• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زیادہ تر شاپنگ سینٹرز میں فائر سیفٹی اسٹینڈرڈز پر عملدرآمد نہیں ہوتا

کراچی (طاہر عزیز۔۔اسٹاف رپورٹر) کراچی میں اب بھی سینکڑوں شاپنگ سینٹرز، مارکیٹس اور بڑے بازار موجود ہیں جن میں فائر سیفٹی اسٹینڈرڈز پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ ان خامیوں کی نشاندہی 2023اور 2025کے فائر آڈٹس رپورٹس میں پہلے ہی کی جا چکی تھی، مگر شہری انتظامیہ، فائر بریگیڈ حکام اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی غفلت کے باعث ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا ۔ گل پلازہ جس میں ہفتے کی شب آگ لگی تھی اتوار کو سارا دن شعلوں کی لپیٹ میں رہا 1200سے زائد دکانوں پر مشتمل پوری مارکیٹ جل کر ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ فائر بریگیڈ کے مطابق بازار میں نہ فائر الارم تھا، نہ اسموک ڈیٹیکٹر اور نہ ہی ایمرجنسی راستے موجود تھے۔ شہر میں اس وقت متعدد کاروباری مراکز میں کمرشل عمارتیں موجود ہیں جن میں آگ لگنے کی صورت میں فوری اس پر قابو پانے اور لوگوں کے باہر نکلنے کیلئے راستے موجود نہیں ہیں جن عمارتوں میں یہ آپشن رکھے بھی جاتے ہیں انہیں بعد ازاں بلڈنگ مالکان اور دکاندار اپنی سہولت یا استعمال میں لانے کیلئے بند کر دیتے ہیں۔ طارق روڈ، شہید ملت روڈ، صدر، کلفٹن علامہ اقبال روڈ، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، ایم اے جناح روڈ، ٹاور کے اطراف کمرشل عمارتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں عمارت کے نقشے میں پارکنگ کی منظوری بھی لی جاتی ہے لیکن بیشتر عمارتوں میں انکی جگہ بھی دفاتر، دکانیں، گودام یا انہیں دیگر مقاصد کیلئے استعمال میں لے لیا جاتا ہے بیس منٹ تک جانے والی لفٹ اور سڑھیوں کی تعداد کم یا وہ آپریشنل نہیں رہتیں۔ فوری آگ بھجانے کے آلات نہیں ہوتے۔

اہم خبریں سے مزید