• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ایک خاموش خطرہ‘‘ نسل نو میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان

نسلِ نو جو ٹیکنالوجی کے سائے میں پل بڑھ رہی ہے، جس کی سوچ، ترجیحات اور طرزِ زندگی پچھلی نسلوں سے یکسر مختلف ہے، مگر اسی جدیدیت کے ساتھ ساتھ اُن میں کچھ ایسے رجحانات بھی جنم لے رہے ہیں جو ایک خاموش خطرہ ہیں،جن میں ایک خطرہ ویپنگ ہے، جس کا اندازہ حکام کو بھی ہے کہ، چند ہفتےقبل سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں نوجوانوں کو ’’ویپنگ‘‘ سے روکنے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا ۔ یہ بل دراصل اس قومی احساسِ ذمہ داری کی علامت ہے کہ ریاست نوجوانوں کی صحت، ذہنی نشوونما اور سماجی مستقبل کو محض ایک ذاتی نہیں بلکہ ایک اجتماعی مسئلہ سمجھتی ہے۔

سینیٹر سرمد علی کی جانب سے پیش کردہ ’’الیکٹرانک نکو ٹین ڈیلیوری سسٹم (ریگولیشن )بل طلبا میں بڑھتی ہوئی ویپنک کے پیشِ نظر لایا گیا، مجوزہ قانون سازی میں ان مصنوعات کی درآمد، مارکیٹنگ اور تقسیم کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔

تعلیمی اداروں کا تحفظ اس بل کی اہم شق ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارےکے قریب ویپ کی فروخت پر مکمل پابندی ، 18 سال سے کم عمر افراد کو ویپ بیچنا غیر قانونی ہوگا۔ اگر یہ بل منظور ہوجاتا ہے تو ٹرانسپورٹ ،سرکاری دفاتر، عوامی پارکس اور دیگر مشترکہ کمیو نٹی مقامات پر ویپنگ ممنوع ہوگی نیز اسکولوں اور کالجوں کے 50 میٹر کی حدود میں ویپ کی فروخت پرپابندی ہوگی۔ بل کی منظوری کے بعدویپنگ کے خلاف ریگولیشن مزید مضبوط ہو جائے گا۔

ویپنگ کو اکثر سگریٹ نوشی کا محفوظ متبادل سمجھاجاتا ہے لیکن یہ دراصل نشے کی ایک نئی اور جدید شکل ہے، جو آہستہ آہستہ جسم اور ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، نوجوانوں کو اس کا احساس دیر سے ہوتا ہے۔ وہ اسے محض فیشن اور اپنے ساتھیوں کو مرعوب کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور مختلف تفریحی پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کو جتنا فائدہ پہنچایا ہے، اتنا ہی انہیں نئے خطرات سے بھی روشناس کیا ہے۔ مہنگی ڈیوائس، رنگ برنگے فلیور اور مخصوص انداز نوجوان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ ایک ’’ٹرینڈ سیٹر‘‘ہے۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر ویپنگ کو ایک دلکش انداز میں دکھایا جاتا ہے۔

سلو موشن دھوئیں کے چھلے، خوبصورت بیک گراؤنڈ میوزک اور مشہور انفلوئنسرز نوجوانوں کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ نوجوانوں میں مقبولیت کی ایک وجہ ای مائعات میں دستیاب ذائقوں کی وسیع اقسام ہیں جن میں اسٹرابیری، کاٹن کینڈی اور لیمونیڈ شامل ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ویپنگ کامیابی، آزادی اور جدید طرزِ زندگی کی علامت ہے جبکہ یہ صرف ایک فیشن یا تفریح نہیں، بلکہ ایک خطرناک لت ہے۔

نوجوان فطری طور پر تجسس پسند ہوتے ہیں۔ وہ نئی چیزوں کو آزمانا چاہتے ہیں، دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر جب کوئی کہتا ہے، ’’بس ایک دفعہ آزما لو، کچھ نہیں ہوتا‘‘، تو یہ جملہ اکثر دروازہ کھول دیتا ہے ۔پہلی بار کے بعد دوسری ، تیسری اور یوں یہ سلسلہ چل پڑتا ہے۔

نوجوانی کی عمر میں مقبول ہونے کی خواہش بھی بہت زیاد ہ ہوتی ہے۔ دوستوں کے حلقے میں ویپنگ عام ہو تو انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہ شامل نہ ہوئے تو شاید اُن سے قطع تعلق کر لیا جائے گا۔ یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ کہیں دوست ناراض نہ ہو جائیں یا وہ اکیلے نہ رہ جائیں۔ اس خوف کی وجہ سے وہ اپنی مرضی کے خلاف بھی ویپنگ پی کر تجربہ کرتے ہیں، مگر یہی تجربہ آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے۔

ہر نوجوان صرف فیشن یا دوستوں کے دباؤ کی وجہ سے ویپنگ نہیں کرتا، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اندرونی دباؤ، گھریلو مسائل، تعلیمی پریشانیوں یا خود اعتمادی کی کمی سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ویپنگ ایک وقتی سکون کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کو سکون ملے گا ، مگر یہ سکون عارضی ہوتا ہے۔

صحت پر اثرات

نوجوانوں کو غالباََ اس کا علم نہیں کہ، ویپنگ کے استعمال سے پھیپھڑوں میں سوزش پیدا ہوسکتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی، اور دیرپا امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ نکوٹین دل کی دھڑکن تیز کرتی ہے، بلڈ پریشر بڑھاتی ہے۔

دماغی نشوونما کو متاثر کر کے یادداشت، توجہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ زیادہ استعمال سے جسمانی توانائی کم ہوجاتی ہے اور نوجوان عام سرگرمیوں میں بھی کم دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ اس کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں۔اس مسئلے کا ایک حل آگاہی اور مثبت رہنمائی بھی ہے۔

اکثر نوجوان یہ جانتے ہی نہیں کہ ویپنگ کی لت بھی سگریٹ کی طرح عادت بن سکتی ہے۔ آگاہی کی کمی صرف معلومات کی کمی نہیں قوتِ فیصلہ کی بھی ہوتی ہے۔

گیلپ پاکستان کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1.2 ملین ( 12 لاکھ) سے زائد افراد ویپنگ ڈیوائسز استعمال کر رہے ہیں، یہ سروے 12 تا 23 ستمبر 2025 کے دوران کیا گیاتھااور اس کے نتائج 5 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے۔

عوامی آگاہی کی سطح شہری علاقوں اور مالدار طبقے میں نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی۔ مختلف سروے رپورٹس کے مطابق بھی پاکستان میں 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں ویپنگ کا استعمال گزشتہ 5 سالوں میں دوگنا ہو چکا ہے۔

حکومت نے اس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ویپ اور ای-سگریٹ کی درآمد، فروخت اور تشہیر پر کڑی نظر رکھی جائے، اس مقصد کے لیے انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ نوجوانوں کو ایسی مصنوعات فراہم نہ کریں جو اُن کی صحت کے لیے مضر ہوں۔ 

قانونی سطح پر حکومت نے کم عمر افراد کو ویپنگ ڈیوائسز کی فروخت پر پابندی کے لیے قوانین اور ضوابط متعارف کرائے ہیں۔ مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات کی نگرانی، آن لائن فروخت پر نظر اور اشتہارات پر کنٹرول جیسے اقدامات اس سمت میں اہم قدم ہیں۔ 

مقصد صرف پابندی لگانا نہیں بلکہ نوجوانوں کو اس عادت کے نقصانات سے باخبر کرنا اور انہیں صحت مند متبادل سرگرمیاںفراہم کرنا ہے، جس کے لیے سرکاری اداروں نے ویپنگ کے نقصانات پر مبنی آگاہی مواد تیار کرنا شروع کیا ہے، جسے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو یہ باور کروانا ہے کہ ویپنگ کوئی فیشن یا تفریح نہیں بلکہ ایک خطرناک لت ہے۔

تاہم یہ کہنا بھی حقیقت سے بعید نہیں کہ یہ اقدامات ابھی ناکافی ہیں۔ حکومت کی کوششیں اس وقت تک مکمل اثر نہیں دکھا سکتیں جب تک والدین اور معاشرہ بھی اس مہم کا حصہ نہ بنیں۔ والدین کا کردار اس حوالے سے اہم ہے۔ گھر کا ماحول، بچوں کی سرگرمیوں پر نظر انہیں بہت سے غلط راستوں سے بچا سکتی ہے۔

معاشرہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔ ویپنگ کو محض ایک ذاتی انتخاب سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے اثرات صرف ایک فرد کو نہیں، پورے سماجی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوان خود بھی سوچیں، والدین سمجھیں، ادارے جاگیں اور معاشرہ متحد ہو کر اس خاموش خطرے کا مقابلہ کرے۔

نوجوان سے مزید