• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نوجوان آبادی کی اکثریت ہے۔ یہاں ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیمی اسناد حاصل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، مگر محدود وسائل، سفارش، ناقص نظام اور معاشی عدم استحکام ان کے خوابوں کی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں۔ جیسے جیسے پاکستان میں معاشی غیر یقینی کی صورت حال بڑھتی جا رہی ہے، زیادہ سے زیادہ نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں ترقی یافتہ ممالک کا رُخ کر رہے ہیں۔

کوئی تعلیم کے لیے، کوئی روزگار ، کوئی بہتر مستقبل کی تلاش میں۔ بظاہر یہ نوجوان ترقی یافتہ ملکوں کی سڑکوں، جدید عمارتوں اور منظم نظام کا حصہ نظر آتے ہیں، مگر اس ظاہری استحکام کے پیچھے ایک ایسی زندگی ہوتی ہے جو مسلسل جدوجہد، ذہنی دباؤ اور اندرونی کشمکش سے بھری ہوتی ہے۔

دیارِ غیر میں رہنے والے نوجوان بظاہر کامیاب، خوش حال اور مطمئن دکھائی دیتےہیں، مگر ان کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے ایک طویل خاموش قربانیوں کی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ وہ جو بہتر مستقبل، تعلیم، روزگار یا خاندان کی بہتری کے خواب لے کر اپنا وطن چھوڑتے ہیں، دراصل وہ صرف سرحدیں ہی عبور نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی شناخت، جذبات، عادتوں اور تعلقات کے ایک بڑے حصے کو بھی پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ 

باہر کی دنیا اکثر انہیں مواقع سے بھری ہوئی دکھائی جاتی ہے، مگر ان مواقع تک پہنچنے کا راستہ اتنا ہموار نہیں ہوتا جتنا وطن میں بیٹھ کر تصور کیا جاتا ہے۔ وطن سے دور زندگی صرف بہتر روزگار کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ذہنی، سماجی اور جذباتی امتحان بھی ہے۔

سب سے پہلا اور گہرا مسئلہ شناخت کا بحران ہے۔ دوسرے ملک میں نوجوان نہ مکمل طور پر مقامی معاشرے کا حصہ بن پاتے ہیں اور نہ ہی دل سے خود کو وطن سے جدا کرتے ہیں۔ ان کی زبان، لہجہ، رنگ اور ثقافت اسے بار بار یاد دلاتی ہے کہ وہ یہاں دوسراہیں۔ یہی احساس آہستہ آہستہ خود اعتمادی کو متاثر کرتا ہے۔

دیارِ غیر میں پہلا سامنا تنہائی سے ہوتا ہے۔ ایسی تنہائی جو صرف اکیلے رہنے کا نام نہیں بلکہ ایسی خاموشی ہے، جس میں آوازیں تو ہوتی ہیں مگر اپنائیت نہیں۔ اردگرد لوگ ہوتے ہیں، سڑکیں بھری ہوتی ہیں، دفاتر آباد ہوتے ہیں مگر دل میں ایک خلا رہتا ہے۔ 

جو ماں کی دعا، باپ کی موجودگی، دوستوں کی بے ساختہ ہنسی اور محلے کی پہچان، خاندان، دوستوں، تہواروں اور مذہبی ماحول سے دوری سے پیدا ہوتا ہے جسے نہ پیسہ بھر سکتا ہے اور نہ سہولتیں۔ وہاں سے بھیجی گئی سوشل میڈیا پر مسکراتی تصاویر حقیقت کا مکمل عکس نہیں ہوتیں۔

وطن میں سمجھا جاتا ہے کہ باہر جا کر پیسہ آسانی سے مل جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر نوجوان کم تنخواہ، طویل اوقاتِ کار اور جسمانی مشقت والے کام کرتے ہیں۔ کئی نوجوان تو اپنی قابلیت اور ڈگری کے مطابق کام نہیں کر پاتے، جس سے اندرونی مایوسی جنم لیتی ہےوہ اپنی عزتِ نفس کو ایک طرف رکھ کر کام کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ پیچھے گھر والے ان کی بھیجی جانے والی رقم پر انحصار کر رہے ہیں۔

وطن میں رہنے والے نوجوان کو خاندان کی قربت میسر ہوتی ہے۔ خوشی، غم، ناکامی یا کامیابی ہر موقع پر اسے اپنوں کا ساتھ حاصل ہوتا ہے، جبکہ دیارِ غیر میں رہنے والا نوجوان اس نعمت سے محروم رہتا ہے۔ ویڈیو کالز اور پیغامات اس خلا کو مکمل طور پر نہیں بھر سکتے۔ وقت کے ساتھ باتیں کم اور جذبات کی شدت مدھم پڑنے لگتی ہے اور فاصلے صرف جغرافیائی نہیں رہتے بلکہ جذباتی بھی ہو جاتے ہیں۔ 

کئی نوجوان والدین کے آخری لمحات میں شامل نہیں ہو پاتے، کئی بہن، بھائیوں کی شادیوں میں شریک نہیں ہو سکتے اور یہ احساس عمر بھر کے لیے دل میں رہ جاتا ہے۔ وطن میں رہنے والا نوجوان اپنائیت کے سائے میں جدوجہد کرتا ہے، جبکہ دوسرے ملک میں رہنے والا نوجوان سہولتوں کے درمیان تنہا لڑتا ہے۔ سہولتیں توواقعی ہوتی ہیں۔ بجلی نہیں جاتی، پانی صاف ملتا ہے، بس وقت پر آتی ہے، دفتر یا یونیورسٹی کا نظام واضح ہوتا ہے، مگر ان سہولتوں کے درمیان جذباتی سہارا نایاب ہوتا ہے۔ 

جب نوجوان تھکا ہوا گھر لوٹتا ہے تو اس سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ دن کیسا گزرا۔ جب وہ ناکام ہوتا ہے تو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہاں ہر شخص اپنی دنیا میں مصروف ہے، ہر ایک کے پاس وقت کم اور ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ سہولتوں کے درمیان تنہائی اس وقت اور گہری ہو جاتی ہے جب نوجوان کسی مشکل سے گزرتا ہے جیسے بیماری ، ذہنی دباؤ یا ناکامی ہر مسئلے کا سامنا اسے اکیلے کرنا پڑتا ہے، مگر وہ پھر بھی مضبوط بننے کی کوشش کرتا ہے۔

ثقافتی تصادم بھی کم اہم نہیں۔ مغربی یا مختلف معاشروں میں رہتے ہوئےاقدار، روایات اور طرزِ زندگی کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ زبان سب سے پہلی دیوار بن جاتی ہے۔ 

روزمرہ کی گفتگو، لہجہ، محاورے اور ثقافتی اشارے اکثر اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔ بات کرتے ہوئے بار بار خود کو روکنا، الفاظ ڈھونڈنا اور غلط فہمی کے ڈر میں خاموشی اختیار کرنی پڑ جاتی ہے۔ نسل، زبان اور رنگ کی بنیاد پر تعصب بھی ان کے تجربے کا حصہ بن سکتا ہے۔

تعلیم کے لیے باہر جانے والے نوجوان بظاہر ایک کامیاب، خوش نصیب اور روشن مستقبل کی علامت سمجھےجاتے ہیں۔ خاندان، رشتہ دار اور معاشرہ انہیں فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ جلد ایک مضبوط کیریئر بنا لیں گے، جب کوئی نوجوان تعلیم کے لیے باہر جاتا ہے تو وہ صرف طالب علم نہیں رہتا، وہ پورے خاندان کی امید بن جاتا ہے۔ 

وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی معیار کی یونیورسٹیاں، جدید تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی ایکسپوژر اسے وہ مقام دے گا جو وطن میں ممکن نہیں، مگر بیرونِ ملک تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتی۔ وہاں کا تعلیمی نظام خودمختاری، خود اعتمادی اور نظم و ضبط کا تقاضا کرتا ہے۔ کلاس روم میں استاد سے سوال کرنا، تنقیدی سوچ اپنانا اورتحقیق وتجزیہ کرنا بھی لازم ہوتا ہے، جو ہمارے روایتی نظام تعلیم سے یکسر مختلف ہے۔ 

اس کے علاوہ اس کے کندھوں پر فیس، ویزا، رہائش، کامیابی اور واپسی کے خواب ایک ساتھ رکھ دیے جاتے ہیں۔ دیارِ غیر پہنچتے ہی نیا ملک، نئی زبان، نیا نظام اور اجنبی چہرے ہر چیز اجنبی ہوتی ہے۔ ہاسٹل یا کرائے کے کمرے کی خاموشی، رات کے وقت سب سے زیادہ کاٹتی ہے۔ اس وقت اسےماں کی آواز، گھر کا ماحول اور پاکستان کی بے ترتیبی تک یاد آنے لگتی ہے۔ وہ پہلی بار سمجھتا ہے کہ گھر صرف ایک رہائش نہیں، ایک احساس ہوتا ہے۔

تعلیم کا نظام بظاہر بہتر تو ہوتا ہے، مگر اس کے تقاضے سخت ہوتے ہیں۔ وہاں رٹا نہیں چلتا، وہاں تحقیق کرنا اور خود سوچنا پڑتا ہے۔ اکثر پاکستانی نوجوانوں محدود وسائل محدود ہوتےہیں، اس لیے انہیں ابتداء میں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بڑی جدو جہد کرنی پڑتی ہے، کہیں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس کی پریشانی الگ انہیں ستاتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر کلاس میں چپ رہتے ہیں، حالانکہ اندر سے وہ بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں، اکثر پاکستانی طالبِ علم اسکالرشپ یا جز وقتی کام کے سہارے تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ 

دن میں کلاس، شام کو کام اور رات کو اسائنمنٹس یہ معمول بن جاتا ہے۔ نیند پوری نہیں ہوتی، جسم تھک جاتا ہے، مگر رکنے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ ایک دن کی غفلت پورے مہینے کا بجٹ بگاڑ سکتی ہے۔ وہ صرف ڈگری نہیں لیتے بلکہ خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کا ہنربھی سیکھتے ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب وہ واپس آتے یا واپس آنے کا سوچتے ہیں۔ پاکستان میں ان سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں بہترین ملازمت ، زیادہ تنخواہ، فوری کامیابی، اگر ایسا نہ ہو تو ان کی جدوجہد کو ناکامی سمجھ لیا جاتا ہے۔

نوجوان ترقی یافتہ ممالک میں جاکر کچھ ایسی صلاحیتیں بھی حاصل کرتے ہیں جو وطن میں کم ہوتی ہیں۔ وہ وقت کی قدر، قانون کی پابندی، خود انحصاری اور عملی سوچ ، سسٹم کے اندر رہ کر جینا سیکھتے ہیں نہ کہ سفارش کے سہارے۔ دیارِ غیر میں کامیاب نوجوان وہ ہوتے ہیں، جنہوں نے نے دو دنیاؤں کے درمیان خود کو منوایا ہوتا ہے۔

جو نظم و ضبط کو اپنی طاقت بناتے ہیں۔ وہ صرف ڈگری یا تجربے پر نہیں رکتےبلکہ نئی مہارتیں سیکھتے، زبان بہتر کرتے، ٹیکنالوجی کو اپناتے اور اپنے کام میں مہارت پیدا کرتےہیں، کیوں کے دوسرے ممالک میں مقابلہ سخت ہوتا ہے اور صرف وہی آگے بڑھتا ہے جو خود کو مسلسل اپڈیٹ رکھتا ہے۔

وہاں کمائی کو دکھاوے کے بجائے استحکام کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ بچت، سرمایہ کاری اور مستقبل کی منصوبہ بندی ان کی عادت بن جاتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اصل کامیابی بڑی تنخواہ نہیں بلکہ مالی سکون ہے۔ وقت کے ساتھ وہ اپنے تجربے سے دوسروں کے لیے راستہ آسان کرتے ہیں، نئے آنے والوں کی رہنمائی کرتے اور ایک مثبت مثال بن کر دکھاتے ہیں۔ 

یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں اس کی کامیابی ذاتی نہیں رہتی بلکہ اجتماعی بن جاتی ہے۔اجنبی سرزمین پروہ اپنی پہچان خود بناتے ہیں۔ اگریہ نوجوان وطن واپس آجائیں اور انہیں مواقع دیئے جائیں تو یہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ نوجوان رشک کی نہیں بلکہ سمجھ کی علامت ہیں۔ کیونکہ انہوں نے نہ صرف خود کو بدلا بلکہ یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف، محنت مسلسل اور سوچ متوازن ہو تو دیارِ غیر بھی اپنا بن جاتا ہے۔

جب کوئی نوجوان اپنا وطن چھوڑتا ہے تو اس کے دل میں واپسی کا وعدہ ضرور ہوتا ہے، وہ کہتا ہے کہ’’ چند سال، تعلیم مکمل ہو جائے، کچھ پیسے جمع ہو جائیں، تجربہ حاصل ہو جائے پھر لوٹ آؤں گا۔‘‘گھر والے بھی اسی آس پر صبر کرتے ہیں۔ ماں کے ہاتھ دعاؤں کے لیے اُٹھے رہتے ہیں، باپ خاموشی سے آنکھوں میں امید رکھتا ہے، مگر وقت کے ساتھ یہ وعدہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے کامیاب نوجوان مستقل طور پر بیرونِ ملک بس جاتے ہیں۔ واپس نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ مستقبل کا خوف ہے۔ نوجوان دیکھتا ہے کہ جس ملک میں وہ رہ رہا ہے وہاں محنت کا صلہ واضح ہے۔ نظام کام کرتا ہے، قانون سب کے لیے یکساں ہے، اور زندگی کم از کم بنیادی سطح پر محفوظ ہے۔ اس کے مقابلے میں وطن کی غیر یقینی صورتحال، روزگار کے مسائل، سفارش کا کلچر اور عدم استحکام اسے ڈراتا ہے۔ 

وہ سوچتا ہے کہ اگر واپس گیا تو اس کی محنت، ڈگری اور تجربے کی قدر نہیں ہوگی۔ کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ اپنے ملک میں عدم استحکام اور مواقع کی قلت ہے۔ وطن میں تعلیم یافتہ ہونا بھی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اداروں کی کمزوری، انصاف میں تاخیر، اور میرٹ کی پامالی اسے مایوس کرتی ہے۔ بیرونِ ملک نوجوان کو جدید سہولتیں، تحقیق کے وسائل، اور عالمی معیار کے نیٹ ورکس میسرہوتے ہیں۔دیارِ غیر میں قوانین سخت ضرور ہوتے ہیں، مگر یکساں لاگو ہوتے ہیں، یہی احساسِ تحفظ نوجوان کو وہاں باندھے رکھتا ہے۔

یہ صورتحال ہمارے لیے ایک سوالیہ نشان ہے کہ ہم اپنے باصلاحیت نوجوانوں کو واپس لانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ ریاستی سطح پر واپسی کی مؤثر پالیسیوں کا فقدان ہے۔ اگرچہ برین گین کی بات ہوتی ہے، مگر عملی طور پر واپس آنے والوں کے لیے نہ تو واضح مراعات ہوتی ہیں، نہ ہی ان کی ڈگریوں اور تجربے کےمطابق کام۔ نتیجتاً نوجوان واپسی کو ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ بعض نوجوان واپس آنا چاہتے ہیں، مگر شہریت، یا کیریئر کی مجبوری انہیں وہیں رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ 

اس کا نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا، بلکہ پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔ وطن اپنے قابل، محنتی اور باصلاحیت نوجوانوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ وہ ذہن جو ملک کو آگے لے جا سکتے تھے، وہ توانائی جو نظام بدل سکتی تھی، وہ تجربہ جو ترقی کا ذریعہ بن سکتا تھاوہ دوسرے ممالک ان کا استعمال کر رہے ہیں۔

اگر وطن امید بن جائے، اگر واپسی خوف نہ رہے، اگر محنت کی قدر ہوتو شاید یہ نوجوان صرف یادوں میں نہیں، حقیقت میں بھی وطن واپس آجائیں۔ ریاست ایسے حالات پیدا کرے کہ نوجوان مجبوری نہیں، بلکہ انتخاب کے تحت بیرونِ ملک جائیں اگر چاہیں تو عزت کے ساتھ واپس بھی آ سکیں۔

نوجوان سے مزید