• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’فری لانسنگ‘‘ نوجوانوں کیلئے روشن مستقبل کی نئی راہ

یہ صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ہے، اس دور میں نہ صرف مشینیں بدل رہی ہیں بلکہ انسان کے سوچنے، کمانے اور جینے کے طریقے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں آنکھ کھول رہا ہے، جہاں صرف ڈگری ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں فری لانسنگ ایک نئے امکان کے طور پر نوجوانوں کے سامنے آئی۔ ایک ایسا امکان جو کسی کے لیے خواب ہے اور کسی کے لیے زندگی کی ٹھوس حقیقت۔

نوجوان جو کل تک نوکری کے اشتہاروں میں اپنی قسمت تلاش کرتا تھا، لیکن آج ٹیکنالوجی نے تو روزگارکا تصور تک بدل کر رکھ دیا ہے نوجوان آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنی مہارت دکھا رہے ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ نوجوان کہاں کام کرتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے۔فری لانسنگ اسی تبدیلی کی پیداوار ہے۔ یعنی نوجوان میں ہنر ہے، تو دنیا اُس کے آگے ہے۔

فری لانسنگ اور ڈیجیٹل اکانومی ایک ایسا راستہ ہے جو کم سرمائے، کم وقت اور کم انفراسٹرکچر میں زیادہ روزگار اور زرمبادلہ لا سکتا ہے۔ پاکستان کا اس وقت عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں امریکا، بھارت اور بنگلہ دیش کے ساتھ نمایاں مقام ہے۔ مختلف عالمی پلیٹ فارمز کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ فری لانسنگ کے ذریعے تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر کی آمدن ہو رہی ہے۔ 

محدود وسائل کے باوجود ہمارے نوجوانوں نے دنیا کو دکھادیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو اپنا ہتھیار بنا سکتے ہیں، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوان گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کنٹینٹ رائٹنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ای کامرس جیسی خدمات کے ذریعے عالمی منڈی سے جڑے ہوئے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق اگر مناسب سہولتیں اور پالیسی سپورٹ فراہم کی جائے تو آئندہ پانچ سے سات برسوں میں یہ آمدن 10 سے 15 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے، جو روایتی برآمدی شعبوں کے برابر یا ان سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

نوجوان فری لانسنگ کی طرف اس لیے راغب ہوتے ہیں کیونکہ وقت کی پابندی، دفتر کی حاضری ،باس کی ڈانٹ اور کمائی کی حد مقرر نہیں۔ ایک نوجوان جو بے روزگاری، مہنگائی اور محدود مواقع سے تنگ آ چکا ہو، اس کے لیے فری لانسنگ امید کی ایک کرن ہے۔ سوشل میڈیا پر کامیاب فری لانسرز کی کہانیاں، ڈالر میں کمائی کے اسکرین شاٹس اور ’’گھر بیٹھے لاکھوں کمانے‘‘ کے دعوے اس کشش کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں، مگر یہی وہ مقام ہے جہاں خواب اور حقیقت کے درمیان فاصلہ نمایاں ہونے لگتا ہے۔

بہت سے نوجوان سمجھتے ہیں کہ اکاؤنٹ بناتے ہی کام مل جائے گا،چند دن میں اچھی کمائی شروع ہو جائے گی،کسی خاص محنت یا مہارت کی ضرورت نہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فری لانسنگ بھی ایک مکمل پیشہ ہے۔ یہ بھی محنت، وقت اور صبر کا امتحان لیتی ہے۔ ایک کامیاب فری لانسر بننے کے لیے مسلسل سیکھنا ،اپنی مہارت کو بہتر بنانا اورعالمی معیار کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے۔

یہاں کوئی استاد رہنمائی نہیں کرتابلکہ نوجوان کواپنا استاد بھی خود بننا پڑتا ہے اور شاگرد بھی۔ آج یوٹیوب، آن لائن کورسز، اور فری پلیٹ فارمز کے ذریعے سیکھنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔لیکن اصل فرق صرف سیکھنے سے نہیں، بلکہ مسلسل مشق سے پیدا ہوتا ہےجو نوجوان ایک کام کو بار بار بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے، وہی کلائنٹس کا اعتماد حاصل کرتا ہے۔ فری لانسنگ دنیا کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ 

مختلف ممالک کے کلائنٹس کے ساتھ کام کرتے ہوئے نوجوان نئی ثقافتوں، زبانوں اور کام کے انداز سے واقف ہوتا ہے۔ اس سے ان کی سوچ وسیع ہوتی ہے اور یہ موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ، اپنے اخراجات خود اٹھائیں، اور مستقبل کے لیے بچت کریں۔ ہر نیا پروجیکٹ ایک نیا امتحان ہوتا ہے اور ہر امتحان ایک نیا سبق۔

یہ سفر نوجوان کو وقت کی قدر سکھاتا ہے، وعدے نبھانے کا ہنر سکھاتا ہے اور مختلف ثقافتوں کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ ایک پاکستانی نوجوان جب کسی یورپی یا امریکی کلائنٹ کے ساتھ کام کرتا ہے تو وہ صرف کام ہی نہیں کرتا، بلکہ اپنے ملک کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ اس کا رویہ، اس کی ایمانداری اور اس کا معیار دراصل اس کے وطن کی پہچان ہوتی ہے۔

حکومت نے گذشتہ چندبرسوں میں ڈیجیٹل ا سکلز، آئی ٹی ٹریننگ اور فری لانسنگ سے متعلق مختلف پروگرام شروع کیے ہیں، جن میں ڈیجیٹل اسکلز، ہنر مند نوجوان پروگرام اور آئی ٹی ٹریننگ سینٹرز شامل ہیں۔ لیکن اس روشن منظرنامے کے ساتھ کئی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ 

سب سے بڑی رکاوٹ انٹرنیٹ کی رفتار، تسلسل اور لاگت ہے۔ فری لانسنگ کا دارومدار تیز اور مستحکم انٹرنیٹ پر ہے، مگر پاکستان کے کئی شہروں اور تقریباً تمام علاقوں میں یہ سہولت آج بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ عالمی ادائیگیوں کے نظام تک رسائی ایک سنجیدہ رکاوٹ ہے۔ دوسری بڑی رکاوٹ تعلیمی نظام اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان خلیج ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام اب بھی زیادہ تر نظریاتی علم پر زور دیتا ہے۔ طلبہ ڈگری تو حاصل کر لیتے ہیں مگر عملی مہارت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ فری لانسنگ اس خلا کو پُر کرنے کا موقع دیتی ہے، مگر بغیر رہنمائی کے یہ راستہ مشکل ہو جاتا ہے۔ فری لانسنگ کی دنیا میں مہارت، پورٹ فولیو اور عالمی معیار کی سمجھ زیادہ اہم ہے۔

اس خلا کو پر کرنے کے لیے نصاب، اساتذہ کی تربیت اور صنعت سے روابط ناگزیر ہیں۔ اگر تعلیمی ادارے ڈیجیٹل اسکلز کو نصاب کا حصہ بنائیں، طلبہ کو فری لانسنگ کی عملی تربیت دیں تو نوجوانوں کے خواب زیادہ آسانی سے حقیقت بن سکتے ہیں۔

اخلاقیات اور خود احتسابی

فری لانسنگ کی دنیا میں صرف مہارت کافی نہیں، کردار بھی ضروری ہے۔ وقت کی پابندی، ایمانداری، اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرنایہ سب وہ اصول ہیں جو ایک نوجوان کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہاں کوئی نگران نہیں ہوتا، اس لیے خود احتسابی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ 

جو نوجوان اس پہلو کو سمجھ لیتے ہیں، کامیابی حاصل کرتے ہیں۔فری لانسنگ نہ تو جادو کی چھڑی ہے اور نہ ہی راتوں رات امیر بنانے والا نسخہ۔ یہ ایک راستہ ہے جو نوجوان, شارٹ کٹ کے بجائے سیکھنے پر یقین رکھیں، مایوسی کے باوجود مستقل مزاج رہیں اور فری لانسنگ کو وقتی شوق نہیں بلکہ سنجیدہ پیشہ سمجھیں تب ہی وہ اس لائن میں ترقی اور کماسکتے ہیں۔

بہت سے نوجوان جلد ہمت ہار جاتے ہیں، کیونکہ انہیں محنت سے زیادہ نتائج کی جلدی ہوتی ہے۔یہ کوئی شارٹ کٹ نہیں، بلکہ یہ ایک ڈیجیٹل پروفیشنل ہے۔ یہاں بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ ناکامی برداشت کرنا اورخود کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھنا پڑتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں دفتر نہیں، اسکرین ہوتی ہے،باس نہیں، کلائنٹ ہوتا ہے، اور حاضری رجسٹر نہیں، ڈیڈ لائن ہوتی ہے۔

دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے۔ مستقبل میں آن لائن کام کے مواقع مزید بڑھیں گے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے فری لانسنگ کے لیے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ یہ نوجوانوں کو صرف پیسہ کمانا ہی نہیں سکھاتی، بلکہ دنیا کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ نوجوان نئی ثقافتوں، زبانوں اور کام کے انداز سے واقف ہوتے ہیں۔

دنیا کے سامنے خود کو پیش کرنا بھی ایک فن ہے، اور اس فن میں ایمانداری، وضاحت اور اعتماد سب سے اہم عناصر ہیں۔

فری لانسنگ کی دنیا جتنی روشن ہے، اتنی ہی مشکل بھی ہے۔ یہاں مقابلہ سخت ہے۔ نوجوان اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں لگےہوئے ہیں۔ کبھی کلائنٹ کی توقعات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کبھی وقت کی کمی ستانے لگتی ہے اور کبھی کم معاوضہ دل کو توڑ دیتا ہے۔ ان سب کے باوجود کامیاب وہی ہوتے ہیں جو ہمت نہیں ہارتے۔

فری لانسنگ کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہاں ہر نوجوان کو برابر کا موقع ملتا ہے۔ ایک چھوٹے سے قصبے میں بیٹھا نوجوان بھی عالمی مارکیٹ کا حصہ بن سکتا ہے۔یہاں سفارش نہیں دیکھی جاتی، یہاں ذات، رنگ، زبان یا علاقے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہاں صرف آپ کی مہارت دیکھی جاتی ہے۔ یہ نوجوانوں کو احساس دلاتی ہے کہ اس کے خواب کسی دفتر کی دیواروں کے محتاج نہیں، بلکہ اس کی اپنی ہمت اور ہنر کی پرواز پر منحصر ہیں۔

آج اگر نوجوان اپنے اندر چھپی صلاحیت کو پہچان لیں تو یہ ایک ایسا راستہ جو محنت سے شروع ہوتا ہے، امید سے گزرتا ایک نئی صبح کی طرف لے جاتا ہے۔

نوجوان سے مزید