کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی بھر کی کمرشل عمارتوں کے فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو آگ لگنے کی وجوہات کی فوری انکوائری کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے کمشنر کراچی حسن نقوی اور ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید کھوسو نے وزیراعلیٰ سندھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رات9:45سے 10:15کے درمیان آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ واقعے میں 1200سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہوئیں فائر فائٹنگ آپریشنز نے 60 سے 70 فیصد آگ پر قابو پالیا ہے جبکہ ریسکیو اور کولنگ آپریشن کا عمل ابھی جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ آگ لگنے سے 6 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے سول اسپتال کے برنس وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر ایمرجنسی ریسپانس کا آغاز کیا گیا جس میں 22 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 10 واٹر باؤزر، چار اسنارکل گاڑیاں اور 33 ریسکیو 1122 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ کاروباری حضرات کو ہونے والے بھاری مالی نقصان پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے فائر فائٹنگ آپریشن کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فائر فائٹرز نے شہریوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔ انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔