے انہیں مسلسل ذہنی پریشانی میں مبتلا رکھا، ان ہی باتوں کے پیشِ نظر نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنے وطن، والدین اوراپنے پیاروں کو چھوڑ کر دیارِ غیرچلے گئے۔ ہر پڑھے لکھے نوجوان کا یہ خواب ہوتا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب ملازمت اختیار کرے تو اس کی آمدنی، اس کے اخراجات اور خواہشات پوری کرنے کے لیے کافی ہو، مگر بیش تر نوجوان پاکستان میں رہتے ہوئے اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنا پائے، اسی لئے ہر سال لاکھوں پاکستانی نوجوان اچھے مستقبل کی تلاش میں وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک چلے جاتے ہیں۔
ان میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے علاوہ سائنس، زراعت، معاشیات اور آرٹس کے ماہرین کی بھی اکثریت شامل ہے۔ بیورو آف ایمیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں تین لاکھ 36 ہزار سے زائد نوجوان بہتر روزگار کی خاطر ملک چھوڑ کر جاچکے تھے،جس ملک میں تعلیم یافتہ ہنر مندوں تربیت یافتہ نوجوانوں کی کمی ہوجائے تواسے ’ذہن کا انخلا‘ یا ذہانت کا فرار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
تعلیم کے میدان میں بھی 2025 نوجوانوں کے لیے ایک چیلنجنگ سال تھا۔یونیورسٹیوں کی فیسوں میں اضافہ، اخراجات کا بڑھ جانا اور اسکالرشپس کی محدود دستیابی نے بہت سے طلبہ کو پریشان رکھا، کتابیں، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات نے طلبہ کی زندگی مشکل بنا دی۔ بہت سے نوجوانوں نے پارٹ ٹائم نوکریاں کیں، تاکہ تعلیم کا خرچ پورا کر سکیں، مگر وقت کی کمی نے پڑھائی پر برا اثر ڈالا۔
نوجوانوں کو اپنی ریس مکمل کرنے کے لیے دو دو محاذوں پر لڑنا پڑا ایک طرف تعلیم، دوسری طرف مالی مشکلات۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی گہرا ہوتا گیا کہ صرف ڈگری کافی نہیں، بلکہ عملی مہارت بھی بہت ضروری ہے۔بعض سماجی اور نجی ادارے، این جی اوز اور تعلیمی تنظیمیں کی کوشش رہی کہ تعلیم اور ہنر کی بحالی ہو، تاکہ نوجوان صرف ڈگریاں نہ لیں بلکہ عملی قابلیت بھی حاصل کریں۔ آن لائن کورسز، skills-based تعلیم اور مختصر دورانیے کی تربیتی ورکشاپس وہ متبادل زرائع تھے، جن پر نوجوانوں نے زیادہ انحصار کیا۔ جن طلبہ نے سیکھنے کا عمل جاری رکھا، وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔
حکومت پاکستان نے ’’اسکلز فار آل‘‘ کے تحت ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو مفت تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ ’’اسٹارٹ اپ پاکستان‘‘ کے ذریعے نوجوانوں کو انکیوبیشن اور تربیتی سہولیات دی گئیں۔ مختلف انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ پروگرامز بھی متعارف کروائے، اگرچہ یہ اقدامات قابلِ تعریف ہیں، مگر ان میں بہتری کی گنجائش موجود ہے کیونکہ اکثر اوقات، سفارش اور سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے تقرریوں اور مواقع میں رکاوٹیں آتی ہیں۔
2025 صرف ٹیکنالوجی کا سال نہیں تھا بلکہ مقابلے کا سال بھی تھا،ایسا مقابلہ جو عالمی سطح پرنسلِ نو کو اپنا حصہ بننے کی دعوت دے رہا تھا۔ نوجوانوں نے خود کو نئے ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ AI، پروگرامنگ، graphic design، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن اسٹارٹ اپ جیسے شعبے نوجوانوں کی توجہ کا مرکز رہے۔
کئی نوجوانوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے ہنر دکھانے اور کمائی کا ذریعہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔ کچھ نے آن لائن بزنس شروع کیے جو اگرچہ محدود تھے، مگر ان سے نوجوانوں نے خود اعتمادی اور عملی تجربہ حاصل کیا۔ فری لانسنگ، آن لائن بزنس، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ای کامرس اور کنٹینٹ کریئشن نے نوجوانوں کو ایک راستہ دیا۔ کچھ نے ان مواقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنی آمدنی میں اضافہ کیا، جبکہ بہت سے نوجوان مسلسل سیکھنے کی کوشش میں رہے۔ مقابلہ سخت تھا اور کامیابی کا سفر آسان نہیں، لیکن پھر بھی یہ راستہ نوجوانوں کے لیے امید کی ایک کرن ثابت ہوا۔
پاکستان کا نوجوان نہ صرف عالمی مارکیٹ میں قدم رکھنے کے قابل ہوا بلکہ تیزی سے مقابلہ بھی کر رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل ترقی محض بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ صوبائی اور ضلعی شہروں، حتیٰ کہ نیم شہری و دیہی علاقوں میں بھی نوجوان گرافک ڈیزائن، ورچوئل اسسٹنس، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ، اور مواد کی تیاری کے ذریعے عالمی مارکیٹ سے رابطے میں آرہے ہیں۔
2025 میں اقوام متحدہ کے لیے منتخب کردہ موضوع بھی نہایت بروقت اور اہم تھا " Empowering Youth Through "
"AI and Digital Skills" اس موضوع پر مباحثوں، کانفرنسوں اور اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر بیداری پیدا کی اور پالیسی سازوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیٹا سائنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ ،جیسے ہنر نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کو عالمی سطح پر مقابلے کا اہل بھی بنا رہے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سوشل میڈیا انفلوئنسنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کی روزمرہ زندگی ہی نہیں بلکہ اُن کی شناخت کو بھی بدل دیا یہی وجہ ہے کہ 2025 کو نوجوانوں کی ٹیکنالوجی سے مضبوط وابستگی کا سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
2025 میں نوجوانوں کی فلاح و ترقی کے لیے حکومت کی اہم کوششیں
National Youth Employment Plan
مارچ 2025 میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد نوجوانوں کو مارکیٹ کے مطابق مہارت (skills) اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس کے تحت اگلے چار سالوں میں ہر سال تقریباً 2.4 ملین سے 6 ملین نوجوانوں کو تربیت دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ۔National Youth Employment Plan اور Digital Youth Hub کے ذریعے نوجوانوں کو پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں آسانی ملے گی۔
Skills Impact Bond2025 اس جدید ماڈل نے نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کےلئے نجی سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا۔ اس نظام کے تحت نوجوانوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایسے ہنر سکھائے جانے کا فیصلہ ہوا، جس سے پاکستان کے نوجوان با اختیار اور ملکی اقتصادی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ اس ماڈل کو "Pay-for-Success" کہا جاتا ہے۔
digital Youth Hub ، “ڈیجیٹل یوتھ حب کا افتتاح 26 مارچ 2025 کو اسلام آباد میں وزیر اعظم نےکیا ، یہ پلیٹ فارم یونیسف اور وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی شراکت داری سے تیار کیا گیا ہے، جو نوجوانوں کے لیے ایک ہمہ جہت پورٹل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت اب تک 26 لاکھ سے زائد نوجوانوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہیں، جو اس پلیٹ فارم کی غیر معمولی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈیجیٹل یوتھ حب ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی آن لائن پلیٹ فارم ہے، جو آئی او ایس اور اینڈرائیڈ دونوں پر دستیاب ہے،اس ایپ سے کئی اہم مواقع اور سہولیات فراہم ہوئے، جس میں طلبہ کو مختلف ملکی اور بین الاقوامی اسکالر شپس کی معلومات حاصل ہوئیں۔
تربیتی پروگرامز ہنر سیکھنے کے خواہشمند افراد کے لیے مختلف تربیتی پروگرامز دستیاب کیے گئے، سماجی خدمات میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے لیے بھی مواقع فراہم کیےگئے، ملازمتوں، انٹرنشپس اور کاروباری قرضوں تک رسائی دی گئی۔
کھیل، آرٹ، اور ثقافتی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والےاور ماحولیات سے متعلق آگاہی اور عملی اقدامات کے مواقع فراہم کیے گئے اور طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم کی تفصیلات اور درخواست کے طریقہ کار کی بھی سہولت میسر تھی۔
وزیر اعظم کا زرعی شعبے میں انقلابی اقدام
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 1,000 زرعی گریجویٹس کو چین کی معروف یونیورسٹیوں میں 9 جدید زرعی شعبوں میں 3 سے 6 ماہ کی مفت تربیت کا موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔پہلے مرحلے میں 300 منتخب گریجویٹس پر مشتمل بیچ 16اپریل 2025 میں چین گیا،جہاں انہوں نے جدید زرعی طریقوں، ہائبرڈ بیج ٹیکنالوجی، کم پانی میں ۔100 پاکستانی زرعی ماہرین نے 23 جولائی کو ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (SWUST) میں چھ ماہ کے خصوصی تربیتی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا، جو چین میں ہزار، زراعی گریجویٹس کی تربیت کے دوسرے بیچ کا پہلا گروپ تھا۔
دوسرے گروپ نے بھی جامع تربیت مکمل کر کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ۔ اب تک تقریباً 700 پاکستانی طلبا نے چین میں جدید تربیت مکمل کر چکے۔ یہ تربیت جدید بیجوں کی پیداوار، پراسیسنگ ٹیکنالوجی اور پائیدار زراعت کے طریقوں پر مرکوز تھی اور اسے چین کے اعلیٰ اداروں کے تعاون سے نظریاتی اور عملی تربیت کے ساتھ فراہم کیا گیا۔
اس تاریخی اقدام سے نوجوانوں کی مہارت اور چینی ٹیکنالوجی نے مل کر زرعی ترقی کی نئی داستان رقم کی۔ جو ملک کے زرعی شعبے کی جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرےگی۔
2025 میں نوجوانوں کے لیے سیاسی ماحول مجموعی طور پر غیر یقینی، بے چینی اور شدید تضادات سے بھرا ہوا تھا۔ اس سال سیاست نے نوجوانوں کے ذہنوں میں امید بھی پیدا کی اور مایوسی بھی۔
سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے سیاسی شعور اور رابطے کا بڑا ذریعہ بنا اس کے ذریعے سیاست کے ہر اتار چڑھاؤ سے لمحہ بہ لمحہ جڑے رہے، مگر عملی طور پر اُن کی آواز فیصلوں تک نہ پہنچ سکی۔ اکثر ان کی نمائندگی علامتی یا محدود محسوس ہوئی۔
تبدیلی کی توقع، پھر مایوسی، پھر امیدیہ سارا سال جذبات کی اُتار چڑھاؤ میں گزرا۔ نئی نسل کے لیے نہ تو حالات کو سازگار بنایا گیا اور نہ ان کو سیاسی اور معاشی طور پر آگے بڑھنے کے وہ مواقع دیے جو ان کا بنیادی حق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے سوشل میڈیا کو بطور پیمانۂ احتجاج استعمال کیا۔
وہ سمجھنے لگے کہ سیاست صرف تقریروں اور جلسوں کا نام نہیں بلکہ پالیسی، معیشت، قانون سازی اور عالمی تعلقات بھی اس کا حصہ ہیں۔ بہت سے نوجوان سیاست سے دور ہو گئے کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ عملی زندگی کے مسائل زیادہ شدید ہیں اور ان کے حل کے لیے کسی واضح سمت کی ضرورت ہے۔
2025 میں نوجوانوں کی سماجی حالت کو دیکھیں تو یہ سال ایک پیچیدہ مگر حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف مواقع، نئے تجربات، ٹیکنالوجی اور عالمی رابطے تھے، تو دوسری طرف بے یقینی، معاشی دباؤ، عدم استحکام اور ذہنی تھکاوٹ بھی نوجوانوں کے حصے میں آئی۔
پاکستانی نوجوان اس سال مختلف سمتوں میں دوڑتے رہے کہیں امید کے سائے تھے تو کہیں حالات نے قدم روکے رکھے۔ بہت سےنوجوان کاروبار اور خود مختاری میں راستہ تلاش کرتے رہے۔ نوجوانوں میں خود انحصاری کی سوچ بڑھی۔کاروبار، آن لائن اسٹورز، یوٹیوب چینلز، ا سٹارٹ اپس مثبت اُڑان کی مثالیں ہیں۔ جس نے ان کے خیالات، رجحانات اور شعور کو بدلنے میں بڑا رول ادا کیا۔
2025 میں نوجوانوں کی جسمانی صحت مجموعی طور پر ایک غیر متوازن سفر سے گزری۔ ایک طرف جم کلچر، فٹنس وی لاگز، ڈائیٹ پلان اور صحت مند طرزِ زندگی کا رجحان بڑھا، فاسٹ فوڈ، انرجی ڈرنکس او ر رات دیر تک جاگنے کی عادت عام رہی، جس کا اثر وزن میں اضافہ، معدے کے مسائل اور تھکاوٹ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ فزیکل ایکٹیویٹی کا تناسب کم رہا۔ یونیورسٹیوں اور دفاتر میں وقت کی کمی، اسکرین ٹائم میں اضافہ، اور سماجی مصروفیات نے نوجوانوں کی جسمانی رفتار کو سست رکھا۔ کمردرد، آنکھوں کی کمزوری، مائگرین جیسے مسائل عام دیکھنے میں آئے۔
دوسری طرف ذہنی صحت 2025 میں نوجوانوں کا سب سے بڑ ا چیلنج رہی۔ اس سال طلبہ، ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں، اور مستقبل کے بارے میں فکر مند ذہنوں میں بے چینی عام رہی۔ معاشی مسائل نے ذہنی طور پر نوجوانوں کو کمزور کیا، اور سوشل میڈیا کے دباؤ نے ذہنی تناؤ میں مزید اضافہ کیا۔ ڈپریشن، انزائٹی، تنہائی کا احساس اور فیوچر فوبیا جیسی کیفیتیں عام رہیں۔
سوشل میڈیا کے تقابلی ماحول نے نوجوانوں کو مشہور ہونے، بہترین زندگی دکھانے، خوبصورت نظر آنے اور دوسروں سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں لگائے رکھا۔ اس دوڑ نے دماغی سکون چھین لیا۔ حقیقت اور دکھاوے میں فرق نے نوجوانوں کو ذہنی تصادم کا شکار کیا۔ مشاورت، کونسلنگ کی آگاہی ضرور بڑھی ،مگر اس تک رسائی ہر نوجوان کے لیے آسان نہ تھی۔
2025 میں نوجوانوں میں جرائم کا رجحان پہلے کی نسبت زیادہ نمایاں نظر آیا، جس کی سب سے بڑی وجہ معاشی دباؤ اور بے روزگاری تھی۔ بہت سے نوجوان موبائل چھیننا، چوری، دکانوں میں نقب زنی، موٹر سائیکل لفٹنگ اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث نظر آئے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی 2025 نوجوانوں کے لیے ایک خطرناک سال ثابت ہوا۔
ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر گینگ کلچر، طاقت کا مظاہرہ، اسلحہ دکھانے اور تیز رفتار گاڑی چلانے والے ویڈیوز نوجوانوں کو غیر محسوس طریقے سے جرم کی طرف راغب کرتی رہیں۔ کئی نوجوان شہرت، لائکس اور فالوورز کے چکر میں خطرناک حرکات کرتے ہوئے پکڑے گئے اور کچھ جان کی بازی ہار گئے۔ سائبر کرائم کا رجحان بھی پہلے سے زیادہ نمایاں دکھائی دیا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ نوجوانوں کے پاس ٹیکنالوجی تک آسان رسائی موجود تھی ، انہوں نے آن لائن طریقوں سے پیسہ کمانے کی کوشش میں غلط راستے اختیار کیے، جس میں ہیکنگ، سوشل میڈیا اکاؤنٹ چوری کرنا، آن لائن دھوکہ دہی، جعلی ویب سائٹس بنانا، فیک پروفائلز کے ذریعے بلیک میلنگ، اور ڈیجیٹل فراڈ جیسے جرائم شامل تھے۔ کچھ نے گیمز ایپس میں نظام کو توڑنے کی کوشش کی۔ ان میں سے کئی نوجوانوں کا خیال تھا کہ یہ صرف ٹیکنیکل اسکل ہے، جبکہ حقیقت میں یہ قانوناً جرم تھا۔
گھریلو جھگڑے، والدین کی عدم توجہ، ٹوٹے خاندان، سخت رویے، اور تربیت کی کمی نوجوانوں کو اس راستے پر لے گئے جہاں غلط لوگ انہیں آسانی سے استعمال کر سکتے تھے، ایسے نوجوان جنہیں گھر سے پیار، گفتگو اور رہنمائی نہیں ملی، وہ باہر گروہوں، دوستوں اور مجرم عناصر کےشکنجے میں پھنس گئے۔
منشیات محض ایک نشہ نہیں، یہ ایک مکمل تباہ کن نظام ہے جو انسان کے جسم، ذہن، اخلاق اور سماج سب کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتا ہے۔ 2025 میں منشیات کا مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک صورت اختیار کر گیا، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔پہلے منشیات کا تصور صرف چرس، ہیروئن یا افیون تک محدود تھا، مگر اب منشیات کی شکلیں بدل چکی ہیں۔
آئس (Crystal Meth)،کیمیکل ڈرگز،نشہ آور گولیاں شیشہ ،ویپنگ اور ای سگریٹس اور دیگر مادوں نے نوجوانوں کو نہ صرف جسمانی طور پر نقصان پہنچایا بلکہ انہیں جرم کے راستے پر بھی دھکیل دیا۔ نشے کی لت نے بہت سے نوجوانوں کو چوری، فراڈ اور منشیات فروشی میں ملوث کیا تاکہ وہ اپنی خواہشات پوری کر سکیں اس کے علاوہ منشیات کے استعمال کی سب سے بڑی وجہ ذہنی دباؤ تھا۔
جدید دور میں مقابلہ اتنا سخت ہو گیا کہ نوجوان اپنی پڑھائی، نوکری، گھر کے مسائل اور سماجی توقعات کے بوجھ تلے پس گئے۔ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے دوسروں کی مصنوعی کامیابیوں کو دیکھ کر ان کے اندر احساسِ کمتری اور بے چینی کو مزید بڑھا یا۔ہاسٹلز، یونیورسٹیز، نجی اکیڈمیز اور حتیٰ کہ آن لائن ڈیلیوری کے ذریعے بھی نشہ آسانی سے دستیاب تھا۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نشے سے متعلق کیسز زیادہ سامنے آئے۔
اگرچہ یہ سال ایسا تھا جس میں خواب، دباؤ اور حقیقت ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ ایک طرف نوجوانوں کے پاس صلاحیت، توانائی اور آگے بڑھنے کی خواہش تھی، تو دوسری طرف حالات ایسے تھے، جنہوں نے ان کے راستے مزید کٹھن بنا دیے۔ بیش تر نوجوانوں نے حا لات سے سیکھا کہ کہ وہ کیا کر سکتے ہیں، کیسے کر سکتے ہیں، اور انہیں کن راستوں سے بچنا اور کن پر چلنا چاہیے۔
سب سے بڑھ کر، انہوں نے یہ جان لیا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور کامیاب وہی ہوگا جو اس تبدیلی کے ساتھ ہم قدم رہے گا۔ صرف ڈگری نہیں، اسکلز بھی ضروری ہیں۔ صرف امید نہیں بلکہ عملی کوشش اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔ نوجوانوں نے یہ بات بھی سیکھی کہ حالات کبھی آسان نہیں ہوتے، لیکن موقع اُنہی کو ملتا ہے جو حالات کا مقابلہ کر کے آگے بڑھتے ہیں۔
2025 مجموعی طور پراُمید، جدوجہد، بحران اور نئے راستوں کی تلاش کا سال تھا، جس نے نوجوانوں کو آزمائشوں سے گزارا، مگر ساتھ ہی انہیں مضبوط بھی بنایا۔ ان کے اندر خود اعتمادی، شعور، سماجی ذمہ داری، ٹیکنالوجی کی سمجھ اور خود انحصاری کا جذبہ پہلے سے زیادہ پنپ کر سامنے آیا۔
ضروری یہ ہے کہ حکومت، والدین اور معاشرہ مشترکہ طور پر نوجوانوں کی رہنمائی کریں، انہیں تعلیم، تحقیق، تخلیقی سرگرمیوں اور مثبت مشاغل کے مواقع فراہم کریں۔ تاکہ آنے والے وقت میں ہمارے ملک کا شماربھی ترقی یافتہ ممالک ہو۔
نوجوانوں کی کامیابیاں ملک کے وقار کی علامت ہوتیں ہیں۔ آج جب دنیا مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں کچھ نوجوان اُبھر کر سامنے آئے،جنہوں نےاپنی محنت اور لیا قت سے نہ صرف اپنا بلکہ ملک کا نام بھی روشن کیا ۔ مریم سعید کا شمار بھی ان ہی نوجوانوں میں ہوتا ہے، وہ کاروباری دنیا کی کم عمر ترین سی ای او ہیں،جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، وژن اور قیادت کے بل بوتے پر کئی قومی اور نجی اداروں کے اعزازات اپنے نام کیے۔
ان کی کامیابیاں نہ صرف ملک و قوم کے لیے باعثِ فخرہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک روشن مثال بنی۔ سب سے نمایاں اعزاز پرائیڈ آف پاکستان،’’ پاکستان یوتھ کونسل‘‘ کی جانب سے دیا گیا، تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ایجوکیشن اینڈ ٹیک سوسائٹی نے انہیں Tamgha-e-Sataish دیا، ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی راہیں متعارف کرانے اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے پرنیشنل بزنس فورم نے انہیں "Best CEO in Tech انویشن ایوارڈ سے نوازا۔مریم سعید نے نوجوان خواتین اور طلبہ پر گہرے اثرات مرتب کیے،مالی مشکلات اور سماجی رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ ناکامیوں نے ان کے حوصلے مزید مضبوط کیے اور انہوں نے اپنی منزل پالی۔
دوسرا نام ہے منیل فاروقی کاجو 18 سال کی عمر میں پاکستان کی کم عمر ترین خاتون ایئر ایمبولینس پائلٹ بنی، انہوں چھوٹی سی عمر میں سخت تربیت مکمل کی ۔پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ایوی ایشن اور ایئر ایمبولینس جیسی فیلڈز اکثر مردوں سے منسلک سمجھی جاتی ہیں، وہاںمنیل کی کامیابی نے روایتی تصورات کو چیلنج کیا اور ثابت کردیا کہ خواتین بھی ایسے شعبوں میں آگے آسکتی ہیں۔
نوجوان خاص طور پر لڑکیوں کے لیے وہ ایک مثال بن گئیں ان کا انتخاب ایک پرائیویٹ ایوی ایشن کمپنی نے ایئر ایمبولینس خدمات کے لیے کیا، جہاں وہ ہنگامی مریضوں، زخمی افراد کی منتقلی کی پروازیں کرتی ہیں۔
پاکستان کے نوجوان محقق ڈاکٹر عثمان محمود نے ملائیشیا میں شاندار کامیابیاں سمیٹ کر نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے بلکہ ملک کا نام بھی بین الاقوامی سطح پر روشن کیا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی ٹیکنالوجی ملائیشیا (UTM) کے 69ویں کونووکیشن میں ’’پرو چانسلر ایوارڈ‘‘حاصل کیا جو صرف غیرمعمولی تحقیقی قابلیت رکھنے والے پی ایچ ڈی اسکالرز کو دیا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر عثمان کی پی ایچ ڈی تحقیق نہ صرف معیار، گہرائی اور جدت کا امتزاج تھی بلکہ اس کے دوران انہوں نے مسلسل علمی نتائج بھی پیش کیے۔ ان کا مقالہ ممتاز قرار پایا، پرو چانسلر ایوارڈ کے ساتھ ساتھ انہیں UTM کی جانب سے ڈینزیوارڈ اور بہترین طالب علم ایوارڈ بھی حاصل کیا، جو اُن کی مستقل محنت، نظم و ضبط اور تحقیقی برتری کا واضح ثبوت ہے۔ ان اعزازات کے ساتھ ساتھ انہیں حال ہی میں ایزری ایوارڈ بھی ملا، جو جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) کے مستقبل ساز نوجوان محققین کو دیا جاتا ہے۔