• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غلطیاں انسانی ذات کا حصہ ہیں، دنیا میں کوئی بھی ان سے مبرا نہیں۔ غلطی ہر بشر سے دانستہ اور غیر دانستہ طور پر ہو سکتی ہے، اس لیے انسان کو خطا کا پتلا کہا جاتا ہے۔ بچہ جب چلنا سیکھتا ہے تو بار بار گرتا ہے، مگر وہ گرنے سے ڈر کر چلنا چھوڑ نہیں دیتا۔ غلطی دراصل ہمیں آئینہ دکھاتی ہے۔

وہ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا سوچنے کا انداز کہاں کمزور تھا، ہمارا فیصلہ کس جگہ جلد بازی پر مبنی تھا، اور ہم نے کن باتوں کو نظر انداز کیا۔ جب تک انسان غلطی نہیں کرتا، اسے اپنی کمزوریوں کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ غلطی شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ نوجوانی میں غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں، مگر یہی غلطیاں آگے چل کر شعور، سمجھ اور پختگی کی بنیاد بھی بنتی ہیں۔

مسئلہ غلطی کاہونا نہیں، بلکہ اس کو سمجھنے، ماننے اور اس سے سیکھنے کا ہے۔آج کا نوجوان ایک عجیب دباؤ میں جکڑا ہوا ہے۔ ایک طرف والدین کی توقعات، دوسری طرف معاشرے کے طعنے، سوشل میڈیا کا مقابلہ اور مستقبل کا خوف۔ اس دباؤ میں فیصلے جلد بازی میں ہوتے ہیں اور جلد بازی اکثر غلطیوں کو جنم دیتی ہے۔ کبھی کیریئر کے انتخاب میں، کبھی دوستی میں، کبھی دوسروں پر اندھا اعتماد کرنے میں۔

تعلیمی میدان میں سر زد ہونے والی غلطیاں اُن کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑتی ہیں۔ مثلاَ غلط مضمون کا انتخاب، نمبروں کی دوڑ، دوسروں سے موازنہ، اور بار بار خود کو ناکام سمجھنا یہ سب ایسی غلطیاں ہیں جو نوجوان کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اگر اس مرحلے پر رہنمائی مل جائے تو مستقبل کی سمت درست ہوسکتی ہے۔

اکثر نوجوان سوچتے ہیں کہ ان کے مسائل انوکھے ہیں، کوئی انہیں سمجھ نہیں سکتا۔ یہی سوچ انہیں خاموشی، مایوسی اور بعض اوقات غلط راستوں کی طرف دھکیل دیتی ہے، حالانکہ اگر وہ بات کریں، سوال کریں اور رہنمائی لیں تو بہت سی الجھنیں ختم ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر غلطی خود بخود سبق نہیں بن جاتی۔ سبق تب بنتا ہے جب اس پر غور کیا جائے۔ اگر نوجوان ہر ناکامی کے بعد صرف شکوہ کریں، یا خود کو بدقسمت سمجھیں اور وہی غلطی دوبارہ دہرا تے رہیں تو آگے بڑھنے کے راستے محدود ہوجاتے ہیں، مگر وہ نوجوان جو یہ کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے کہ ’’ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی ‘‘دراصل وہ اپنی شخصیت کو مضبوط بنا رہا ہوتا ہے۔ 

کیونکہ غلطی مان لینا ذہنی پختگی کی علامت ہے، اگر وہ یہ سوچے کہ کہاں چوک ہوئی، کیا بہتر ہو سکتا تھا، اور آئندہ کیا کیا جائے تو یہی سوچ اسے آگے لے جاتی ہے۔ اس مرحلے پر استاد، والدین یا کسی تجربہ کار شخص کی رہنمائی بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ نوجوان سننے کے لیے تیار ہوں۔

عملی زندگی میں قدم رکھتے وقت اکثر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ ڈگری ملتے ہی سب کچھ آسان ہو جائے گا۔ جب حقیقت اس کے برعکس نکلتی ہے تو وہ الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نوکری نہ ملنا، کام کی جگہ پر غلط فیصلے، یہ سب تجربات شروع میں تکلیف دہ ہوتے ہیں، مگر یہی اسے یہ سکھاتے ہیں کہ پیشہ ورانہ دنیا میں صرف قابلیت کافی نہیں، صبر، برداشت اور سیکھنے کا جذبہ بھی ضروری ہے۔ جو اس سے سبق سیکھ لیتا ہے، وہ آگے چل کر کامیاب ثابت ہوتا ہے۔

نوجوان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ان کے اندر خود کو منوانے کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے۔ وہ خود کو بہت باخبر سمجھتے ہیں۔ ان کے پاس ہر سوال کا جواب گوگل پر موجود ہوتا ہے، ہر مسئلے کا حل یوٹیوب پر، ہر رائے سوشل میڈیا پر اور ہر نوجوان چاہتا ہے کہ وہ وہی بن جائے جو اس نے سوشل میڈیا پر کسی اور کو بنتے دیکھا ہے۔ وہ پس منظر، جدوجہد، ناکامیوں اور قربانیوں کو دیکھنے کے بجائے صرف انجام کو دیکھتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ محنت سے بھاگتا ہے اور وقتی چمک دمک کے پیچھے دوڑتا ہے۔ تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے، مہارت پیدا نہیں ہوتی، اور جب عملی زندگی کا سامنا ہوتا ہے تو یہی نوجوان خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ جب انہیں اعتماد نہ ملے، رہنمائی نہ ملے اور غلطی کے بعد دوسرا موقع نہ دیا جائے تو عموماََ نوجوان باغی ہو جاتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے نوجوان بھی ہوتےہیں جو ناکامیوں کے باوجود ہمت نہیں ہارتے اپنا محاسبہ کرتے ہیں، غلطیاں دور کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

مشہور موجد تھامس ایڈسن نے کئی بار بلب کی ایجاد کی کوشش کی لیکن وہ بار بار ناکام ہوتا رہا پھر وہ اس غلطی کی تلاش میں لگ گیا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے کئی تجربات کے بعد آخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا اور دنیا کو رات میں روشنی کی پہچان دی اس نے اپنی تحقیقی کتاب میں اس غلطی کی نشاندہی کی کہ معمولی سی غلطی اور غفلت کی وجہ سے وہ ناکام ہو رہا تھا۔ مشہور انگریز مصنف آسکروئلڈ کے بقول ’’ہر آدمی غلطی کو تجربے کا نام دیتا ہے۔‘‘امریکہ کے سابق صدر روز ویلٹ کہتے ہیں ’’ وہ شخص کبھی غلطی نہیں کرتا جو کام کرنا ہی نہیں چاہتا۔‘‘

غلطی کو دنیا میں کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے اس کو کیا ہم تجربہ کہہ سکتے ہیں؟ امریکی راست فلورڈا کے نوجوان طالب علموں سے لفظ Mistake کے بارے میں پوچھا کہ کیا آپ اس کی وضاحت کریں گے تو انہوں نے کہا کہ،’’ غلطیاں دو طرح کی ہوتی ہیں ایک جان بوجھ کر کہ ہم وہ کام کرنا یا پڑھنا نہیں چاہتے اور اک حقیقی غلطی کہ کوئی کام یا پڑھائی میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تیاری کر کے شروع کرتے ہیں اور قوی امید ہوتی ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے لیکن جب انجام کی طرف پہنچتے ہیں تو غلطی کا احساس ہوتا ہے، اس کو تجربہ کہہ سکتے ہیں پھر اسی غلطی کو درست کرتے ہیں یعنی تجربہ سے فائدہ اٹھا کر مثبت نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اس دوران ہم اپنے اساتذہ ساتھیوں اور کتابوں سے مدد لیتے ہیں، تاکہ ہماری صحیح رہنمائی ہو اور ہم مطلوبہ نتائج حاصل کرسکیں۔‘‘

نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غلطی زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ اصلاح کا آغاز ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ سیکھنے کا حوصلہ پیدا کریں اور خود کو بدلنے کا عزم رکھے، جذبات کے بجائے شعور سے فیصلے کریں اور وقتی فائدے کے بجائے طویل مدتی نتائج پر نظر رکھیں، تو معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ بن سکتے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ غلطیاں استاد کا درجہ رکھتی ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ غلطیوں میں اصلاح کا پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو یہ سکھاتی ہیں کہ,ہر فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے،ناکامی ہمیشہ خاتمہ نہیں بلکہ نیا آغاز ہو سکتی ہے،تجربہ سب سے زیادہ مضبوط استاد ہوتا ہے، خود احتسابی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

نوجوان سے مزید