کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹری فقیر خوشحال کاسی صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز سلیمان خان بازی ،محمود ریاض پانیزی پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن محمد صدیق مشوانی اور پنجپای کے علاقائی سیکریٹری اور علاقہ اجرم غزہ بندہ کے علاقای سیکریٹری ملک عمر کاکڑ نے واضح کیا ہے کہ کوئٹہ کے اٹوٹ، تاریخی اور ناقابلِ تقسیم حصے پنجپائی کو کوئٹہ سے اور اسی طرح باشی غزہ بندجو ضلع پشین کی یونین کونسل اجرم 1 اور یونین کونسل اجرم 2 پر مشتمل علاقہ ہےکو ضلع پشین سے کاٹ کر کانک اور گرگاب کے ساتھ ملا کر ایک نیا غیر فطری ضلع بنانے کی تجویز یکسر ناقابلِ قبول ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجپائی اور غزہ بند کا کوئٹہ اور پشین سے تعلق محض انتظامی نہیں بلکہ تاریخی، سماجی، ثقافتی اور جغرافیائی بنیادوں پر استوار ہے، جسے کسی بھی صورت توڑا نہیں جا سکتا۔ ان علاقوں کو زبردستی ایک ایسے مجوزہ ضلع میں شامل کرنا جو نہ عوامی مشاورت پر مبنی ہو اور نہ ہی انتظامی معیارات پر پورا اترتا ہو، دراصل پشتون علاقوں کو تقسیم در تقسیم کا شکار بنانے کی دانستہ کوشش ہے۔ پریس ریلیز میں حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اضلاع کے قیام جیسے حساس معاملے کو عوامی سہولت کے بجائے سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اگر واقعی مقصد انتظامی بہتری ہے تو پہلے سے موجود اضلاع میں بنیادی سہولیات، امن و امان، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کیوں فراہم نہیں کیے جا رہے؟ پارٹی کے مطابق بغیر کسی جامع پالیسی، عوامی رائے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھے نئے اضلاع بنانا صوبے میں مزید انتظامی انتشار اور سیاسی عدم استحکام کو جنم دے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجپائی کو کوئٹہ سے اور غزہ بند کو پشین سے علیحدہ کرنا نہ صرف مقامی آبادی کی مرضی کے خلاف ہے بلکہ یہ آئینی اصولوں، جمہوری اقدار اور مقامی خودمختاری کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔