اسلام آباد (ساجد چوہدری )وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ5 سالوں میں کے الیکٹرک نے 600ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی لی ہے، نیپرا کے ناکافی اعداد و شمار کی وجہ سے رپورٹ میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ، سرکلر ڈیٹ 2.4ٹریلین روپے سے کم ہو کر 1.6 ٹریلین روپے پر آ گیا، بجلی کمپنیوں کے نقصانات صارفین کومنتقل نہیں ہوتے،جو نقصانات ہوتے ہیں وہ حکومت خود برداشت کرتی ہے ،نقصانات کا بوجھ 566 سے کم کرکے 393ارب روپے تک لائے ہیں، ریکوریز کی شرح 96.6 فیصد تک پہنچائی ، غلط بلنگ کو ساٹھ ،ستر فیصد کنٹرول میں لائے ہیں ، ایک سال میں 40ارب کی اووربلنگ کی رقم عوام کو واپس دی ہے،نیپرا کاکے الیکٹرک کو سرکلر ڈیٹ کے بڑھنے میں ذمہ داری سے کلین چیٹ دینا سراسر غلط ہے، اتوار کو نیپرا کی رپورٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ نیپرا نے حالیہ دنوں میں پاور سیکٹر سے متعلق رپورٹ جاری کی، رپورٹ کو اگست 2025 میں جاری ہونا چاہیے تھا، رپورٹ سیکٹر کے حالیہ منظر نامے کو درست انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی ، چھ سات ماہ تاخیر سے اعدادوشمار دینا انڈسٹری کی صورتحال کی صحیح عکاسی نہیں کرتا ، نیپرا کوبجلی صارفین کو 40 ارب روپے اور بلنگ کی مد میں واپسی پر ہمیں سر اہنا چاہیے تھا، ٹیک آر پے کے کنٹریکٹس پر نظرثانی نہ کرنے کی بات غلط ہے،کنٹریکٹس پر نظرثانی کی گئی ہے اور قوم کے ہزاروں ارب روپے بچائے گئے ہیں، اویس لغاری نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیراعظم کو آئی جی سیپ کی تجویز دی ہے ، غیر ضروری بجلی کا17 ارب ڈالر بوجھ صفحہ ہستی سےہٹایا ہے ، بجلی کی ترسیل کے مسائل ضرور ہیں، بجلی کی ترسیلی کمپنی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ، بجلی کمپنیوں کے نقصانات صارفین کومنتقل نہیں ہوتے، جو نقصانات ہوتے ہیں وہ حکومت خود برداشت کرتی ہے ، غلط بلنگ کو ساٹھ ستر فیصد کنٹرول میں لائے ہیں ، میٹر ریڈرز کا اختیار ایک عام آدمی کو دیا ہے ، انہوں نے کہا بدمعاشی سے بجلی چوری روکنے میں صوباٰئی حکومتوں کی ضرورت ہے ، ریکوریز کا اثر سرکلر ڈیٹ میں نہیں آتا ، ریکوریز کی شرح ایک سال میں 96.6 فیصد تک پہنچائی ہے، ریکوریز کی مدمیں 183 ارب روپے کی بہتری لائے ہیں ، وفاقی وزیر نے کہا چھ ماہ میں ریکوریز میں 46 ارب روپے کی بہتری لائے ہیں، آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں بجلی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔