• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاپنگ پلازہ آگ سے نہ بچایا جاسکا، 6 جاں بحق 60 لاپتہ، اگر فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی تو تحقیقات ہوگی، کوئی نظام موجود نہیں تھا، چیف فائر آفیسر

کراچی (اسٹا ف رپورٹر/مانیٹرنگ ڈیسک ) کراچی میں ایم اے جناح روڈپر واقع اہم تجارتی مرکز گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں ہفتے کی شب لگنے والی آگ پرقابونہ پایاجاسکا‘ریسکیوآپریشن میں تاخیر کے باعث اندرموجودکئی افراد اورسامان اور اربوں روپے کے سامان کو نہ بچایاجاسکا‘ 1200 دکانیں جل کر خاکستر‘ایک فائرفائٹرسمیت 6افراد جاں بحق ‘30زخمی ‘ خواتین اوربچوں سمیت 60 لاپتہ ‘عمارت کے دو حصے زمین بوس ‘اندرپھنسے لوگوں سے رابطہ منقطع ‘ریسکیو عملہ شاپنگ سینٹر میں داخل نہ ہوسکا‘ رات بھر سیکڑوں تاجر اپناسامان جلتا دیکھتے رہے ‘ اربوں روپے کا نقصان ‘تاجر رہنماؤں کے مطابق گل پلازہ کا المناک سانحہ حکومتی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے‘آگ پر قابوپانے کی جامع کوششوں کی بجائے صرف باہر سے پانی پھینکا گیا ۔سی اواوواٹر کارپوریشن کا کہناہے کہ کراچی میں ٹریفک جام کے باعث واٹر ٹینکر پھنسے رہے ‘چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایاکہ ابتدائی آگ پر قابو پانے کے لئے کوئی نظام موجود نہیں تھا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنرکراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اورکہاکہ اگر فائربریگیڈتاخیر سے پہنچی ہے تو اس کی تحقیقات کی جائے گی‘کچھ لوگ واقعہ پر سیاست کر رہے ہیں‘ وزیراعظم نے رابطہ نہیں کیا‘ تاجروں کے نقصان کامداوا کریں گے‘صدر‘ وزیراعظم ‘چیئرمین سینیٹ ‘وفاقی وزیر داخلہ ‘بلاول بھٹو سمیت دیگر رہنماؤں نے واقعے پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ریسکیو 1122کے ترجمان حسان الحسیب نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ آگ انتہائی شدید ہے اور اسے بجھانے کا عمل پورا ہونے میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں ۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں اور ان میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان جیسے کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود ہیں۔ریسکیو 1122 کے ساتھ ساتھ کے ایم سی اور پاکستان نیوی کے فائر فائٹرز بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں ۔ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے تصدیق کی کہ آتشزدگی کے باعث گُل پلازہ کے دو حصے زمین بوس ہو چکے ہیں۔ان کا کہناتھاکہ اندر کیمیکلز اور پلاسٹک بھی موجود ہے جس کے باعث آگ بار بار بھڑک اُٹھتی ہے‘ایک دکاندار نے ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے بتایاکہ یہ چھ گھنٹے تک انتظار ہی کرتے رہے‘ شروع میں آگ صرف دو داخلی دروازوں تک محدود تھی‘یہ شروع میں اندر داخل ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے دیرکی‘ایک اوردکاندارکا کہناتھاکہ گل پلازہ کے32 داخلی دروازے ہیں‘ ریسکیو اہلکار کسی بھی راستے سے اندر جا کر آگ بجھانے کی کوشش کر سکتے تھے لیکن ان کے پاس مطلوبہ سامان ہی نہیں تھا۔کمشنر کراچی حسن نقوی اور ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید کھوسو نے وزیراعلی سندھ کو بریفنگ میں بتایاکہ رات 9:45 سے 10:15کے درمیان آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔واقعے میں 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہوئیں ‘60سے 70فیصد آگ پر قابو پالیا گیاہے جبکہ ریسکیو اور کولنگ آپریشن کا عمل ابھی جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گرگئے جس میں 6افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، کمشنرکراچی کا کہنا ہے کہ آگ پر نوے فیصد تک قابو پا لیا ہے، کچھ دیر بعد کولنگ کا عمل شروع کردیں گے۔صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا ہے کہ گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ ہوا،آگ پر کافی حد تک قابو پالیا ہے،لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں۔ترجمان واٹر بورڈ نے بیان میں بتایا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کی اور سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی۔آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی اور واٹر کارپوریشن فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون رہا۔واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ رینجرز کے چاق و چوبند دستے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری گل پلازا پہنچے اور متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اتوار کی شام جائے وقوعہ کا دورہ کیا‘اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہناتھاکہ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ‘انتہائی آتش گیر مواد کی موجودگی کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی ‘پہلا فائر ٹینڈر رات 10:27 پر جائے وقوعہ پر پہنچا اور بنا کسی تاخیر کے کارروائی شروع کردی ‘مجموعی طورپر 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکلز اور10واٹرباؤزر نے آپریشن میں حصہ لیاتاہم 58سے 60افراد اب بھی لاپتہ ہیں‘ہم امید کرتے ہیں کہ وہ زندہ مل جائیں .

اہم خبریں سے مزید