کراچی (رفیق مانگٹ)نوبل امن انعام کے بارے میں نارویجن نوبل کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ نوبل انعام اور اس کے وصول کنندہ کو کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔انعام کسی اور کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا، تاریخ میں ایک ہی وصول کنندہ درج ہوتا ہے،نوبل فاؤنڈیشن کے قوانین میں تمغہ، ڈپلومہ یا رقم کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں، تمغہ، ڈپلومہ اور انعامی رقم اگرچہ انعام کی مادی علامتیں ہیں، مگر اصل اعزاز اور تاریخی شناخت ہمیشہ اسی فرد یا ادارے کے ساتھ منسلک رہتی ہے جسے کمیٹی نے نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا ہو۔ چاہے تمغہ یا ڈپلومہ کسی اور کے پاس چلا جائے یا انعامی رقم استعمال ہو جائے، تاریخ میں اصل وصول کنندہ وہی رہے گا جس کے نام پر انعام دیا گیا۔نوبل امن انعام پانے والے فرد یا ادارے کو بنیادی طور پر دو علامتی اشیا دی جاتی ہیں: ایک سونے کا تمغہ اور ایک ڈپلومہ، جبکہ انعامی رقم الگ سے دی جاتی ہے۔ کمیٹی کے مطابق، اگر مستقبل میں ان اشیا کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے، تو اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ نوبل امن انعام کس کو دیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ اگر یہ اشیا کسی اور کے قبضے میں آ جائیں تب بھی اصل انعام یافتہ کی حیثیت برقرار رہتی ہے۔نوبل امن انعام نہ تو کسی اور کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اعلان کے بعد کسی کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ انعام کبھی واپس نہیں لیا جا سکتا۔ یاد رہے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو نے جو 2025 کا نوبل امن انعام جیتیں، انہوں نے اپنا تمغہ وائٹ ہاؤس کی ملاقات میں صدر ٹرمپ کو دے دیا۔تاہم نوبل امن انعام بطور رسمی اعزاز ٹرمپ کا نہیں ہوا۔نارویجن نوبل کمیٹی کے مطابق، ایک بار کیا گیا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور ہمیشہ کے لیے نافذ رہتا ہے۔کمیٹی یہ بھی واضح کرتی ہے کہ وہ نوبل امن انعام یافتگان کی روزمرہ سرگرمیوں، سیاسی کردار یا جاری معاملات پر تبصرہ کرنا اپنا کام نہیں سمجھتی۔ انعام صرف اس بنیاد پر دیا جاتا ہے کہ فیصلہ کیے جانے کے وقت تک متعلقہ فرد یا ادارے کی خدمات اور کردار کیا رہے ہیں۔انعام ملنے کے بعد انعام یافتہ کے بیانات، فیصلے یا اقدامات پر کمیٹی کوئی رائے نہیں دیتی۔ بعد ازاں کیے جانے والے تمام فیصلے اور اقدامات مکمل طور پر انعام یافتہ کی اپنی ذمہ داری ہوتے ہیں اور انہیں اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔