• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جازیب احمد

نوجوان حال کا خیال رکھیں تو مستقبل اُن کا خیال رکھتا ہے۔ یہ جملہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک آفاقی اصول ہے۔ تاریخ، معاشرہ، مذہب اور تجربہ سب اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ جو قومیں اور جو افراد اپنے حال کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، اُن کا آنے والا کل خود بخود محفوظ اور روشن ہو جاتا ہے۔

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں، اس لحاظ سے زماں و مکاں کی قیود سے بالاترفی زمانہ نوجوان جس فکر اور عمل سے دوچار ہوں گے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قوم کس نہج پر آگے بڑھ رہی ہے۔ یعنی اس کا مستقبل روشن اور تابناک ہے یازوال کی جانب گامزن ہے؟

موجودہ زمانہ ماضی سے مختلف ہے۔ آج سے پچاس سال پہلے جن مسائل سے نوجوان طبقہ دوچار تھا، ان میں تبدیلیاں واقع ہوگئی ہیں، لہذا صورتحال کے پیش نظر ترجیحات بھی بدل رہی ہیں، اکثر نوجوان مستقبل کے خواب تو بہت بڑے دیکھتے ہیں، مگر حال کی ذمہ داریوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کسی ایک دن اچانک مل جائے گی، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مستقبل دراصل حال کے فیصلوں، عادتوں اور محنت کا نام ہے۔ آج جو بویا جائے گا، کل وہی کاٹا جائے گا۔

یہ دور جہاں سہولتوں کا دور ہے وہاں انتشار کا بھی۔ معلومات کی فراوانی ہے، مگر رہنمائی نایاب، مواقع کے دعوے بہت ہیں، مگر سمت واضح نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان نہ مکمل طور پر مایوس ہے اور نہ مطمئن بلکہ مسلسل بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔ اس کی زندگی کسی ایک مسئلے کا نام نہیں بلکہ کئی متضاد کیفیتوں کا مجموعہ ہے، وہ سوال کرنا چاہتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ یہ شکایت نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ 

اسے اکثر یا تو نصیحت دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے یا الزام دے کر نظر انداز، حالانکہ نوجوان کا مسئلہ بگاڑ نہیں بلکہ سمجھ کا فقدان ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں جی رہا ہے جہاں کامیابی کے معیار اچانک بدل گئے ہیں، محنت کی قدر کمزور پڑ گئی ہے اور شہرت نے قابلیت کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ آج کے نوجوان کی الجھن یہ نہیں کہ اسے کیا کرنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ صحیح کیا کرے۔ 

وہ تعلیم اختیار کرے تو ڈرتا ہے کہ کہیں وقت ضائع نہ ہو جائے، ہنر سیکھے تو اسی شش پنچ میں رہتا ہے کہ کس قسم کا سیکھے جس میں وہ کامیاب ہوسکے، کاروبار کرے تو ناکامی کا خوف ستاتا ہے، ملازمت کرے توضروریات کے لحاظ سے تنخواہ نہیں ملے گی۔ اس کشمکش میں وہ اکثر فیصلہ نہیں کر پاتا اور وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

ذمہ داریاں اس الجھن کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کےکندھوں پر کم عمری سےصرف اپنے مستقبل کا نہیں بلکہ پورے خاندان کی امیدوں کا بوجھ ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کو مؤخر کرنا سیکھ لیتے ہیں، مگر دل کے کسی کونے میں ایک خلا رہ جاتا ہےکہ وہ جو بننا چاہتے تھے، وہ بن نہیں پائے۔

تعلیم جو کبھی سوچ پیدا کرنے، سوال اٹھانے اور کردار بنانے کا ذریعہ تھی، آج زیادہ تر ڈگری تک محدود ہو چکی ہے۔ نوجوان برسوں تعلیمی اداروں میں گزار دیتے ہیں، مگر باہر نکل کر خود سے ایک بنیادی سوال کا جواب نہیں دے پاتےکہ وہ زندگی میں اصل میں کرنا کیا چاہتے ہیں۔ رٹا سسٹم نے سوچنے کی عادت ختم کر دی ہے، اور نصاب نے نوجوان کو امتحان پاس کرنا تو سکھایا ، مگر مسئلہ حل کرنا نہیں۔

اصل ناکامی ان کی نہیں بلکہ اس سوچ کی ہوتی ہے جس پر انہوں نے اعتماد کیا ہوتا ہے۔ محنت کو پرانا فلسفہ سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر پائیدار کامیابی محنت، صبر اور تسلسل کی مرہونِ منت ہے۔

آج کا نوجوان بظاہر مصروف، پُرجوش اور پراعتماد دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے بے چین ہے۔ تنہائی، عدم تحفظ اور بے یقینی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔Overthinking، Anxiety اور Depression اب محض اصطلاحات نہیں بلکہ نوجوان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ذہنی صحت کو اب بھی سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔

سوشل میڈیا نے نوجوان کو مسلسل موازنہ کرنے کا عادی بنا دیا ہے۔ کوئی ہم عمر آگے نکل جائے تو نوجوان اپنے سفر کو ناکامی سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ ہر انسان کا راستہ مختلف ہوتا ہے، یہی موازنہ اس کی خود اعتمادی کو کھوکھلا کردیتا ہے۔ والدین اور اساتذہ سے فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ گفتگو کم اور غلط فہمیاں زیادہ ہو رہی ہیں۔

آج کے نوجوان ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں، جہاں مواقع بھی بے شمار ہیں اور چیلنجز بھی حد سے زیادہ۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے، معلومات ایک کلک کی دوری پر ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی مایوسی اور مقصدیت کی کمی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ نوجوان کامیابی کے خواہاں تو ہیں، لیکن محنت، صبر اور مستقل مزاجی سے جی چراتے ہیں، جبکہ دیکھا جائے تو آج کی عادتیں کل کی تقدیر ہوتی ہیں۔ حال کا خیال رکھنے کا سب سے پہلا تقاضا خود شناسی ہے۔

سب سے پہلے اُنہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ، ان کے اندرصلاحیتیں اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ بدقسمتی سے آج کا نوجوان دوسروں کی زندگیوں سے خود کو موازنہ کرنے میں اتنا مصروف ہے کہ اپنی اصل پہچان بھول چکا ہے، جبکہ حال کو بہتر بنانے کے لیے کردار سازی انتہائی اہم ہے۔ علم اگر کردار سے خالی ہو تو وہ قوم کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ 

آج اگر جھوٹ، دھوکہ اور شارٹ کٹ کو کامیابی کا ذریعہ سمجھیں گے تو کل اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک طویل سفر ہے، اور اس سفر میں صبر کے بغیر منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ وقت ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا۔ اکثر نوجوان وقت ضائع کرنے کے بعد شکوہ کرتے ہیں کہ مواقع نہیں ملے، حالانکہ اصل مسئلہ مواقع کی کمی نہیں بلکہ وقت کی ناقدری ہوتی ہے۔ جو نوجوان آج اپنے وقت کو مقصد کے ساتھ استعمال کرتا ہے، وہی کل دوسروں کے لیے مثال بنتا ہے۔

موبائل فون، غیر ضروری اسکرین ٹائم اور غیر متوازن طرزِ زندگی نے نوجوانوں کی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بے وقت کھانا، نیند کی کمی اور ورزش سے دوری یہ سب حال کی کوتاہیاں ہیں جو مستقبل میں بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ نوجوان اگر آج اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھیں، تو مستقبل میں نہ صرف کامیاب بلکہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں اگر آج اپنی صحت کا خیال نہیں رکھیں گےتو کل ان کی کامیابیوں پر بیماریوں کا سایہ پڑا رہے گا۔

حال کا خیال رکھنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ نوجوان قانون کا احترام کریں، اپنے ساتھ دوسروں کے حقوق کا خیال بھی رکھیں۔ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر جلنے کے بجائے اس سے سیکھیں۔کوئی استاد، کوئی نظام اور کوئی حکومت ان کو کامیاب نہیں بنا سکتی جب تک وہ خود بدلنے کے لیے تیار نہ ہو۔ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ اندر سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے آج مطالعہ کی جگہ اسکرولنگ نے لے لی ہے، جس کا نتیجہ سطحی سوچ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

مستقبل کسی جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ حال کی محنت کا عکس ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر محض پالیسیوں، منصوبوں یا دعوؤں سے نہیں ہوتی بلکہ نوجوانوں کے رویّوں، فیصلوں اور طرزِ فکر سے ہوتی ہے۔ ایک طرف ترقی یافتہ دنیا کے خواب ہیں، تو دوسری جانب محنت، صبر سے گریز۔ 

یہی سوچ انہیں حال سے غافل اور مستقبل سے نالاں بنا دیتی ہے۔اپنی ناکامی کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ حکومت اور معاشرے کوذمہ دارٹہراتے ہیں، وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مستقبل کسی معجزے کا نام نہیں بلکہ حال کی محنت کا نتیجہ ہوتاہے۔ قومیں خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ خوابوں کے لیے جاگنے سے بنتی ہیں۔

جو نوجوان آج اپنی ذات، خاندان اور معاشرے کے لیے ذمہ داری محسوس کرتے ہیں، وہی کل ایک مضبوط شہری بن سکیں گے۔یہی احساس ہےجو ان کے فیصلوں میں پختگی لاسکتا ہے۔ اگر حال خوبصورت ہے تو مستقبل کا خوبصورت ہونا یقینی ہے۔ کیونکہ مستقبل حال ہی کے بطن سے جنم لیتاہے۔ ماضی کے راگ الاپنے اور مستقبل کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرنے کے بجائےحال کو پورے ہوش و حواس کے ساتھ جینا چاہیے۔ 

یہی وہ راستہ ہے، جس پر چل کر فکری اور عملی اعتبار سے معیاری زندگی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ تعلیم، تحقیق، تربیت اور کردار سازی یہ سب حال کے کام ہیں، جن کے ثمرات مستقبل میں ملتے ہیں۔ اگر ہمارے نوجوان حال میں محنت کر لیں تو آنے والے وقت میں نہ صرف خود بلکہ اپنے ملک کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ مستقبل کوئی جادو نہیں، نہ ہی قسمت کا اندھا کھیل ہے۔ 

یہ حال کے فیصلوں کا منطقی نتیجہ ہے۔ نوجوان جاگ جائیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیں، محنت، تعلیم اور کردار کو اپنا لیں، تو آنے والا کل خود اُن کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا۔ بصورتِ دیگر، حال کی غفلت مستقبل کے پچھتاوے میں بدل جاتی ہے۔

نوجوان سے مزید