2026 کتنی قیامتیں ساتھ لے کر آ رہا ہے اور اس کا سہرا ہم سب کے ممدوح قصر سفید ( وائٹ ہاؤس) کے مکین صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سر سجے گا۔ سفید فام امریکیوں نےاکیسویں صدی میں 18ویں صدی کا تعصب رکھنے والے ایک گورے کو اپنا مینڈیٹ دیا ہے اور وہ توقعات کے مطابق چھوٹی قوموں پر ٹیرف لے کر چڑھ دوڑا ہے۔ کبھی امریکہ اپنے جدید علوم، انسانی حقوق کی علمبرداری، جمہوری آزادیوں کی اشاعت کیلئے پہچانا جاتا تھا اب یہ چھوٹی قوموں بالخصوص فلسطین مشرق وسطی صومالیہ پر امریکی برتری، مسلم بادشاہوں کی حفاظت رفاقت اور رجیم چینج کی شہرت رکھتا ہے۔ 2012 میں امریکی اداکار کلنٹ ایسٹ وڈ نے کھیل کے ایک میدان میں ایک تقریر کی تھی جو اب تک امریکی درد مندوں کے دلوں میں گونجتی ہے ۔ اس نے کہا تھا’’ دونوں ٹیمیں اپنے اپنے روم میں ہیں دونوں سوچ رہی ہیں کہ دوسرے ہاف میں جیتنے کیلئے کیا کیا جائے۔ امریکہ میں بھی ہاف ٹائم ہے لوگ بے روزگار ہیں پریشان ہیں ۔ حیران ہیں کہ امریکہ اپنی معیشت کی بحالی کیسے کرے گا۔ ہم سب خوفزدہ ہیں کیونکہ یہ کھیل نہیں ہے، میں نے بہت سے کٹھن وقت دیکھے ہیں بہت سے زوال۔ جب ہم ایک دوسرے کو بھی نہیں سمجھ سکے ۔تقسیم در تقسیم کی دھند غالب تھی۔ ایک دوسرے پر الزام، دشنام طرازی کی جا رہی تھی سمجھ نہیں آتا تھا کہ آگے کیا ہے۔ لیکن ہم ایک دوسرے کے قریب آئے ۔ ایک ہو کر مقابلہ کیا امریکی ہر مصیبت میں یہی کرتے ہیں۔ مشکل اوقات میں ہم راستہ تلاش کر لیتے ہیں نہ ملے تو نیا راستہ تراش لیتے ہیں۔ اب بھی یہ ہو رہا ہے۔ یہ عظیم مملکت کسی ایک جھٹکے سے شکست نہیں کھا سکتی۔ ہم پھر پٹڑی پر آ جاتے ہیں اور جب ہم صحیح راستے پر آتے ہیں تو دنیا ہمارے انجنوں کی گڑگڑاہٹ سنتی ہے، ہاں اب امریکہ میں ہاف ٹائم ہے ہمارا دوسرا ہاف شروع ہونے والا ہے ہمیں جیتنا ہے ۔ "امریکہ میں یقینا ہاف ٹائم ہے۔ٹرمپ اسے بچوں کا کھیل سمجھ رہے ہیں۔ امریکی جمہوری اقدار، تقسیم اختیارات، تدبر، عالمی رہبری، آزادی کی روح سب کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی کوئی اداکار کوئی کھلاڑی جرات کرے۔ کھیل کے میدان سے قوم کو خطاب کرے اور بتائے کہ پاکستان میں بھی ہاف ٹائم ہے۔ دوسرا ہاف ہمیں جیتنا ہے۔ 2047 پاکستان کی صدی ہماری منتظر ہے۔ اس مشکل وقت میں کوئی بھی عقل کل نہیں ہے۔ پاکستان نے بھی بہت کٹھن وقت دیکھے ہیں۔ اس وقت بھی راستے گرد میں گم ہو چکے ہیں۔ عالمی بحران بھی بڑھ رہا ہے علاقائی انتشار بھی۔ ہمارے پڑوس میں بھارت کے متعصب حکمران بھی اپنی سیکولر جمہوری اقدار کو ہندتوا سے روند رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھارت کے قدم اکھڑ چکے ہیں۔ سری لنکا بھی رام راج سے آزاد ہو چکا ہے نیپال انگڑائیاں لے رہا ہے۔ بھارت افغانستان کی سرپرستی کر کے پاکستان میں انتشار پیدا کرنے کے در پے ہے۔ ایران میں امریکہ، اسرائیل اور انڈیا منتخب مذہبی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ چین اپنے طور پر امریکی اقتصادی جارحیت کا مقابلہ کر رہا ہے۔ روس میں افغانستان کے سفیر نے دستار شلوار قمیض کندھے پر چادر ڈالے اپنی اسناد روسی صدر پیوٹن کو پیش کی ہیں۔ امریکہ کو اپنی جارحانہ یکطرفہ اجارہ داری اور ٹیرف کا قہر ڈھانے کیلئے کھلا میدان نہیں مل رہا ہے ۔ امریکی ریاست منی پولیس کے میئر کہہ رہے ہیں کہ’’ امریکی صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ہم احتجاجی مظاہرین پر طاقت کا استعمال کریں لیکن ہم ڈونالڈ ٹرمپ کے ہیجان کا تدارک اپنے ہیجان سے نہیں کریں گے ہم منی پولیس میں وہی کریں گے جو درست ہے۔ ‘‘نیویارک کے میئر کے بعد امریکہ میں یہ دوسرے میئر ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے ہیجان کوہیجان کہا ہے یہ وہی ریاست ہے۔ جہاں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کی فورس آئس Immigration and customs enforcement نے ایک 37 سالہ خاتون کو گزشتہ ہفتے گولی مار دی تھی۔ اس کے بعد وہاں مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن ۔میرا پیغام تو یہی ہوتا ہے کہ اپنے گھر کو اپنے خاندان کو مستحکم کیجئے۔ اپنے محلے میں قربتیں پیدا کریں جو مسائل آپ خود حل کر سکتے ہیں انہیں حل کر لیں۔ اسلام آباد یا پنڈی کی طرف نہیں اپنے گھر اور اپنے محلے کی طرف دیکھیں اپنی کئی دہائیوں کے مشاہدے ہزاروں کتابوں کے مطالعے کی روشنی میں میرا دل اور ذہن بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت جن سیاسی، سماجی اور سامراجی خطرات کا سامنا ہے۔ 10 ہزار میل دور بیٹھا امریکہ ایران اور افغانستان میں جو انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ اس میں پاکستان کی سیاسی فوجی قیادتوں قومی سیاسی پارٹیوں میڈیا اور درسگاہوں کو بہت زیادہ احتیاط اور تدبر کی ضرورت ہے۔ انڈیا کو پاکستان امریکہ کی قربتیں ہضم نہیں ہو رہیں ۔ سوشل میڈیا پر انڈیا امریکہ اسرائیل بہت سرگرم ہیں۔ پاکستان انڈونیشیا ملائشیا بحرین سعودی عرب متحدہ عرب امارات آذربائجان اور مصر سے اقتصادی سیاسی سماجی نزدیکیاں بڑھا رہا ہے۔ ہمارے تھنڈر طیاروں کی دھوم مچی ہے۔کوئی بھی ریاست ہو یا حکومت اگر عوام کا اعتماد حاصل نہ ہو تو حکومتی پالیسیاں دیرپا نہیں ہوتی ہیں ۔سب سے بڑا مسئلہ غربت کی لکیر سے نیچے بڑھتا ہجوم ہے ۔ نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں۔
پاکستان میں بھی ہاف ٹائم ہے اگلا ہاف جیتنے کیلئے آپس میں مشورے کی سخت ضرورت ہے ۔پارلیمنٹ جیسی بھی ہے وہاں ایک پورا ہفتہ عالمی اور علاقائی صورتحال کیلئے وقف کیا جائے۔ ہر علاقے کے ارکان کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا جائے ۔تاریخ کا یہ فیصلہ ہے کہ کوئی بھی عقل کل نہیں ہے ۔ ہماری اکثریت اپنے عظیم ملک پاکستان سے محبت کرتی ہے۔ مگر ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔ فارم 45 والے ہوں یا 47 والے ایم این اے، ایم پی اے انہیں اپنے ووٹرز کے پاس جانا چاہیے۔ انکے ذہنوں میں جھانکیں۔ پھر پارلیمنٹ میں آکر عوامی رائے پر مبنی اظہار خیال کریں۔ اپوزیشن ارکان کو زیادہ وقت دیا جائے کیونکہ وہ عوام کے زیادہ نزدیک ہیں۔ ہمارے طلبہ و طالبات اساتذہ باخبر ہیں۔ یونیورسٹیوں میں سیمینار منعقد کیے جائیں۔اس وقت فارن آفس کو بھی اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان میں متعین امریکی یورپی سفیروں سے تبادلہ خیال کیا جائے۔ مسلم ملکوں کے سفیروں کو اعتماد میں لیں۔ فارن آفس امریکہ یورپ عالم اسلام سے متعلقہ پالیسیاں مرتب کرے انڈیا پالیسی، چین پالیسی طے کی جائے۔ پھر ان کی روشنی میں پارلیمنٹ میں کھلی بحث کی جائے۔
پاکستان میں بھی یہ ہاف ٹائم ہے اگلا ہاف ہمیں جیتنا ہے ۔ حکمران ذہانت نہیں اجتماعی عوامی ذہانت ہی صراط مستقیم کا انتخاب کر سکتی ہے۔