• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین پاکستان کی دفاعی صنعت خاموشی سے مگر مضبوط قدموں کے ساتھ عالمی منظرنامے پر اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کو عبرت ناک شکست کے بعد دنیا بھر میں پاکستانی جنگی جہازوں کی مانگ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک ہفتے میں 4 ممالک بنگلہ دیش، سعودی عرب، سوڈان اور عراق کی جانب سے جے ایف تھنڈر اور مشاق طیاروں سمیت ہتھیاروں کے بڑے معاہدوں نے تاریخ رقم کر دی۔ جبکہ 23 دسمبر کو لبیا اور اس سے قبل آذر بائیجان بھی بڑی تعداد میں پاکستان سے طیاروں کا معاہدہ کر چکے ہیں۔ اب تک دنیا کے کم از کم 11 ممالک پاکستان سے جے ایف تھنڈر، مشاق اور دیگر دفاعی سامان خریدنے کے سودے کر چکے ہیں، جن میں طیاروں کے ساتھ ساتھ الخالد میں بیٹل ٹینک اورفتح سیریز گائیڈ ڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم بھی شامل ہے، جبکہ ترکی کی جانب سے دفاعی معاہدہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے طیارے جنگ میں آزمائے جاچکے ہیں اور اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو 6 ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ رہیگی ۔ یہ پیش رفت کسی ایک واقعے یا وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی محنت، منصوبہ بندی اور قومی عزم کے سفر کی داستاں ہے۔ آج جب دنیا کے مختلف خطوں سے پاکستانی دفاعی مصنوعات میں دلچسپی بڑھ رہی ہے تو یہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ ملک نے معیار، بھروسے اور کارکردگی کے میدان میں خود کو منوالیا ہے۔ اس سفر میں جے ایف 17 تھنڈر ایک مرکزی ستون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس نے پاکستان کو ہوا بازی کے جدید دور میں ایک معتبر نام بنایا ہے۔عالمی خریدار اسی بنیاد پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ نظام صرف نمائش کیلئے نہیں بلکہ عملی حالات میں قابل بھروسہ ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ بڑی طاقتوں کے برعکس پاکستان کے ساتھ سودے سخت سیاسی شرائط اور طویل فہرستوں کے بغیر طے پاتے ہیں۔ قیمت بھی نسبتاََ مناسب رہتی ہے جس سے ترقی پذیر ممالک کو بہتر متبادل ملتا ہے۔ تھنڈر اور مشاق کی مقبولیت صرف ایک حالیہ جھڑپ یا ایک معرکے کی بازگشت نہیں۔ یہ اس قوم کی اجتماعی محنت کا ثمر ہے جس نے محدود وسائل میں بھی بڑے خواب دیکھے۔ انجینئرز،ٹیکنیشنز،پائلٹس اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے ہنر مندوں نے دن رات ایک کر کے ایسے پلیٹ فارم تیار کیے جوعالمی معیار پر پورا اترتے ہیں۔ افواج کی پیشہ ورانہ تربیت اور تجربے نے ان مصنوعات کو نکھارا۔ قیادت کی سمت درست رہی اور اداروں نے باہمی ہم آہنگی سے کام کیا۔ یہی اتحاد اور یکسوئی اس کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔ اس پیش رفت کے معاشی اثرات بھی واضح ہیں۔ دفاعی برآمدات سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب مقامی صنعت مضبوط ہوتی ہے تو ملک بیرونی دباؤ سے بھی بہتر طور پر نمٹ سکتا ہے۔ خود انحصاری کا راستہ کھلتا ہے اور قومی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستانی دفاعی صنعت صرف ایک شعبے تک محدود نہیں۔ زمینی، فضائی اور میزائل

ٹیکنا لوجی میں متوازن ترقی کی ہے۔ اگر یہ اصول ملحوظ رہے تو پاکستان نہ صرف اپنی موجود ہ پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے بلکہ نئی منڈیوں میں بھی جگہ بنا سکتا ہے۔ یہ صرف دفاعی کامیابی نہیں بلکہ قومی وقار، معاشی استحکام اور مستقبل کی سمت کا اعلان اور وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مضبوط، خود اعتماد اور باوقار بناتا ہے۔ لازم ہے کہ اس موقع پر ملک کے اندر امن و استحکام کو بھی یقینی بنا یا جائے، سیاسی عدم استحکام کو ختم کیا جائے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے کسی عالمی قانون کی ضرورت نہیں، میںعالمی قوانین پر عمل کرنے کا پابند بھی نہیں، مجھے کوئی روک سکتا ہے تو وہ میں خود ہوں، عالمی قانون میرے فیصلوں کو نہیں روک سکتا۔ میری طاقت اپنی اخلاقیات تک محدود ہے، کہیں بھی کارروائی کا پورا اختیار ہے، عالمی معاہدوں کا پابند نہیں ہوں۔میں دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی حملے کا حکم دینے کا اختیار رکھتا ہوں۔امریکی قیادت کی طرف سے بین الاقوامی ضابطوں کو قبول نہ کرنے کا اعلان اور کسی بھی ریاست پر حملہ کرنے کی کھلی دھمکی ’’ جسکی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے مترادف ہے۔ یہ قدم پوری دنیا کی بربادی کا کھلا اشارہ ہے، اس سےہر ملک کو یہ آزادی مل جاتی ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ پر جب چاہے حملہ آور ہو جائے۔ یہ عالمی افراتفری اور خونریزی کا دروازہ کھولنے کے برابر ہے، جو بنی نوع انسان کی تباہی کی طرف جاتا ہے۔ یہ اعلان کھلم کھلا ایک دجالی نظام کے قیام کا اعلان ہے۔ جو موت اور بربادی بانٹتا پھرے۔ ہمارے خیال میں امریکی سربراہ کا یہ موقف اقوام متحدہ کی موت کا حکم نامہ اور دوسری عالمی جنگ سے پہلے کی افراتفری کی کوشش ہے۔ تاہم اس سے نہ صرف عالمی برادری بلکہ خود امریکی عوام کے مفادات بھی شدید خطرے میں پڑ جائیں گے۔چنانچہ پوری دنیا اس اعلان کو انتہائی سنجیدگی سے لے اور اسکے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کرے۔ خاص طور پر چین اور روس جیسے بڑے ممالک عالمی امن کی حفاظت کیلئے قدم اٹھائیں اور اس قوت سے دنیا کو بچائیں۔ یہ اتحاد نہ صرف ضروری ہے بلکہ ناگزیر بھی، ورنہ افراتفری پھیل جائے گی۔ اس پس منظر میں ترکی کا پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کا فیصلہ وقت کی نبض کو سمجھنے کا ثبوت ہے۔ یہ قدم درست سمت میں ہے اور اب عالم اسلام کو چاہیے کہ وہ اس اتحاد میں جلد سے جلد شمولیت اختیار کرے۔ وسائل کو اکٹھا کر کے ان فتنوں کا مقابلہ کیا جائے، کیونکہ تنہا کوئی بھی ملک اس طاقتو ر قوت کا سامنا نہیں کر سکتا۔ ایک ایک کر کے سب کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، لہٰذا اتحاد ہی بقا کی ضمانت ہے۔ اسی طرح باقی دنیا کو بھی اپنے تنازعات بھلا کر اس فتنہ انگیز طاقت کے سامنے دیوار کھڑی کرنی ہوگی۔ لازم ہے کہ عالم اسلام اور عالمی برادری سر جوڑ کر بیٹھے اور ٹرمپ اور بھارت کے دجالی عزائم سے دنیا کو بچانے کی حکمت عملی تیار کی جائے، اس معاملہ میں تاخیرعالمی تباہی اور قتل و غارت کو راستہ فراہم کرنے کے مترادف ہوگی۔

تازہ ترین